Daily Mashriq

کشمیریوں کے خلاف ایک اور بھارتی جارحیت

کشمیریوں کے خلاف ایک اور بھارتی جارحیت

بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے صدارتی فرمان کے ذریعے مقبوضہ جمو کشمیر کی ذمہ داری حیثیت کرنے والے آرٹیکل370کو ختم کرنے کی منظوری دے دی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد بھارتی قوانین کے اطلاق کے ساتھ غیر کشمیریوں کے لئے جائیداد کی خرید وفروخت اور مستقل رہائش میں حائل رکاوٹ ختم ہوگئی بھارتی راج سبھا(قومی اسمبلی) نے سوموار کو آئینی ترمیم کے بل کی منظوری دے دی۔تقسیم ہندوستان کے ستر سال بعد بھارت نے اپنے زیر قبضہ ریاست جموں وکشمیر کے علاقوں بھارت میں ضم کرنے کے اس دیرینہ ہندوئوں کے نعرے کو عملی شکل دے دی جس پر ہندو توا کی سیاست کھڑی تھی آزاد کشمیر اور پاکستان میں بھارت کے اس اقدام پر شدیدغم وغصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارت کے اس یکطرفہ اقدام سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ''بھارت کا جارحانہ اقدام سابقہ حکومتوں کی نااہلی کا ایک اور ثبوت ہے''۔اپوزیشن کے بعض رہنما یہ کہتے دکھائی دیئے''۔عوام کو یہ بتایا جائے کہ صدر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کس کشمیر پر ثالثی کا عندیہ دیا تھا۔بھارتی مقبوضہ کشمیر یا آزاد کشمیر؟ پاکستانی سیاست کے فریقین کی تندوتیز بیانات اور باہمی سرپھٹول فقط ایک تماشے اور لذت گفتار کے سوا کچھ نہیں۔یہ بھی جی بہلانے والی بات ہی ہے کہ بھارت کے اس عمل سے خود اس کے135ضلعوں میں جو علیحدگی کی تحریکیں ہیںان کو تقویت ملے گی۔تنازعہ کشمیر پر بھارت کے سوموار والے اقدام کی بنیاد پر مختلف سوال پاکستان میں بھی اُٹھے۔ایک سوال گلگت بلتستان کو خصوصی حیثیت (یعنی غیر اعلانیہ صوبہ کا درجہ) دینے کے حوالے سے بھی ہوا ،دوسرا بعض ریاستوں کی حیثیت کو1972ء میں ختم کرنے اور بہاولپور کی ریاست کو جنرل یحییٰ خان کے لیگل فریم ورک کے آرڈر کے تحت مغربی پاکستان میں صوبوں کی بحالی کے مرحلہ میں صوبہ پنجاب کا حصہ بنا دینے پر ہے۔ مطالعہ پاکستان کو ایمان کا ساتواں رکن سمجھنے والی تاریخ سے نا بلد نسل ان دو سوالوں پر پتھر اُٹھائے ہوئے ہے مگر کیا آزادی اور سوال پتھرائو سے دب جاتے ہیں؟۔بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ مودی اور جنتا پارٹی کی حالیہ انتخابی سیاست کا حصہ تھا۔ یہ کہنا کہ امریکی ثالثی کے اعلان نے بھارت کو اتاولہ کردیا درست نہیں لگتا البتہ اثراگر اس تنازعہ کے حوالے سے بھارت اور پاکستان کے درمیان سقوط مشرقی پاکستان کے بعد ہونے والے شملہ معاہدہ کو دیکھ لیا جائے تو تنازعہ دو ملکوں کے درمیان تھا جسے باہمی مذاکرات اور کشمیریوں کی منشا کے مطابق حل کیا جانا تھا۔اقوام متحدہ کی1948ء کی قرارداد یا اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے وعدے بھی سوموار کے بھارتی اقدام کی بھینٹ چڑھ گئے پچھلے70برسوں سے عالمی ضمیر تنازعہ کشمیر کے حوالے سے کبھی نہیں جاگ سکا۔یہاں تک کہ کشمیریوں کے آزادی کے جاری مرحلہ میں ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کی شہادت اور مساوی تعداد میں زخمی ہونے یا3600 عصمت دری کے واقعات رپورٹ ہونے کے باوجود عالمی امن انصاف آزادی اور انسانی حقوق کے علمبردار چین کی نیند سوئے رہے۔ مشرقی تیمورجنوبی سوڈان کے معاملہ پر راتوں رات بیدار ہونے والا عالمی ضمیر کشمیریوں کی چیخ وپکار پر بھی بیدار نہ ہوا،پچھلی سات دہائیوں میں ہمارے یہاں یہ موقف تواتر ے کے ساتھ سامنے آیا کہ اگر پاکستان کشمیری عوام کی اکثریت کی خواہش کے مطابق خود مختارکشمیر کی حمایت کرے تو الحاق پاکستان کے مقابلہ میں اسے بہتر عالمی پذیرائی ملے گی۔اس رائے کے حاملین کے ساتھ ریاست،میڈیا اور کاروباری مذہبی جماعتوں نے جو سلوک کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔حالانکہ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں تھا کہ جناب مقبول بٹ کی شہادت سے آزادی کی جس تحریک نے جنم لیااس کی قیادت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے پاس تھی اور جے کی ایل ایف خود مختارکشمیر کے موقف پر سیاسی و عسکری جدوجہد کررہی تھی اپنے علاقائی مفادات کے پیش نظر ہم نے پہلے جماعت اسلامی کی سرپرستی کی جو 1980ء کی دہائی کے وسط میں ہونے والے انتخابات تک نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں انتخابات میں حصہ لیتی رہی جبکہ جناب سید گیلانی ریاستی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے،دوسرا ستم یہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر میں پاکستانی سیاسی جماعتوں کی شاخیں قائم کی گئیں۔ بد قسمتی سے اس کی ابتداء جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے ہوئی جب آزاد جموں کشمیر پیپلزپارٹی قائم ہوئی پھر جماعت اسلامی اور اگلے مرحلے پر تو لائن لگ گئی۔ تحریک آزادی کے غیر مقامی شراکت داروں نے بھی بھارتی کشمیر کے اندر بہت سارے سماجی مسائل پیدا کئے۔

المیہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ مسائل ومشکلات اور خود کشمیریوں کی اکثریت کے فہم کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی مناسب ترین سوال بہر طور یہ ہے کہ داخلی طور پر معاملہ کچھ بھی رہا ہو گلگت بلتستان کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور نیم صوبائی درجہ دینے کے فیصلہ نے بھی مسائل پیدا کئے تو ہم کیوں ان سے انکار کررہے ہیں ۔سوموار کے بھارتی اقدام سے ایسا لگتا ہے کہ بھارت اور امریکہ سی پیک کے معاملہ پر ایک پیچ پر ہیں۔سی پیک کا روٹ گلگت و بلتستان کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا اور بھارت اس پر دعویدار ہے۔ یہ بھی بہت عجیب لگ رہا ہے کہ خطہ اس وقت بحران سے دوچار ہے اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی حج پر تشریف لے جا چکے ہیں۔ کہیںیہ بھی تو کسی حکمت عملی کا حصہ نہیں؟۔لاریب ہمیں بھارت کے جارحانہ طرز عمل سوموار کے فیصلے پر صدارتی فرمان کے اجراء اور دیگر مسائل پر ٹھوس موقف اپنانا ہوگا مگر زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ اس تنازعہ کے اصل فریق کشمیریوں کو آزادی کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنے دیا جائے۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں