Daily Mashriq

مذہبی جماعتوں کے سربراہ اور ان کی سیاست

مذہبی جماعتوں کے سربراہ اور ان کی سیاست

اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ پاکستان کی ستانوے فیصد آبادی مسلمان ہیں۔ پاکستان اسلام (دو قومی نظرئیے) کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے۔ پاکستان کے عوام اسلام دوست اور محب وطن ہیں۔ آج تک جتنے بھی سرویز پاکستان میں شریعت کے نفاذ یعنی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے حوالے سے ہوئی ہیں ان میں اکثریتی تعداد میں (اسی پچاسی فیصد) عوام نے اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے حق میں رائے دی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ پاکستان میں عوام کی طرف سے علماء کو بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مساجد کے ائمہ کرام اور مدارس کے مدرسین کو اپنے علاقے میں کسی بھی دوسرے فرد کے مقابلے میں زیادہ قابل عزت اور قابل اعتبار سمجھا جاتا ہے۔ مساجد کے ائمہ کرام اپنے گاؤں، علاقے میں بچے کی پیدائش سے لیکر جنازے تک سب کاموں میں قوم اور اپنے حلقے کی امامت کرتا ہے۔

اعمال وافعال، لین دین اور عبادات کے حوالے سے بھی علماء اور ائمہ کا کوئی ثانی نہیں۔ پوری زندگی صبر وقناعت سے (ایک آدھ کو چھوڑ کر کہ آج کل بعض علماء مدارس، بزنس اور سیاست کی وجہ سے کروڑ پتی بھی ہیں) گزار لیتے ہیں۔ پاکستان میں آج تک کوئی مستند عالم دین (مفتی قوی جیسوں کو چھوڑ کر) کسی اخلاقی ومالی سکینڈل میں ملوث نہیں رہا۔ پاناما جیسے مشہور زمانہ کیس میں کسی مذہبی سیاسی جماعت کا کوئی لیڈر ورہنما شامل نہیں۔ کسی عالم دین پر کبھی ملک وملت کے حوالے سے کوئی شک وشبہ آج تک ظاہر نہیں کیا گیا بلکہ وقت پڑنے پر سارے علماء اسلام بیک زبان پاکستان کے دفاع کیلئے اکٹھے رہے ہیں۔ صوبائی وقومی اسمبلیوں میں بھی مستند علماء نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماضی ہو یا حال کسی مذہبی سیاسی جماعت کے رکن پر بینکوں کے قرضے معاف کرانے یا اور کوئی غیر قانونی مراعات لینے کی تہمت موجود نہیں۔ ممبر اسمبلی اور وزیر بننے کے بعد دیگر وزراء واراکین اسمبلی کے مقابلے میں سادگی اور عام معمول کے مطابق زندگی گزارنے والے لوگ ہیں۔ دیگر وزراء کے مقابلے میں عوام کی رسائی کیلئے بھی آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ اب جبکہ ایم ایم اے بری طرح ناکام ہوئی، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے تھنک ٹینک (اگر کہیں ہیں) سرجوڑ کر ٹھوس سائنٹفک انداز میں پلس مائنس کے علاوہ شہروں اور دیہاتوں میں عوامی سروے کرا لیں کہ آخر کیا ہوا کہ لوگوں کی اکثریت مذہبی پس منظر رکھنے کے باوجود ایم ایم اے کے حق میں ووٹ ڈالنے پر تیار نہ ہوئی۔

ان سطور میں چند باتیں ایک ہمدرد اور ان سائیڈر کے طور پر پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اگر علماء وزعماء کے مزاج پر گراں نہ گزرے: پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ ایم ایم اے (متحدہ مجلس) نہ تھی بلکہ خیبر پختونخوا کی بڑی مذہبی اداروں اکوڑہ خٹک مدرسہ حقانیہ اور پنج پیر کی تنظیم اشاعت التوحید والسنہ نے نہ صرف ایم ایم اے میں شمولیت اختیار نہیں کی بلکہ کھلم کھلا مخالفت بھی کی۔ اس کے علاوہ ’’تحریک لبیک پاکستان‘‘ نے ایم ایم اے سے الگ رہ کر ان سے زیادہ ووٹ حاصل کئے اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ پاکستان میں 60فیصد لوگ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی کے ورکروں کے اذہان میں فکر وعمل کے لحاظ سے بہت بڑا فرق ہے جو ضرورت اور مجبوری کے تحت اتحاد کے وقت بھی اپنا کام کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جمعیت والوں کے بارے میں لوگوں نے نوٹ کیا کہ وہ جماعت اسلامی کے امیدواروں کیلئے کنونسنگ نہیں کرتے تھے۔

سب سے اہم اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ عوام کے سامنے جمعیت اور جماعت کا گزشتہ پانچ برسوں کا سیاسی کردا وعمل سامنے تھا۔ جمعیت نے مسلم لیگ (ن) کیساتھ اور جماعت نے تحریک انصاف کیساتھ اتحاد کے خوب مزے لوٹے اور مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان گزشتہ پانچ برسوں میں جو تعلق رہا ہے وہ آگ اور پانی کا تھا۔ کیا دو شدید مخالف جماعتوں کے اتحادی اچانک دونوں کو چھوڑ کر ایک مقدس کاز کیلئے صحیح معنوں میں متحد ہو سکتے ہیں؟ ہاں کیوں نہیں، ایم ایم اے بن گیا لیکن عوام نے اسے قبول نہ کیا اور آئندہ بھی کردار وعمل یہی رہا تو عوامی قبولیت حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔

ایک دنیا مولانا فضل الرحمن کی سیاسی حکمت وبصیرت کی قائل رہی ہے لیکن شاید وہ عمران خان کی مخالفت میں اتنے غصے میں تھے کہ جذبات اور غصہ اُن کی سیاسی حکمت وعقل پر غالب آگیا اور سراج الحق کا پانچ سال تحریک انصاف کیساتھ اتحاد اور پھر اچانک اُسے ناچ ورقص کی پارٹی قرار دیتے ہوئے الگ ہونا بہت سے خیر خواہوں کو بھی اچھا نہ لگا اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے اسی طرز عمل کے پیش نظر عوام ان کو اسلام کے شیدائی ماننے کے بجائے اسلام آباد کے فدائی کہنے سے باز نہیں آتے۔ اسی الیکشن میں اے این پی کے رہنما نے بھی یہی بات اپنے جلسوں میں کھل کر کہی اور اب تحریک انصاف کیخلاف اے پی سی بھی ٹھوس دلائل وشواہد کے بجائے ذاتی مفاد وبغض پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی جماعتیں اپنے وقار، متانت اور تاریخی تشخص کی واپس شروع کریں نتجیہ مثبت وخوشگوار ہوگا۔

متعلقہ خبریں