امریکی اخبار کی چشم کشا رپورٹ

08 اگست 2018

کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو درپیش ایک اہم چیلنج ہے۔ نئی حکومت اس چیلنج سے کس طرح نبردآزما ہوتی ہے دنیا کی نظریں اب اس امر پر مرکوز ہو چکی ہیں۔ عمران خان بھارت کی طرف شاخِ زیتون اُچھال چکے ہیں اور نریندر مودی کی طرف سے اس کا رسمی جواب بھی مل چکا ہے۔ غربت اور افلاس زدہ عوام کا مستقبل سنوارنے کی سوچ ہر دو اطراف میں غالب تو ہے مگر حالات کی صلیب پر جھولتا ہوا کشمیر مستقبل کے ارادوں کو عمل تک پہنچنے میں رکاوٹ ہے۔ کشمیر اگر ستر اور اسی کی دہائیوں کی طرح پرامن ہوتا تو شاید فریقین کو زیادہ مشکل درپیش نہ ہوتی مگر کشمیر تین عشروں سے آتش فشاں بن کر لاوا اُگل رہا ہے اور رواں دہائی تو مزاحمت اور دباؤ کی آخری حدیں عبور کر گئی۔ کشمیر کی اندرونی صورتحال کیا ہے؟ مزاحمت کی شدت اور مظالم کی رفتار کیا ہے؟ یہ باتیں گاہے گاہے سامنے تو آتی ہیں مگر اس کو جانچنے اور ماپنے کا کوئی آزاد پیمانہ اور خوردبین نہیں ہوتی۔ آزاد دنیا کا کوئی سفارتکار، سفارتی مشن یا اخبار نویس وادی میں قدم رکھے تو بڑی حد تک اندرونی صورتحال عیاں ہو کر سامنے آتی ہے۔ امریکہ کے معروف اخبار نیویارک ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ میں ایک بار پھر وادی کی اندرونی صورتحال کو کھل کر بیان کیا گیا ہے۔ صحافی نے رپورٹ کی تیاری میں جانبداری کی حد تک بہت احتیاط سے کام لیا ہے۔ اس نے قدم قدم پر اس بات کا خیال رکھا ہے کہ کہیں میزبان اور مہربان جس کی بدولت اسے وادی تک رسائی ملی، جبیں شکن آلود نہ ہونے پائے اور وہ میزبان ومہربان ظاہر ہے بھارت کی اتھارٹی ہے جس نے اخبار نویس کو وادی میں داخل ہونے کی اجازت دی یہی وجہ ہے کہ رپورٹ میں پیلٹ گن استعمال اور اس کی متاثرین کا کوئی ذکر نہیں۔ احتیاط کا دامن سختی سے تھامنے کیلئے ہی اخبار نویس نے اپنی رپورٹ کا آغاز دو کرداروں سے کیا ہے۔ ایک کردار بھارت کا باغی اور انقلابی ہے اور دوسرا کردار وادی میں بھارتی سسٹم کی معاونت کرنے والا ایک سیاسی کارکن ہے جو اول الذکر کردار کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوا۔ پہلا کردار سترہ سالہ نوجوان سمیر احمد بٹ المعروف ٹائیگر ہے جو ایک غریب گھرانے کا نوجوان تھا اور بھارتی فوج نے پتھر بازی کے جرم میں گرفتار کر کے تشدد کا شکار کیا اور ردعمل میں وہ بندوق تھام کر سامنے آیا اور بھارت کے نظام کو للکارنے لگا۔ یہ نوجوان کچھ عرصہ تک سرگرم رہنے کے بعد تصادم میں جان سے گزر گیا۔ دوسرا کردار پچپن سالہ ایک سیاسی کارکن ہے جو محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی سے وابستہ تھا اور سمیر نے اسے سیاسی وابستگی ختم کرنے کا کہا اور اس دوران توتکار میں گولی چلی اور یہ شخص قتل ہو گیا۔ کہانی بہت مہارت سے تیار کی گئی ہے کہ بندوق بردار نوجوان قتل ہو تو اس کی زد بھی کشمیر پر پڑتی ہے اور عام کشمیر ی شکار ہو تو یہ بھی کشمیری سماج کا نقصان ہی قرار پاتا ہے۔ اس کے باوجود رپورٹ میں کشمیر کے زمینی حقائق کا کئی انداز اور حوالوں سے اعتراف کیا گیا ہے۔ مضمون نگار نے یہ حقیقت تسلیم کی ہے کہ کشمیر ایشیا کے خطرناک ترین فلش پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ جہاں دس لاکھ افواج آمنے سامنے ہیں دونوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور دونوں میں مذہب کی لکیر حائل ہے اور کشمیر دونوں کے درمیان پھنس کر رہ گیا ہے۔ مضمون نگار نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کو ٹیکنالوجی کی شکل میں اسرائیل کی تکنیکی معاونت حاصل ہے۔ مضمون نگار نے پی ایچ ڈی ڈاکٹر وسابق وائس چانسلرصدیق واحد کے حوالے سے بتایا کہ نوے کی دہائی سے پہلے کشمیر میں لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بھارت کیساتھ لو دو کی بنیاد پر بات ہو سکتی ہے اور معاملات طے ہو سکتے ہیں مگر اب کوئی بھی بھارت کا حصہ بننے کو تیار نہیں۔ ہر کشمیری اس وقت اپنے انداز سے مزاحمت کر رہا ہے۔ دیہاتوں کی طرف نکل جائیں اور کسی سے پوچھیں کہ وہ کیا چاہتا ہے تو جواب ملے گا خودمختاری۔ کچھ لوگ پاکستان کی بات بھی کرتے ہیں مگر بھارت کے عوام میں کلمۂ خیر کہنے والا کوئی بھی نہیں۔ مضمون نگار نے ایک پولیس افسر کے حوالے سے کہا ہے کہ اب کشمیری حریت پسندوں کو پاکستان سے مدد نہیں ملتی۔ اس وقت وادی میں ڈھائی سو بندوق بردار ہیں جبکہ دو عشرے قبل یہ تعداد ہزاروں میں تھی۔ ان ڈھائی سو عسکری نوجوانوں کی تربیت بھی واجبی سی ہے لیکن فوج انہیں ختم نہیں کر سکتی۔ ایک مارا جاتا ہے تو کئی اس کی جگہ لینے کو تیار ہوتے ہیں۔ مضمون نگار نے پولیس افسر کے حوالے سے لکھا ہے کہ کشمیریوں کی بھارت سے بیگانگی کی انتہا یہ ہے کہ جب کوئی فرد مارا جاتا ہے تو لواحقین کوئی مقدمہ درج کرانے یا تحقیقات کا مطالبہ کرنے کی بجائے خاموشی سے لاش اُٹھا کر چلے جاتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کشمیر کی موجودہ زمینی صورتحال کے حوالے سے بہت سے چشم کشا حقائق بیان کئے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے ہر قسم کے ظلم وستم کے باوجود آزادی اور حق خودارادیت کی راہ ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔ بھارت نے ایسی ہی رپورٹس اور حقائق کو منظر پر آنے سے روکنے کیلئے مقبوضہ کشمیر کو ایک قیدخانہ بنا رکھا ہے۔ نہ تو بیرونی سفارتکاروں اور تنظیموں اور نہ ہی میڈیا کو مقبوضہ علاقے میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ جب بھی عالمی ذرائع ابلاغ کو مقبوضہ علاقے تک رسائی ملی تو اسی طرح کی چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آتی ہے جن میں محتاط انداز سے ہی سہی مگر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوتا ہے۔ نوے کی دہائی میں جب آج کی طرح عالمی ذرائع ابلاغ کا کشمیر میں داخلہ بند تھا تو امریکی اخبارات ٹائم میگزین، نیوزویک، واشنگٹن پوسٹ، واشنگٹن ٹائمز اور برطانوی اخبارات گارجین، دی ٹائمز اور بی بی سی نے ایسی ہی معرکۃ الآراء رپورٹس میں وادی کی اندرونی تصویر دنیا کو دکھانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پچیس سال بعد امریکی اخبار کی اسی انداز کی رپورٹ بتا رہی ہے کہ وقت کا دھارا پاکستان، بھارت اور کشمیریوں کیلئے ٹھہر کر رہ گیا ہے۔

مزیدخبریں