Daily Mashriq

نوجوانوں کی بہتر رہنمائی کا فریضہ ذمہ داری سے ادا کیا جائے

نوجوانوں کی بہتر رہنمائی کا فریضہ ذمہ داری سے ادا کیا جائے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا آئی ایس پی آر میں انٹرن شپ پروگرام مکمل کرنیوالے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دہشتگردی وانتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے میں نوجوان نسل کا کردار اہم ہے۔ سربراہ پاک فوج نے کہا کہ جنگوں کا طریقہ کار اور اقسام تبدیل ہو چکی ہیں۔ ہائبرڈ جنگ میں نوجوان نسل دشمنوں کا مرکزی ہدف ہے، نوجوان ایسے خطرات کو شکست دے کر پاکستان کو منزل تک لے جائیں۔ ٹیکنالوجی اور پراپیگنڈہ کے ذرائع میں اضافے کے اثرات کا نوجوانوں پر زیادہ مرتب ہونا اس لئے فطری امر ہے کہ اولاً نوجوان جذباتی اورجلد اثر قبول کر لینے والے ہوتے ہیں، دوم یہ کہ جدید ذرائع کا استعمال سب سے زیادہ نوجوان ہی کرتے ہیں بلکہ آج کا نوجوان ٹیکنالوجی کی اس دنیا سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ گویا یہی ان کا قریبی ساتھی اور عزیز ہو جس کیساتھ وہ سب سے زیادہ وقت بتاتا بھی ہے، انحصار بھی کرتا ہے اور اس سے متاثر بھی ہوتا ہے۔ اس قدر مؤثر اور باآسانی اور رازدارانہ طریقے سے رسائی کے اس ذریعے کا ہمارے نوجوانوں کے خیالات وطرز عمل میں تبدیلی لانے کیلئے بطور مؤثر ذریعہ استعمال کے جو نت نئے طریقے مخالف قوتیں استعمال کر رہے ہیں ان سے ہم میں سے بیشتر کو واقفیت بھی نہیں۔ سوشل میڈیا پر اغیار کی ترغیبات اور خیالات وتبصرے اور ایک طرف خود ہمارے بہکے ہوئے نوجوان بعض اوقات ایسے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جن کا یہاں تذکرہ مناسب نہیں۔ ایک دوسرے سے شکایات اور تحفظات کا ہونا فطری امر ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ والدین اور اساتذہ کی بالخصوص ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں اور طالب علموں کی ذہن سازی پر توجہ دیں، ان کے رجحانات کو سمجھیں، ان کے سوالوں کے جواب دے کر غلط فہمیاں دور کرنے کی ذمہ داری نبھائیں تاکہ نوجوان خارجی عناصر اور ان کے داخلی ہمدردوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔

ناکام طالب علموں کو ناکام نہ ہونے دیا جائے

پشاور تعلیمی بورڈ کے انٹر نتائج میں تقریباً 22 ہزار بچوں کا فیل ہو جانا ہمارے تعلیمی اداروں کے معیار کا پول کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ قبل ازیں میٹرک کے امتحان میں باون ہزار طلبہ فیل ہو چکے ہیں۔ عجب صورتحال یہ ہے کہ ایک جانب جہاں طلبہ کی ایک بڑی تعداد تقریباً سوفیصد نمبر لیکر کامیاب ہوتی ہے اور دوسرے درجے کے طالب علموں یعنی اے گریڈ کے حامل طلبہ کو بمشکل داخلہ ملتا ہے وہاں اتنی بڑی تعداد میں طالب علموں کی پوری طرح ناکامی طبقاتی نظام تعلیم، مواقع کی کمی اور اساتذہ وطالب علموں سبھی کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں سے احتراز اور محنت سے جی چرانا پوری طرح سامنے آتا ہے۔ اس قسم کی صورتحال میں جب اوسط درجے کے طالب علموں کا داخلہ اور میرٹ پر آنے کا سوال ہی باقی نہیں بچتا یہ فرض کر لیا جائے کہ ہمارا معیار تعلیم بہت بلند ہو چکا ہے یا پھر مصنوعی نظام کے تحت غیر حقیقی مارکنگ ہو رہی ہے۔ اس ساری صورتحال کا ماہرین تعلیم کو جائزہ لیکر کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے کہ سکولوں اور کالجوں میں طالب علموں کی اتنی بڑی اکثریت کا فیل ہو کر مایوسی کے عالم میں تعلیم کے میدان ہی کو خیرباد کہنے کا تدارک ہو۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت محکمہ تعلیم کے حکام کیساتھ ساتھ تعلیمی بورڈوں کے سربراہان بھی اس ساری صورتحال پر مل بیٹھ کر غور کریں گے اور ایسے اقدامات تجویز کئے جائیں گے جس کے نتیجے میں تعلیم کا معیار بہتر ہو اور تعلیمی ادارے بیروزگاروں کی کھیپ درکھیپ تیار کرنے کی بجائے معاشرے کو معیاری تعلیم سے آراستہ سلجھے ہوئے افراد فراہم ہوں۔

متعلقہ خبریں