Daily Mashriq

رب اک گنجل دار بجھارت

رب اک گنجل دار بجھارت

کس نے کہا

رب اک گورکھ دھندہ

اس گنجل نوں کھوجن لگیاں

کافر ہوجائے بندہ''

اور پھر خیال آتا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وقت کو برا نہ کہو کیونکہ میں ہی تو وقت ہوں' میرے ہی ہاتھ میں رات اور دن ہیں۔ پھر یاد آتا ہے کہ بتا تو دیاگیا تھا کہ ہمارا رب ہمارے درمیان دنوں کو گردش دیتا ہے۔ پھر ٹھیک ہی تو ہے کہ رب اک گنجل دار بجھارت ہے۔ لیکن اس کی انگنت کرم نوازیاں ہیں جو انسان کو نظر آتی ہیں وہ پھر بھی کہتا ہے کہ میںد یکھ نہیں سکتااور یہ کہ اس کا وقت اچھا نہیں۔ کیسی عجیب باتیں ہیں اور ان باتوں کا کسی کو مکمل ادراک نہیں کہ وہ جو دکھائی دیتا ہے اس میں ہمارے رب کی کیا مصلحت ہے اور وہ جو ہو رہاہے اس میں کیا حکمت ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ غور سے دیکھنے سے ان دنوں کے پھیر کا پتا چلتا ہے اور جو کوئی دیکھنا نہ چاہے اور اپنے مالک کی کبریائی کا احساس نہ کرنا چاہے تو یہ اس کا اپنا نقصان ہے۔ یہ جو دنوں کاپھیر ہے اسمیں بھی کمال کی گنجلتا ہے۔ ہم جو یہ سوچتے ہیں کہ یہ وقت ایک سیدھ میں آگے کو بڑھتا چلا جاتا ہے اور جو لمحہ گزر گیا وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتا' مجھے لگتا ہے کہ ایسا کچھ بھی تو نہیں ہے۔ یہ وقت تو دائروں میں ہے۔ دائروں میں گردش کرتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے پیچھے انہی دائروں میں سفر کرتے رہتے ہیں۔ بچہ باپ کا ہاتھ تھام کر اس کے پیچھے چلنا شروع کرتا ہے' سفر کرتے کرتے وہ اپنے ہی باپ کے نقش قدم میں اپنے پیروں کے نشان بنتا رہتا ہے۔کب بچہ باپ بنتا ہے اور وہی جملے جو باپ نے بولے تھے دہراتا ہے' کب ان ہی معاملات کا سامنا کرتا ہے جو باپ نے کئے تھے' کب وہ اپنے باپ کی سوجھ بوجھ کو سمجھنے لگتا ہے' معلوم ہی نہیں ہوتا۔ خاموشی سے شروع کئے گئے سفر میں آوازیں تو بھرتی جاتی ہیں لیکن یہ آوازیں وہی ہوتی ہیں' پرانی آوازیں' پرانے لہجے' صرف بولنے والے لب فرق ہوتے ہیں' نام فرق ہوتے ہیں۔ کیسی حیرت کی بات ہے کہ زندگی چلتی ہی نہیں' وہیں دائروں میں قید رہتی ہے۔ انسان اپنے ہی بڑوں کی زندگی جیتا ہے اور انہی کی طرح اس دنیا سے گزر کر دوسری جانب جاکھڑا ہوتا ہے۔ یہ دنیا بھی کمال ہے۔ اس گیند میں سب بند ہے۔ وقت' وسائل' آوازیں' زندگی' سب کچھ۔ اس گیند سے نکل جانے کاایک ہی طریقہ ہے کہ وہ زندگی جو اس گیند میں قید ہے اس سے نکل جایا جائے۔ کیسی حیرت انگیز حقیقت ہے کہ اس دنیا میں وسائل' انسان' زندگیاں' وقت' آوازوں اور فہم کی ایک مقررہ تعداد قید کرکے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اپنے معاملات کو سلجھانے اور الجھانے کاوقت اور آزادی دے رکھی ہے۔ گنجل دار بجھارت تو ہے لیکن اس نے خود ہی سرے پکڑا رکھے ہیں۔ جہاں فہم کی حدوں کے آگے تاریکی اور خاموشی کا آغاز ہوتا ہے وہاں دعا سے اس خلا میں روشنی اور آواز بھری جاسکتی ہے۔ کوئی کیا کہے اس کا طریقہ بھی بتادیاگیا۔ یہ طریقہ بھی بڑا سادہ ہے' دل کو جگانا ہے۔ اس میں سے جو آواز آئے مالک دو جہاں سے وہ دعا مانگ لینی ہے اور سب جانب روشنی ہو جائے گی۔یہ دنیا بڑی ہی خوبصورت ہے۔ وقت اپنی گنجلتا کے باوجود سنہرا ہے۔ دنوں کے پھیر میں کسک ہے لیکن خوشی کی جلترنگ بھی ہے اور مدھم مسکراہٹیں بھی۔ کتنی خوبصورتی ہے جو ہمارے ارد گرد مسلسل بکھری رہتی ہے اور ہم کیسے عجیب کہ بنا سجدے میں سر جھکائے گزارا کرلیتے ہیں۔ ہر ایک دن سورج کے اگنے کی روپیلی کرنوں کو دیکھ کر سجدے میں گر جانے کو جی چاہتا ہے۔ بارش کے قطرے کا مٹی پر گر کر اس کی خوشبو کو جگا دینا' معجزہ محسوس ہوتا ہے۔ بچے کا ماں کی جانب لپک کر آنا دل کو رب کریم کی محبت سے لبریز کردیتا ہے۔ ماں کی دعا پر بچے کی آنکھ میں امید کے چراغ جلا دینا اپنے مالک کی نعمتوں کا اعادہ ہے، میرا مالک خطائیں معاف کرتا ہے' ہماری غلطیوں کو ہمارے خلاف درندوں میں ڈھل جانے نہیں دیتا کہ وہ ہمیں ہماری نادانیوں پر پھاڑ کھائیں۔ میرے مالک میں بڑی انا ہے۔ ہم پکاریں تو وہ جواب دیتا ہے۔ ہمیں آسرا بھی دیتا ہے' وہ کمال ہے اور اس کے بارے میں جو گمان کیاجائے وہ ویسا ہے۔ وہ گورکھ دھندہ ان کے لئے ہے جو اسے اپنے فہم کی آنکھ سے تراشنا چاہتے ہیں۔ وہ تو گمان' فہم ادراک سب سے بڑھ کر ہے۔ گورکھ دھندہ وہ نہیں ہماری فہم کا محدود ہونا ہے اور یہ جب سمجھ آجائے توپھر انسان مطمئن ہوجاتا ہے۔ اپنے رب کی محبت میں گم ہوجاتا ہے۔

متعلقہ خبریں