Daily Mashriq

اے دنیا کے منصفو، سلامتی کے ضامنو !

اے دنیا کے منصفو، سلامتی کے ضامنو !

عید قربان عید الاضحی یا بڑی عید کے مذہبی تہوار کی خوشیوں کو پاکستان کے72 ویں جشن آزادی کی خوشیاں دو آتشہ کردیں گی اور جشن آزادی پاکستان کی خوشیوں کے سونے پر عید الاضحی کی خوشیوں کا سہاگہ چڑھ جائے گا ۔ ہم اپنے سجن بیلیوں کو عید کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ اللہ کرے آپ کا ہر دن عید کا دن بن کر آئے اور آپ کی زندگی کی ہر رات شب برات ثابت ہو۔ شب برات کو کچھ لوگ شب رات بھی کہتے ہیں اور بہت سے لوگ اسے شب بارات کہہ کر بھی پکارتے ہیں۔ اور بعض اوقات تو شب برات کو شب رات کہنے والے یہاں تک کہہ دیتے ہیں کے آج شب رات کی رات ہے۔ ایسے لوگوں کی زبان سے شب برات کے متعلق اس قسم کے الفاظ سنکر ہمیں بھولا باچھا یاد آجاتا ہے جس سے کسی پوچھنے والے نے کہا کہ اتنی دیر سے کیوں آئے ہو، جس کے جواب میں وہ کہنے لگا کہ جی میں سنگ مر مر کے پتھر پر بیٹھا آب زمزم کے پانی سے وضو کر رہا تھا۔ بھولے باچھا کو کیا خبر تھی کہ وہ اس جملے میں لفظوں کے استعمال کی کتنی ہیرا پھیریاں کر رہا ہے۔

کسی کے آنے سے ساقی کے ایسے ہوش اڑے

شراب سیخ پر ڈالی کباب شیشے میں

کوئی آئے نہ آئے ، ہوش اڑیں یا نہ اڑیں ، انسان خطا کا پتلا ہے اس سے غلطیاں ہوتی ہی رہتی ہیں ، لفظی غلطیاں تو مجھ جیسی عامیانہ گفتگو کرنے والے لوگ اکثر کرتے رہتے ہیں۔ نہ صرف عام بول چال کے معاملے میں وہ پیدل ہوتے ہیں بلکہ تحریروں میں بھی وہ اپنی علمیت کا ایسا ہی مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ مثلا کوئی درخواست یا عرضی لکھتے وقت برائے مہربانی فرماکر جیسے الفاظ لکھتے وقت اس بات کا احساس نہیں کرتے کہ مہربانی سے پہلے لگنے والا' برائے 'مہربانی کے بعد استعمال ہونے والے 'فرما' اور 'کر کے' اضافی ہی نہیں ایک جیسے معنی کے حامل الفاظ ہیں ، کچھ لوگ خط و کتابت کرتے وقت اکثر لکھا کرتے ہیں کہ ' میں خیریت سے ہوں اور آپ کی خیریت نیک مطلوب چاہتا ہوں' ۔ اب کون ہو جو ان کو سمجھائے کہ بھائی مطلوب اور چاہتا ہوں کے معنی ایک ہی جیسے ہیں ایسا کرکے آپ زبان و بیان کی غلطیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ مگر کون پرواہ کرتا ہے ان باتوں کی۔ ہم نے' شبراتی' سے اس کے نام کے معنی جاننا چاہے۔ بتانے لگا کہ میں جس رات پیدا ہوا تھا اس رات شب رات تھی۔ شب کے ساتھ رات رات رات کی اس تکرار نے ہمیں چکرا کر رکھ دیا۔ بھلا ہم کب اور کیسے سمجھا سکتے تھے شبراتی کوشب برات، شب رات اور شب بارات میں فرق ، ہم ہنس دئیے ، ہم چپ رہے ، منظور تھا پردہ ترا، کے مصداق ہم نے خاموش رہنے ہی میں بھلائی ڈھونڈی، جس طرح شب برات کو شب رات یا شب بارات کہنے والوں نے جو منہ میں آیا کہہ دیا کی روایت نبھا دی اسی طرح عید الاضحی کو بھی بڑی عید بکرا عید عیدالبقر عید قربان سلونی عید، نمکین عید جیسے ناموں سے نواز کر گلاب کے پھول کو جس نام سے پکارو وہ گلاب کا پھول ہی رہتا ہے کا برسرعام مظاہرہ کیا جاتا ہے ۔ عید الاضحی کے اتنے سارے نام رکھدئیے یہ مذہبی تہوار، لیکن جشن آزادی پاکستان منانے والوں کو تو ابھی ایک صدی بھی نہیں گزری، خیر سے72 واں جشن آزادی پاکستان منارہے ہیں ہم14اگست 2019ء کو ، اللہ مبارک کرے قومی اور دینی خوشیوں کے یہ تہوار ، لیکن ہمیں بادلوں کی اس گھن گرج سے غافل نہیں رہنا جو اپنے اندر نفرتوں کے طوفان چھپائے ہماری سرحدوں پر دندنا رہے ہیں ، ہم نے پورے72برس ان طوفانوں کا مقابلہ کرکے اپنی آزادی کو برقرار رکھا، بھارت میں مقید مسلمان عید قربان کے موقع پر گائے یا اس کے خاوند کے گلے پر چھری نہیں پھیر سکتے ، لیکن ہمارے ہاں سنت ابراہیمی ادا کرنے کے لئے بیل کو قربانی کا پسندیدہ جانور سمجھا جاتا ہے ، جہاں مذہبی تہوار تک منانے کی آزادی نہ ہو وہاں بسنے والے بدنصیب کس گھٹن کا شکار ہونگے ، اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو آزادی کی نعمت سے محروم ہوتا ہے ، کشمیر کو ہم

اگر فردوس بر روئے زمیں است

ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

کہہ کر پکارتے ہیں ، لیکن بھارت کے جنگی جنونیوں نے مقبوضہ کشمیر کو جہنم کے انگاروں میں جھونک رکھا ہے ، جب سے امریکہ نے کشمیر کے مسئلہ کی ثالثی کا عندیہ دیا ہے ، اس روز سے بھارتی جہنمی اپنی طاغوتی قوتوں کو مظلوم اور نہتے کشمیریوں پر آزمانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑرہے بہاروں ، خوش رنگ نظاروں اور چنارو ں کا دیس کشمیر جنت نظیر کل بھی سلگتا رہا ہے آج بھی چناروںکی وادی انگاروں کی وادی بن کر ہماری غیرت کو للکار رہی ہے ، وزیر اعظم پاکستان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اپنی72سالہ آزادی کے دشمن بھارت کو دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ کشمیر کے نہتے عوام کی آزادی کوکچلنے کے ناپاک عزائم سے باز آجائے ورنہ کشمیری ایک بار پھر پلوامہ جیسے افسوسناک سانحہ کو دہرانے پر مجبور ہوجائیں گے ، کشمیر کو قائد اعظم نے پاکستان کی شہ رگ کہا ہے اور بھارت نے اس شہ رگ کو کاٹنے کی ٹھان رکھی ہے ، اس لئے اگر ہم ایک طرف عید الاضحی کی خوشیاں منانے کی تیاریاں کررہے ہیں او ر دوسری طرف پاکستان کی آزادی کا72سالہ جشن تواس دوران ہمیں وزیر اعظم پاکستان کی آواز میں آواز ملا کرکہتے رہنا چاہئے کہ

اے دنیا کے منصفو !، سلامتی کے ضامنو ! !

کشمیر کی جلتی وادی میں ، بہتے ہوئے خون کا شور سنو

متعلقہ خبریں