Daily Mashriq

نکاسی آب، ایک مرتبہ پھر ترجیح

نکاسی آب، ایک مرتبہ پھر ترجیح

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے پشاور شہر میں نکاسی آب کے نظام کو ترجیحی بنیادوں پر بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ پشاور شہر میں نکاسی آب کے 20بڑے اور 10چھوٹے ایسے مقامات ہیں جہاں پر نکاسی آب کا مسئلہ زیادہ توجہ کا حامل ہے جس سے پورے شہر کی صفائی متاثر ہو رہی ہے۔ ان مقامات کی نکاسی کے نظام کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے یونیورسٹی روڈ پشاور پر بند مین ہولز اور بند نالیوں کو فوری طور پر کھولنے کی ہدایت کی ہے تاکہ یونیورسٹی روڈ پشاور پر نکاسی آب کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔ انہوں نے یونیورسٹی روڈ پشاور پر 2.5کلو میٹر ڈرینج چینل پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر اس ڈرینج کی تکمیل سے نکاسی آب کا نظام مزید بہتر ہوجائے گا۔ وزیراعلیٰ نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو رنگ روڈ پشاور پر بند نالیوں کو فوری طور پر کھولنے اور نکاسی آب کا نظام درست کرنے کی ہدایت کی ہے۔ شہر میں نکاسی آب کے مسئلے کے حل کیلئے یہ پہلی اعلیٰ سطحی میٹنگ نہ تھی لیکن اجلاس میں مسئلے کے پورے ادراک کیساتھ اس کے حل کیلئے جن منصوبوں اور اقدامات کا عندیہ دیا گیا ہے ان پر عملدرآمد سے شہر کے مرکزی شاہراہ پر نکاسی آب کا مسئلہ حل ہونے کی امید ہے۔ آبدرہ روڈ سے تہکال تک نالیوں کے تعمیر کے باوجود دونوں طرف کی سڑک کا تادیر جھیل کا منظر پیش کرنے کی وجہ اگر نالیو کی عدم صفائی ہے تو اس پر متعلقہ حکام کو فوری طور پر ہٹا دینے کی ضرورت تھی اور اگر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نکاسی آب کا مناسب انتظام نہیں ہو سکا ہے اس کا بھی جائزہ لیکر اقدامات کی ضرورت ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیراعلیٰ نے شہر کی صفائی اور نکاسی آب کے حوالے سے جن اقدامات کی ہدایت کی ہے متعلقہ حکام اس ضمن میں فوری ممکن اقدامات کے ذریعے بارشوں کے تازہ سلسلے کو شہریوں کیلئے کم زحمت کا باعث بنا سکیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ جن منصوبوں کا عندیہ دیا گیا ہے اُن پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے گا اور صوبائی دارالحکومت میں نکاسی آب کا سنگین اور دیرینہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔

عیدالاضحی کے موقع پر صفائی' شہری بھی ذمہ داری نبھائیں

عیدالاضحی کی تعطیلات کے دوران صفائی کے خصوصی انتظامات کا اعلان تو کیا جاتا ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ پورے شہر کی یکبارگی صفائی کیلئے وسائل اور افرادی قوت کی عدم دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس امر کی گنجائش تو نکلتی ہے کہ صفائی کے عملے کی کوتاہیوں سے صرف نظر کیا جائے لیکن اس امر کی گنجائش نہیں کہ قربانی کے جانوروں کی آلائشیں دو تین روز تک پڑی رہیں اور کوئی اُٹھانے والا نہ ہو۔ عام مشاہدے کی بات یہ ہے کہ ہر قسم کی منصوبہ بندی کے باوجود حکام عیدالاضحی کے موقع پر شہر کی صفائی میں ناکام رہتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ ان ناکامیوں سے سبق سیکھ کر ان کو دور کرنے کی سعی کی بجائے آئندہ سال اسی کا اعادہ ہوتا ہے۔ ہمارے تئیں عیدالاضحی کے موقع پر صفائی کا کام اتنا بڑھ جاتا ہے کہ آلائشیں اُٹھانے میں مجبوراً تاخیر ہو جاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس صورتحال کے شہری بھی برابر کے ذمہ دار ہیں جو اس امر کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کہ اوجھڑی اور دیگر باقیات کو ایک مخصوص جگہ پر احتیاط سے اس طرح رکھیں کہ عملہ صفائی کو اس کو اُٹھانے میں آسانی ہو۔ اسلام میں جہاں قربانی کا درس دیا گیا ہے وہاں نظافت اور صفائی کو نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے جس طرح قربانی مقدس فریضہ احسن طریقے سے ادائیگی کا متقاضی ہے اسی طرح صفائی پر توجہ بھی ہر شہری کا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے جس کی ادائیگی میں غفلت کا ارتکاب نہیں ہونا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ شہری خود اپنے مفاد میں اپنے گلی محلوں کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری ازخود نبھائیں گے اور عملہ صفائی کے کام کو آسان بنائیں گے یہ ہم سب کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔

متعلقہ خبریں