Daily Mashriq

راشی پولیس، بجلی بل اور شجرکاری

راشی پولیس، بجلی بل اور شجرکاری

پاکستان میں منتقلی اقتدار کے دنوں میں عوام کی توقعات کا بڑھ جانا اپنی جگہ لیکن تمام تر کوششوں اور نلکی سے گزارنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں پولیس ابھی تک ٹیڑھی ہے۔ ٹیڑھی ہونے کا معاملہ افسوسناک بھی ہے، قابل توجہ بھی اور قابل احتساب بھی۔ مجھے تہکال یوسف آباد، کرسچن کالونی اور دو تین اور جگہوں کے نام جو میں رومن میں لکھے ہونے کے باعث صحیح طور پر سمجھ نہ سکی شاید یہیں اردگرد کے علاقے ہوں گے یہ سارے علاقے تھانہ تہکال کی حدود میں آتے ہیں جہاں پر ایک عورت آکر رہ رہی ہے جس کا کام لگائی بجھائی نہیں بلکہ پولیس ٹاؤٹ کا ہے اور ٹاؤٹ بھی ایسی کہ بندہ بشر کا تھانے جاکر رپورٹ کرانا تو کجا گلی محلے کے بچوں اور نوجوانوں کی معمولی بے ضرر لڑائی اور صلح ہو جائے تو تھانے والوں کو خبر کر دیتی ہے۔ جہاں جھگڑا ہو اور صلح صفائی ہوجائے یا کوئی اور چھوٹی موٹی بات ہو جائے تو مذکورہ عورت تھانہ تہکال کو خبر کر دیتی ہے جہاں سے پولیس موبائل آتی ہے اور بغیر کسی رپورٹ اور روزنامچہ اور شکایت کے فریقین کو لیجا کر حوالات میں بند کر دیتی ہے جہاں سے چھوٹنے اور چھڑانے کا ایک باقاعدہ فارمولہ طے ہے۔ پولیس کی رشوت ستانی تو ضرب المثل ہے مگر یہاں رشوت اس ڈھٹائی اور اس دیدہ دلیری اور کھلے عام لی جاتی ہے کہ بندہ پھنستا نہیں بلکہ باقاعدہ ٹاؤٹ کے ذریعے بندے پھنسائے جاتے ہیں جن کی خلاصی اور رہائی دس سے پندرہ ہزار روپے فی فریق اور ساتھ میں چار چار دیگیں، معلوم نہیں دو دو دیگ فی فریق یا چار چار دیگ فی فریق اس میں مجھے تھوڑا سا تردد ہے، بہرحال چار نہ سہی دو دو دیگیں فریقین عدم رجوع تھانہ سے زبردستی وصولی کر کے ہی بغیر رپورٹ وروزنامچہ اور شکایت کے ’’حوالاتیوں‘‘ کو رہائی دی جاتی ہے۔ عجیب وغریب قسم کے معاملات اور پولیس کے حوالے سے نت نئی کہانیاں روز سننے کو ملتی ہیں مگر دیگوں کی بطور رشوت وصولی کی جو روایت تھانہ تہکال کی پولیس نے ڈالی ہے وہ نئے پاکستان ہی میں ممکن ہے، دل تو کرتا ہے کہ پورا کالم ہی خیبر پختونخوا کی سدھائی ہوئی پولیس پر رقم کردوں لیکن دوسرے مسائل کو بھی شامل کالم کرنا ہے۔

ایک قاری کا پیغام ہے کہ اگر بجلی کے بلوں سے اضافی رقم کی وصولی ترک کر کے عوام سے خالصتاً قیمت بجلی وصول کی جائے تو بل نہ دینے والے بھی بلوں کی ادائیگی میں تامل نہیں کریں گے اور سو فیصد وصولی ہوگی۔ تجویز تو مناسب ہے لیکن حکمرانوں کا پیٹ بھرے گا کیسے۔ بجلی بلوں میں واقعی کئی قسم کے سرچارج وغیرہ ہیں مستزاد ٹیلی وژن کی لائسنس فیس بھی بجلی بلوں ہی کے ذریعے وصول ہوتی ہے۔ میٹر خواہ مسجد ہی کا کیوں نہ ہو فی کنکشن ٹی وی لائسنس فیس وصول ہوتی ہے گوکہ مفتیان کرام کسی طور بھی بجلی چوری کی گنجائش نہیں بتاتے لیکن رازداری کی شرط پر ایک عالم دین نے اس اضافی رقم کی وصولی کے بقدر بجلی سے چھیڑ چھاڑ کی گنجائش کا بتایا تھا۔ بہرحال یہ تو محض سرراہ تذکرہ تھا لیکن سوچنے کی بات بہرحال ضرور ہے کہ جب کوئی راستہ باقی نہ چھوڑا جائے تو عوام بجلی چوری کریں گے اور بلوں کی ادائیگی سے انکاری ہوں گے اور کنڈہ کلچر بڑھے گا۔ اگر واپڈا بجلی بلوں کو منصفانہ بنائے تو ادائیگی بھی لوگوں کو بھاری نہ لگے۔

ایک بھائی کا بڑا مثبت پیغام ہے کہ اس سال یوم آزادی کے موقع پر ہر پاکستانی شہری وطن سے محبت کا اظہار ایک پودا عطیہ یا ایک پودا لگا کر کرے۔ میرا بس چلے تو پورے پاکستان میں جابجا شجرکاری کروا دوں۔ میرے خیال میں صرف پودے لگانا یا پودے عطیہ کرنا کافی نہیں بلکہ جب پودے لگ جائیں خواہ کوئی بھی لگائے تو ان کی حفاظت ونگہداشت زیادہ اہمیت کی حامل بات ہے۔ شجرکاری تو سرکاری محکمے سال میں دو مرتبہ خاصے بڑے پیمانے پر کرتے ہیں مگر افسوس کہ پلٹ کر ان کو دیکھنے کی زحمت کوئی گوارا نہیں کرتا اور ہم عوام، ہمارے بچے اور نوجوان ان درختوں کا خیال رکھنا تو درکنار گزرتے ہوئے پودا اکھاڑ کر پھینکنے کے عادی ہیں۔ کاش کبھی ہمیں اس غلطی کا خود بھی احساس ہو اور اپنے بچوں کو بھی ایسا کرنے سے منع کریں۔ میں اس کالم کی وساطت سے محکمہ جنگلات اور ان تمام اداروں اور اس کے ذمہ دار شعبوں کے نگرانوں اور خاص طور پر اپنے نوجوان قارئین سے بھرپور اپیل کرتی ہوں کہ وہ چودہ اگست کے دن کا انتظار نہ کریں اور جتنا ہو سکے پودے لگائیں جو پودے نہ لگا سکیں وہ اردگرد لگے پودوں کا خیال کریں، ان کو پانی دیں اور مویشیوں سے ان کو بچائیں۔ اگر باہر جگہ نہ ہو تو خالی ڈبوں میں مٹی بھر کر پودے لگا کر گھر کے کسی موزوں کونے میں رکھ دیں۔ چھت پر گملے دستیاب ہوں تو بہتر اگر نہیں تو جو بھی خالی ڈبہ ملے خواہ وہ گھی کا ہو یا رنگ وغیرہ جس قسم کا بھی ڈبہ ہو اس میں پودے لگائے جا سکتے ہیں،پودینہ گملوں میں آسانی سے لگتا ہے اور مچھروں کو بھگانے کا آسان حل بھی ہے۔ سلاد کے طور پر لیں یا قہوہ بنا کر پی لیں، ہیضے، بدہضمی اور ریاح کی تکلیف کا سستا اور گھریلو علاج بھی ہے۔ بس تھوڑی سی توجہ اور دلچسپی ہو تو بندہ گھر کو گلستان میں بدل دے۔ کم ازکم چند پودے لگا کر اور گملے سجا کر اپنے حصے کا آکسیجن صاف کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ ایک درخت لگا کر ماحول کی صفائی اور گرمی کا مقابلہ کرنے کی اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کی جائے توکیا کہنے۔۔ مگر ہم جیسے سست الوجود لوگوں کو سمجھائے کون؟ ہم منفی کاموں کی طرف تو فطرتاً متوجہ ہوتے ہیں اور فطری کاموں پر توجہ دلانے کے باوجود بھی توجہ نہیں دیتے، پھر شکایت ہوتی ہے حکومت اور حکمرانوں سے، بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ سے۔ ہم اپنے حالات کے خود ذمہ داری ہیں مگر گردانتے دوسروں کو ہیں۔ تبدیلی اپنے آپ میں لائیے ملک خودبخود تبدیل ہوگا۔ اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں