جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک اُلجھنیں

جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک اُلجھنیں

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بہت آسانی اور روانی کے ساتھ کہہ دیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتری کی طرف جارہے تھے اور ان تعلقات کا سب سے بلند مقام وہ تھا جب نریندر مودی میاں نوازشریف کو سالگرہ کی مبارکباد دینے نفس نفیس لاہور چلے آئے مگر پاکستان کی طرف سے برہان وانی کو شہد قرار دینے کے بعد حالات تیزی سے تبدیل ہو تے چلے گئے اوردونوں ملکوں میں کشیدگی بڑھ گئی ۔اب ہمارا موقف ہے کہ دہشت گردی اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔د ہلی میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط محکمانہ اختلافات کے باعث ملازمت سے مستعفی ہو کر وطن واپس لوٹ آئے ہیں ۔لاہور پہنچنے پر عبدالباسط نے اخبار نویسوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ اختلافات کی وجہ کشمیر ہے۔مسئلہ کشمیر کے حل تک دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار بھارت ہے۔عبدالباسط وہ شخص ہیں جو پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے انتہائی مشکل اور پیچیدہ دنوں میں دہلی میں کئی برس تک تعینات رہے ۔انہیں بھارت کے رویے ،حالات وواقعات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔کشیدگی سے بھرپور اس دورمیں عبدالباسط سمیت پاکستانی سفارت کار شدید خطرت کا شکار بھی رہے انہیں مختلف دھمکیاں دی جاتی رہیں ۔حریت کانفرنس کی قیادت کے ساتھ ان کی ملاقاتوں پر بھارت میں طوفان اُٹھایا جاتا رہا ۔عبدالباسط دہلی میں سر اُٹھا کر چلنے والوں میں شامل رہے ۔انہوں نے اپنے ملک اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کا مقدمہ لڑنے میں کسی جھجک ،احساس کمتری اور ضعف کا مظاہرہ نہیں کیا ۔انہیں دیکھ کر نوے کے کشیدہ حالات میں دہلی میں تعینات ایک پاکستانی ہائی کمشنر ریاض کھوکھر کی یاد تازہ ہوتی رہی جنہیں بھارت کے کثیر الاشاعت میگزین انڈیا ٹوڈے نے ''ون مین آرمی '' لکھا تھا ۔عبدالباسط نے بھی دہلی کی صفدر جنگ روڈ پر نیلے گنبدوں کی عمارت یعنی پاکستانی ہائی کمیشن میں خطرات اور خدشات کے باوجود اعتماد کے ساتھ بات کی ۔اب اپنی ملازمت کے خاتمے کے بعد انہوں نے دوباتیں کی ہیں جو ان کے تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ ہیں ۔اول یہ کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ''اُم الفساد'' یعنی تنازعات کی ماں اور جڑ مسئلہ کشمیر ہے اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا دونوں ملکوں میں تعلقات میں حقیقی اور پائیدار بہتری پیدا نہیں ہو سکتی۔دوئم یہ کہ اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کا خونیں کھیل جاری ہے اس کا مرکزی کردار بھارت ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ڈیپ فریزر میں ڈال کر پاکستان اور بھارت میں تعلقات بہتر بنانے کی سوچ حد درجہ احمقانہ رہی ہے ۔مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان اور بھارت میں امن کی آشائیں ذہنی عیاشی کے سوا کچھ نہیں ۔ اسی دوران پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کے زیراہتمام پیپلزلبریشن آرمی کی نوے ویں سالگرہ کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے کیک کاٹنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور پاکستان خطے کے دو اہم دفاعی کھلاڑی ہیں۔انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر چین کی حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین نے افغانستان کے معاملے پرپاکستان کی بھرپور حمایت کی ہے۔پیپلزلبریشن آرمی کی سالگرہ کی یہ تقریب اور اس میں آرمی چیف کا انداز بیاں خاصی اہمیت کا حامل ہے ۔یہ وہ وقت ہے جب بھارت اور چین کے درمیان ڈوکلام سکم کا تنازعہ سنگین صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے ۔چین باربار بھارت کو اس علاقے سے انخلاء کرنے کی وارننگ دے رہا ہے مگر بھارت ٹال مٹول سے کام لے کر حالات کی سنگینی سے نظریں چُرا رہا ہے۔بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال کے دورہ بیجنگ اور وہاں اپنے ہم منصب ینگ جیچی سے ملاقات کی مگر یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے اور اجیت دووال کو بے نیل ومرام ہی لوٹنا پڑا۔اس کے بعد ہی دہلی میں چینی سفارت خانے نے پندرہ صفحات پر مشتمل بیان جا ری کیا جس میں بھارت کو ڈوکلام سے غیر مشروط فوجی انخلاء کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ اس سے صاف انداز ہ ہورہا ہے کہ بھارت کی طرف سے فوج کی تعداد کم کرنے کے باوجود اس تنازعے پر دونوں ملکوں کے درمیان فوری مصالحت کا کوئی امکان نہیں ۔اگر دونوں ملکوں کے درمیان ہلکا پھلکا فوجی تصادم ہوجاتا ہے تو اس میں چین کی دفاعی شراکت داری پاک فوج کا کردار نہایت اہم ہوجائے گا ۔بھارت اس وقت امریکہ کی مکمل سرپرستی اور اسرائیل کے بھرپور تعاون کا فائدہ اُٹھا رہا ہے ۔کشمیر کی تحریک آزادی کو کچلنے میں تو اسرائیل کا کھلا تعاون بھارت کو حاصل ہے ۔ایسے میں پاکستان کی کوشش اور خواہش ہو گی کہ پیپلزلبریشن آرمی کی ہاتھ میں پھنسی ہوئی بھارتی فوج کی گردن مزید پھنسی رہے ۔بھارت بھی پاکستان کو جوابی طور پر گھیرنے کے لئے پاکستان کے اندر اپنے سٹریٹجک اثاثوں کو متحرک کر سکتاہے ۔افغانستان کی سرزمین اور وسائل پر پوری طرح بھارت کا تصرف ہے۔پاکستان میں ''امریکن سنڈی ''جو کسی بھی شکل و صورت میں موجود ہے اس موقع پر امریکہ کے دفاعی شراکت دار بھارت کی حمایت میں عملی طور پر سرگرم ہو سکتی ہے ۔اس منظر نامے میں پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان دفاعی تعاون کا عملی اور علامتی اظہار خاصا معنی خیز ہے ۔

اداریہ