Daily Mashriq

فاشسٹ ہندوستان کا مکروہ چہرہ

فاشسٹ ہندوستان کا مکروہ چہرہ

بر صغیر کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والوں میں اس وقت کے ہندوستان کے بہت سارے سیاسی رہنما میدان عمل میں تھے۔ ہندوئوں کے سپنوں کا راجہ مہاتما گاندھی اس جدوجہد میں پیش پیش تھے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں انڈین نیشنل کانگریس میں ہندو مسلم اتحاد کے مبلغ کے طور پر سامنے آئے لیکن بہت جلد ان پر یہ حقیقت آشکارا ہوگئی کہ انگریز کے جانے کے بعد مسلمانان ہند ہندوئوں کے تسلط کے زیر اثر آجائیں گے۔ لہٰذا اس دور کے وہ مسلمان رہنما جو پاکستان کی آزادی اور قیام کا تصور پیش کرتے رہے آج ان کی تاریخی بصیرت کو سلام پیش کرنا ضروری ہے۔ آج کا ہندوستان وہ ہندوستان نہیں رہا جہاں رواداری' بھائی چارہ اور تحمل و برداشت کا ماحول پایا جاتا تھا۔ آج کا ہندوستان راشٹریہ سیوک سنگھ کا فلسفہ لئے ہوئے ہے اور ہندوستان کو صرف ہندوئوں کا وطن قرار دیا جارہا ہے۔ بی جے پی 1982 کے الیکشن میں صرف دو ممبران اسمبلی منتخب کرانے میں کامیاب ہوئی تھی جبکہ اب ان کی اکثریت ہے جس سے ہندو اکثریت کی ذہنیت کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔ نریندرا مودی نے کچھ عرصہ پہلے ڈھاکہ یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو تقسیم کرنے کا سہرا ہمارے سر ہے اور بنگلہ دیش کا قیام ہمارا کارنامہ ہے۔ تقسیم کے وقت ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ نے کشمیر کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کیا اور شیخ عبداللہ جیسے بھارت نواز کشمیری رہنمائوں نے کچھ تحفظات کے ساتھ کشمیر کو ایک ریاست کے طور پر دینے کی حامی بھری۔ یہ آرٹیکل 370 بھارتی آئین میں کشمیر کی انفرادیت کو واضح کررہا تھا لیکن گزشتہ روز بھارتی پارلیمنٹ نے اس آرٹیکل کو کالعدم قرار دے کر کشمیر کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کرکے لداخ اور جموں کشمیر کو بھارتی یونین کے دو حصوں کا درجہ دے دیا یوں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو بھارتی پارلیمنٹ نے ختم کردیا اور منطقی طور پر مقبوضہ کشمیر اور پاکستانی آزاد کشمیر کے درمیان لائن آف کنٹرول بھی ختم ہوگئی۔ یہ سارا کھیل تو بھارتی حکمرانوں کی اس ذہنیت کا عکاس ہے جس کے پیچھے نریندر مودی کے استاد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا وہ سبق ہے جو مودی کو بار بار پڑھاتے رہے کہ کشمیر کے تنازعے کو ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسرائیلی فارمولے پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں کی نسل کشی شروع کردے اور وہاں پر ہندوئوں کو آباد کرنے کی سعی کرے تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔لیکن شاید نیتن یاہو اور مودی دونوں بھول چکے ہیں کہ جو قوم آزادی کے حصول کے لئے پر عزم ہو کوئی آئینی ترمیم یا کاغذی کارروائی ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ انگریز کو بر صغیر کو آزادی دینی پڑی اور فرانس الجزائر پر تمام تر قوت کے باوجود اپنا قبضہ برقرار نہ رکھ سکا تھا۔ آج اگر گاندھی زندہ ہوتا تو شاید وہ سیاسی جلا وطنی کے لئے برطانیہ سے رجوع کرتے اور جواز یہ فراہم کرتے کہ ان کے پیش کردہ سیاسی نظریات پر ہندوستان میں عمل نہیں ہو رہا۔ راشٹریہ سیوک سنگھ کی سوچ نے ہی گاندھی کو قتل کرڈالا تھا۔ کشمیر کی متنازع حیثیت ختم کرنے کی بھارتی خواہش ہندوستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا آغاز ہے۔ کشمیر' خالصتان' آسام' نگا لینڈ اور دیگر ریاستوں میں آزادی کاعمل تیز ہوجائے گا اور پھر شاید مودی یا بی جے پی ہندوستان کاوہ خواب نہیں دیکھ سکیں گے جس کے تکمیل کے لئے انہوں نے اخلاقیات اور انسانیت کی ساری حدیں پار کردی ہیں۔ کشمیر ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے ' اس کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کی گواہی پنڈت جواہر لال نہرو کی روح آج بھی دے گی۔ کشمیر پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کئی جنگیں ہوچکی ہیں۔ ہندوستانی فوجی حیوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری خواتین کی عصمت دری کر رہے ہیں' جوانوں کو قتل کر رہے ہیں' بزرگوں کو جیل میں ڈال رہے ہیں لیکن ہمارے کشمیری بہن بھائی پوری آب و تاب سے آزادی کی شمع کو جلائے رکھنے میں مصروف ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ وہ آزادی حاصل کرکے رہیں گے انشاء اللہ۔ اگر ہم آج کل کی دنیا کی سیاسی ترجیحات کا مطالعہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کشمیر کے حوالے سے عالمی ضمیر خاموش ہے۔ یہ عالم اسلام اور پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ ہندوستانی ظلم و ستم سے دنیا کو آگاہ کرے اور ان پر زور دے کہ دوہرا معیار اس دنیا کو جہنم بنا دے گا۔ اسلامی ممالک کا فرض ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کااحساس کریں' غیروں کے کٹھ پتلی نہ بنیں اور فلسطینی اور کشمیری عوام کے دکھوں کا مداوا کریں۔چونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس لئے ہم پر سب سے زیادہ ذمہ داری آن پڑتی ہے۔ وزیر اعظم فی الفور اسلامی ممالک کے دورے شروع کرے' دنیا کے اہم غیر اسلامی ممالک میں جا کر کشمیر کا مسئلہ پورے تاریخی پس منظر کے ساتھ اجاگر کرے۔ وفود بھیجنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ مولانا فضل الرحمن پہلے فارن افیئرز کمیٹی کے چیئر مین رہے پھر کشمیر کمیٹی کے چیئر مین رہے' صرف سیاحت کا ایک ذریعہ تھی یہ چیئر مین شپ۔ اب ان سارے مسائل پر بھرپور سنجیدگی دکھانی ہوگی۔ ہندوستان اسرائیلی فلسفے پرعمل کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ ہمیں زیادہ بیدار اور منظم طریقے سے ان کی چالوں کو سمجھنا ہوگا۔ پاکستان کی حکومت ، مسلح افواج اور پوری پاکستانی قوم کشمیر کی آزادی تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ اب بھی وقت ہے کہ ہندوستانی قیادت ہوش کے ناخن لے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے مندروں کی گھنٹیاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوجائیں۔

متعلقہ خبریں