Daily Mashriq


عزم صمیم کے آزمائش کی گھڑی

عزم صمیم کے آزمائش کی گھڑی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور نامزد وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اگر روایتی طرز حکومت اپنایا گیا تو عوام ان کو بھی غضب کا نشانہ بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر آج سب سے بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے، تحریک انصاف کا اقتدار چیلنجز سے بھرپور ہے، عوام ہم سے روایتی طرز سیاست وحکومت کی اُمید نہیں رکھتے۔ عوام آپ کا طرز سیاست اور کردار دیکھیں گے اور اس کے مطابق ردعمل دیں گے۔ عمران خان نے نومنتخب اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عوام ہمیں روایتی سیاسی جماعتوں سے الگ دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود مثال بنیں گے اور باقی سب کو بھی مثال بننے کی تلقین کریں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ برطانیہ کی طرز پر ہر ہفتے بطور وزیراعظم ایک گھنٹہ سوالات کے جواب دیا کریں گے اور وزراء کو بھی صحیح معنوں میں جوابدہ بنائیں گے۔ ملکی سیاست وحکومت میں گفتار کے غازیوں کی فہرست تو بہت طویل ہے مگر کردارکا غازی بننے کی روایت اب ملکی سیاست میں دم توڑ چکی ہے۔ یہاں تک کہ مروجہ سیاسی نظام کے ناکام ہونے پر اب بھی باقاعدہ بحث چل نکلی ہے عوام حکمرانوں اور اپنے ہی منتخب نمائندوں سے توقعات رکھنا بھی چھوڑ چکے ہیں۔ دو بڑی جماعتوں کی نوجوانوں کی اکثریتی جماعت سے شکست ازخود اس امر پر دال ہے کہ نئی نسل اپنے بزرگوں کے فیصلوں کے نتائج کا حشر دیکھ چکی ہے اور وہ یکے بعد دیگرے برسر اقتدار آنے والی جماعتوں اور ساتھ ہی اتحادی جماعتوں کی قیادت سے نالاں ہیں۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ جغادری سیاسی قیادت کی ہار عوامی مینڈیٹ ہے یا منصوبہ بندی کیساتھ ان کو سیاسی دائرے سے باہر دھکیل دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کا سب سے بڑا امتحان ایک طرف مضبوط اور تجربہ کار حزب اختلاف کی چالوں سے نمٹنا اور دوسری طرف عوام سے کئے گئے وعدوں کو نبھانے کی اخلاص ودیانت کیساتھ پوری پوری کوشش کرنا ہے۔ یقیناً یہ دونوں ہی آسان کام نہیں لیکن تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت جس عزم اور نوجوانوں کی تائید وحمایت کیساتھ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے منجدھار میں کود پڑی ہے وہ حوصلہ افزاء اور امید یں وابستہ کرنے کے قابل ہے۔ اکثریتی جماعت کے قائد عمران خان نے اپنی جماعت کی طرف سے باضابطہ طور پر وزیراعظم کے عہدے کیلئے نامزد ہونے کے موقع پر جو خطاب کیا اس میں اور علاوہ ازیں بھی ان کے خیالات کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ عمران خان کی شخصیت اور سخت گیری بھی ہم عصر سیاسی قائدین سے مختلف نظر آتی ہے لیکن جب تک کسوٹی پر پرکھنے اور پورا اُترنے کا عمل شروع نہیں ہوتا وثوق سے کسی رائے کا اظہار محتاط طرزعمل نہ ہوگا۔ ان تمام عوامل کے باوجود اس بار کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ ملک کی موجودہ معاشی واقتصادی حالت میں اس توقع کا اظہار کہ آنے والی حکومت عوام کو فوری ریلیف دے سکے گی حقیقت پسندانہ نہ ہوگا۔ حقیقت پسندانہ صورتحال یہ ہے کہ نئی حکومت کو ابتداء ہی میں سخت معاشی ومالیاتی مسائل کا سامنا ہوگا جن سے حکمت وبصیرت کیساتھ نمٹا جائے تو یہ احسن عمل گردانا جائے گا اسلئے نئی حکومت سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا عوام کا حق ہونے کے باوجود حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا لیکن چونکہ عوام کو یقین دہانی کرائی گئی ہے اور متوقع حکمران جماعت پرعزم اور بااصرار اس کا اعادہ کرتی ہے اس تناظر میں عوامی توقعات کی وابستگی فطری امر ہے۔ اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ ان وعدوں اور دعوؤں کو کس طرح عملی شکل دیتے ہیں جس کی عوام کو شدت سے انتظار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیم لیڈر کی ترجیحات اور رجحانات پوری ٹیم پر اثرانداز ضرور ہوتی ہے لیکن جب تک پوری ٹیم یکجا ہو کر ایک ہی سمت میں حصول مقصد کیلئے کوشاں نہیں ہوگی اس وقت تک مطلوبہ نتائج کے حصول میں کامیابی شاذ ونادر ہی ہوا کرتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کن افراد پر مشتمل ہوگی، وفاقی کابینہ اور صوبائی حکومتوں کے قائدین کون ہوں گے اور معروضی حقائق کیساتھ وہ پارٹی ایجنڈے کو حاصل کرنے کیلئے کس حد تک کوشاں ہوں گے یہ دیکھنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ فی الوقت اس امر کی توقع ہی کی جا سکتی ہے کہ عمران خان جس قسم کی حکومت چلانے کے خواہاں ہیں ان کا انتخاب بھی اس کے مطابق ہوگا نہ کہ سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو جائیں۔ اتحادی حکومتوں کی سب سے بڑی مشکل یہی ہوتی ہے کہ اتحادی جماعتیں شراکت اقتدار میں دریا کے دو کناروں کی طرح ساتھ تو نظر آتی ہیں مگر ان کی ترجیحات یکساں نہیں ہوتیں۔ پھر حکومت کی صرف سیاسی مجبوریاں اور مصلحتیں ہی سدراہ نہیں ہوتیں اور بھی کئی عوامل راستے کی دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہیں جن سے نمٹنے اور ان کو بھی ساتھ لیکر چلنا جوئے شیر لانے کے مترادف متصور ہوتا ہے۔ اس نکتے پر عمران خان کی مشکلات متوقع نہیں تقریباً یقینی ہیں اور اگر دیکھا جائے تو عمران خان کی اصل مشکل حزب اختلاف کی جماعتیں نہیں بلکہ خود ان کے آس پاس بیٹے لوگ اور وہ مقتدرین ہیں جن کی تائید ان کو قدم قدم پر حاصل رہی اب جبکہ اقتدار کی کشتی ساحل پہ آلگی ہے تو معاونت پر آمادہ ہاتھوں اور قوتوں کا اپنی توقعات کو پورا کرنے کی خواہش رکھنا بھی فطری امر ہوگا۔ عمران خان اپنی پارٹی کے اراکین سے جو کچھ منوا سکتے ہیں اتحادی جماعتوں اور دیگر قوتوں کا ان کی دسترس میں نہ ہونا اور پھر تجربہ کار قیادت رکھنے والی مضبوط حزب اختلاف سے اسمبلی کے اندر اور اسمبلی سے باہر نمٹنا بڑے ہی بردباری، صبر اور بصیرت کا متقاضی ہے۔ ان طوفانوں سے ٹکرا کر کشتی نکال لایا جائے تب ایجنڈے کی تکمیل کی نوبت آئے گی۔ قبل ازیں طوفانی تھپیڑوں اور موج ومنجدھار میں اُلجھ کر ہی رہنا مجبوری ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ جن جن وعدوں اور دعوؤں کا باربار اعادہ سامنے آرہا ہے اس حوالے سے ابتداء کیسے ہوتی ہے۔ عمران خان وزیراعظم ہاؤس کی بجائے پنجاب ہاؤس میں قیام تو کر سکتے ہیں مگر اصل بات اسے بچت اور کفایت کا باعث بنانا اور پروٹوکول ترک کرنے پر اکتفاء کی بجائے حقیقی سادگی اختیار کرنے کا ہے جو کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔

متعلقہ خبریں