Daily Mashriq

مقبوضہ کشمیر کے تازہ حالات پر خاموشی کی مصلحت؟

مقبوضہ کشمیر کے تازہ حالات پر خاموشی کی مصلحت؟

ملکی قیادت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر بھارت کیخلاف کسی قسم کے سخت اقدام کا کوئی عندیہ نہ دیا، اس صورتحال میں جنگ ویسے بھی کوئی انتخاب نہیں اس لئے پاکستان کے پاس سفارتی اور دنیا کے ممالک کی اخلاقی تائید وحمایت کا حصول ہی بہتر راستہ ہے۔ اس شعبے میں بھی اب تک سوائے برادر اسلامی ملک ترکی کے کسی دوسرے ملک نے پاکستان کی کھل کر حمایت نہیں کی، یہاں تک کہ چین کا بیان بھی روایتی دوست ملک کا نہیں۔ امریکہ جو ثالثی پر آمادہ تھا اب امریکہ نے اسی مسئلے کو داخلی مسئلہ قرار دیکر ثالثی کی پیشکش کا وعدہ ہی بھلا دیا۔ متحدہ عرب امارات نے بھی برادر اسلامی ملک کے کردار کی بجائے اغیار کا رویہ اپنا کر اسے بھارت کا داخلی مسئلہ قرار دیدیا۔ چین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر لداخ کی حد تک تو اسے چین کی سرحدی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی کوشش ضرور قرار دیا لیکن مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دینا مناسب سمجھا۔ واضح رہے کہ مسئلہ کشمیر میں چین بھی ایک اہم فریق کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان اور تبت کے درمیان بدھ مت اکثریت کا حامل لداخ کا علاقہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چنینگ نے اپنے بیان میں کہا کہ چین نے بھارت کیساتھ سرحد کے مغربی حصے میں چینی حدود میں بھارتی مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر قوانین میں تبدیلی چین کی سرحدی خودمختاری اور سا لمیت کی خلاف ورزی ہے جو بالکل ناقابل قبول ہے۔ قبل ازیں چین کا مقبوضہ کشمیر بشمول لداخ کے معاملے پر موقف بالکل واضح اور پاکستان کے موقف کی مکمل تائید کا تھا۔ متحدہ عرب امارات نے تو او آئی سی کے اجلاس سے بھارت کے نمائندے سے خطاب کرواتے ہوئے ہماری ناراضگی اور احتجاج کو بھی عمل میں نہ لایا اس کی وجوہات ہمیں بھارت کے بڑے ملک ہونے اور خاص طور پر معاشی وتجارتی مفادات کی وابستگی ہے جس کے سامنے مثالی دوستی اور اسلامی اخوت کے رشتے بھی کمزور پڑ گئے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان کی معاشی ترقی کا منصوبہ سی پیک وقتی طور پر تو خطرے میں نظر آتا ہے لیکن بادل چھٹ جائیں، متنازعہ علاقوں کے مستقبل کا تعین ہو جائے تو بین الاقوامی روٹ بنانے کی ضرورت واہمیت ایک مرتبہ پھر عملی صورت اختیار کرے گا جہاں بہت ساری مشکلات اور مسائل نظر آتی ہیں۔ اس میں مثبت اور امید کی کرن سی پیک ہی ہے لیکن حالات کے بہاؤ میں اس امر کا یقین نہیں کہ حالات کیا رخ اختیار کر جائیں، بہرحال اس معاملے سے قطع نظر پاکستان بھارتی اقدام کے توڑ میں سفارتی محاذ کو متحرک کرنے میں تعجل کی بجائے سست روی کا شکار ہے۔ ملکی قیادت اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھی اس حوالے سے کوئی ٹھوس موقف اختیار نہیں کیا گیا یہاں تک کہ سخت لب ولہجہ اختیار کرنے سے بھی گریز کیا گیا، یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنے وفاق کے انتظام کرنے کے بعد جب ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو پاکستان مسکت جواب دے گا۔ کیا پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام پر اتفاق ہے یا اس بارے میں درون خانہ کوئی مفاہمت ہوچکی ہے اس سے اٹھتے ان سوالوں کا کوئی بھی واضح جواب نہیں مل رہا ہے۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں قوم کو اعتماد میں نہیں لیا اور نہ ہی حزب اختلاف نے سخت لب ولہجہ اپنایا قوم کو اس بارے تشویش ہونا فطری امر ہے۔ معاملات حکومتی محاذ پر ہی پھسپھسے نہیں ہماری سیاسی جماعتیں اور عوام بھی مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا قانونی حصہ قرار دینے پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت نے اپنے معمول کے جلسوں کو کشمیر کیلئے ہونے کا رنگ دیدیا ہے جبکہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام سمیت دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں، گروہوں، گروپوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے کوئی بھی ہلچل سامنے نہیں آئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یا تو ہم من حیث القوم بے حس اور کشمیر ی بھائیوں کی جدوجہد سے لاتعلق ہوگئے ہیں یا پھر ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ اب ہمیں اس قسم کے معاملات کا کوئی احساس تک نہیں۔ رب مغفرت کرے امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مرحوم زندہ ہوتے تو ملک کی سڑکیں عوام سے بھر جاتیں۔ عوام ایک آواز پر لبیک کہنے کو تیار ہیں لیکن کوئی قائد، کوئی رہنما تو میدان میں نکلے۔ بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے بڑا احتجاج کیا ہے جس کا کشمیر کی علاقائی حیثیت سے کوئی ناتہ نہیں اور ہم پاکستانی جو مقبوضہ کشمیر کے متنازعہ علاقے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے فیصلہ چاہتے ہیں بھارت کے یکطرفہ اقدام پر ستو پی کر بیٹھ گئے ہیں، شاید بھارت کو ہماری قیادت اور عوام دونوں کے ٹھنڈے پڑگئے جذبات کا بخوبی احساس تھا وگرنہ اس کی یہ ہمت نہ ہوتی کہ ایک بل منظور کر کے کشمیر کی آئینی حیثیت ہی بدل ڈالے۔ بھارت کی طرف سے کشمیر کی ریاست کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کرنے اور اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ پاکستان کو کس طرح متاثر کرسکتا ہے؟ پاکستان کے پاس اب کیا آپشنز ہیں اور کیا وہ انڈیا کو کشمیر میں من مانی کرنے سے روک سکے گا؟ کیا کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کا افغانستان میں قیام امن کی تازہ کوششوں سے کوئی تعلق ہے؟ اگرچہ ہمیں بخوبی علم ہے کہ اقوام متحدہ اب کتنا مؤثر ادارہ ہے۔ حقیقت میں وہ اپنے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریاں بھی پوری نہیں کر پاتا لیکن وہ اپنی قراردادوں کا محافظ ہے۔ اس لئے پاکستان کو اقوام متحدہ کے دروازے پر ہی دستک دینی ہوگی۔ اب اقوام متحدہ کیلئے لازم ہے کہ وہ انڈیا کو روکے۔ انڈیا نے کشمیر کے بارے میں جو فیصلے کئے ہیں اس سے کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہمیں امید ہے کہ اقوام متحدہ ایسے اقدامات کریگا جس سے نریندر مودی کو لگام دیا جا سکے گا۔

متعلقہ خبریں