Daily Mashriq


سوشل میڈیا پر اُبھرتے ہوئے غلط رویئے

سوشل میڈیا پر اُبھرتے ہوئے غلط رویئے

ہم بھی عجیب قوم ہیں، جو شخص کسی بھی وجہ سے ہمارے خیال میں پسندیدگی کے درجے سے اُتر جاتا ہے یعنی ہم اسے ناپسند کرتے ہیں تو خواہ وہ اچھا ہی کیوں نہ کرے اس کی یہ ادا بھی ہمیں نہیں بھاتی اور اس کے اچھے کام میں بھی ہم نقائص ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے 13سال بعد منسٹرز انکلیو میں وہ بنگلہ خالی کر دیا ہے جہاں وہ رہائش پذیر تھے اور وہاں سے وہ اپنی ہی جماعت کے رکن سینیٹر طلحہ محمود کے فارم ہاؤس میں اٹھ آئے ہیں مگر بجائے اس کے کہ ان کے اس اقدام کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا، سوشل میڈیا پر بعض لوگ ان کو طنز وتشنیع کا نشانہ بنا کر خوش ہو رہے ہیں، جیسے انہوں نے اب تک اگر محولہ بنگلے کو استعمال کیا تو کوئی ناجائز کام کیا، حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ بحیثیت ممبر قومی اسمبلی گزشتہ کئی انتخابات میں کامیاب ہوتے رہے اور اسی حوالے سے انہیں مختلف حکومتوں کے ادوار میں کشمیر کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا جاتا رہا اور منتخب ممبر اسمبلی کی حیثیت سے اس منصب پر تقرری آئین اور قانون کے عین مطابق بھی تھی اور حکومتیں انہیں اپنی ضرورت کے پیش نظر خوشی سے اس قابل سمجھ کر ہی یہ منصب تفویض کرتی رہی ہیں جبکہ بحیثیت چیئرمین کشمیر کمیٹی، ان کو وفاقی وزیر کے برابر حیثیت حاصل ہوتی تھی یوں منسٹر انکلیو میں ان کو رہائش گاہ اور دیگر مراعات بھی آئینی تقاضا ہی تھا، تو پھر اس پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراض کا کیا جواز بنتا ہے؟ البتہ موجودہ انتخابات میں دونوں نشستوں پر شکست کے بعد چونکہ اب ان کے پاس محولہ رہائش گاہ رکھنے کا جواز باقی نہیں رہا تو ایک اصول پسند اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھنے والے جمہوری قائد کی حیثیت سے مولانا موصوف نے سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے میں کسی لیت ولعل سے کام نہیں لیا، حالانکہ ایک عام سرکاری افسر یا ملازم بھی اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی طور پر حاصل سرکاری رہائش گاہ کو مزید چھ ماہ تک اپنے قبضے میں رکھنے کا مجاز ہوتا ہے اور اگر ایسی سرکاری رہائش گاہ اس کی ذاتی ملکیت ہو تو حکومت قانون کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد چھ ماہ تک اس کا مقرر کردہ کرایہ اسے ادا کرنے، کرائے کا گھر ہونے پر مالک مکان کو چھ ماہ کا کرایہ ادا کرنے کی پابند ہوتی ہے اور اگر رہائش گاہ سرکاری ہو تو چھ ماہ تک اسے وہاں رہنے کی اجازت دی جاتی ہے، تاہم وزراء کیلئے کیا قانون ہے اس حوالے سے متعلقہ سرکاری محکمے یا ماہرین قانون ہی بہتر رائے دے سکتے ہیں لیکن ہم تو مولانا صاحب کے اس اقدام کو خراج تحسین پیش کئے بنا نہیں رہ سکتے کہ انتخابی عمل سے باہر ہوتے ہی ضرورت سے زیادہ ایک دن بھی سرکاری رہائش گاہ کو اپنے قبضے میں رکھنے کی حاجت محسوس نہیں کی۔ اس پر بھی سوشل میڈیا پر اصلی یا جعلی ناموں سے سرگرم کچھ لوگ اگر دل ہی دل میں خوش ہو کر مرزا غالب کے اس شعر میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ

میں نے کہا کہ بزم ناز غیر سے چاہئے تہی

سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یوں؟

تو انہیں اپنے رویئے کا جائزہ ضرور لینا چاہئے، اسلئے کہ ایک قانون اور آئین کی پاسداری کرنے والی شخصیت کو نشانہ استہزا بنانے سے پہلے وہ گزشتہ چند روز کی ان خبروں کا جائزہ لیں تو انہیں آئین اور قانون کا مذاق بنانے والوں کی سوچ کا بھی اندازہ ہو سکے گا۔تحریک انصاف کے سربراہ اور نامزد وزیراعظم نے اگرچہ پروٹوکول کے حوالے سے بعض اہم فیصلے کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ وہ خود پروٹوکول لیں گے اور نہ ہی کسی کو لینے دیں گے جو ان کی اچھی سوچ قرار دی جا سکتی ہے، اور اسی ضمن میں انہوں نے موجودہ وزیراعظم ہاؤس استعمال کرنے سے انکار کیساتھ ساتھ اپنی رہائش گاہ بنی گالہ کو بھی بطور وزیراعظم ہاؤس استعمال کرنے کو مسترد کر دیا ہے، ان کا یہ فیصلہ ماضی کے حکمرانوں کی سوچ کے بالکل برعکس ہے کہ اتنے بڑے محلات پر اس غریب قوم سے حاصل کردہ ٹیکسوں سے جتنے بھاری اخراجات ادا کئے جاتے ہیں ان میں معتدبہ کمی ممکن ہوسکے گی،اسلئے خان صاحب نے جو فیصلہ کیا ہے وہ قوم وملک کے مفاد میں تو ہے تاہم ساتھ ہی یہ خبریں بھی آتی رہی ہیں کہ انہوں نے اپنے لئے سپیکر ہاؤس کو چن لیا ہے جہاں وہ رہائش رکھیں گے لیکن اس پر سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر ہاؤس پارلیمنٹ کی ملکیت ہے اور وزیراعظم قانونی طور پر اسے استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہیں، بعد میں اس صورتحال سے بچنے کیلئے یہ خبریں سامنے آئیں کہ بنی گالہ اور سپیکر ہاؤس وزیراعظم کیلئے سیکورٹی رسک ہیں، تاہم سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہاں وزیراعظم کو خطرات درپیش ہو سکتے ہیں تو کیا سپیکر کو ان خطرات کا سامنا کرنا نہیں پڑیگا؟ ان خبروں کی رو سے جب ہم مولانا فضل الرحمن کے اختیار کئے ہوئے رویئے کو دیکھتے ہیں تو کیا ان کو طنز وتشنیع کا نشانہ بنانا چاہئے یا ان کی تحسین کر کے اس رویئے کی تقلید پر زور دینا چاہئے؟ کیا ہم کبھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی اخلاقی جرأت کریں گے؟۔

متعلقہ خبریں