Daily Mashriq


افغان عوام کی بد قسمتی

افغان عوام کی بد قسمتی

افغان عوام کی بد قسمتی رہی ہے کہ ان کو بہت کم وقت سکون و آرام سے زندگی بسر کرنے کے لئے ملا ہے ، افغانوں کی تاریخ میں جو افغان عوام کے مصائب و ابتلا سے بھرپوور زندگی سے بھری پڑی ہے ، کبھی بیرونی حملہ آور اور کبھی اندرونی طور پر اقتدار کے لئے رسہ کشی نے افغان عوام کو سکون کی زندگی بسر نہیں کرنے دی ۔گزشتہ چار عشروں کی اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس میں آگ اور خون کے علاوہ ہمیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ اس میں ایک بات قابل افسوس ہے کہ افغان عوام کو ہمیشہ اپنے ہی حکمرانوں کے ہاتھوں یہ حالات دیکھنا پڑ رہے ہیں ۔ 

ببرک کارمل افغانی تھا جو سوویت ٹینکوں پر سوار ہو کر اور اپنے افغان عوام کو کچلتے ہوئے کابل پر قابض ہوا تھا ، لاکھوں افغانی اس جنگ میں لقمہ اجل بنے لاکھوں افغانی در بدر ہوئے جو آج تک مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ سوویت یونین کے بعد جو رہی سہی کسر باقی تھی وہ عسکری گروپوں کی آپس کے خون ریز خانہ جنگی نے پوری کی جس میں کابل کھنڈرات میں تبدیل ہو گیا ۔افغان عوام کو خانہ جنگی سے نجات نہیں ملی تھی کہ امریکہ نے دوسرے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغان عوام پر بی باون طیاروں سے کارپٹ بمباری شروع کی واضح رہے کہ امریکہ کا افغان عوام پر بمباری میں کرزئی اور اس قبیل کے دوسرے لوگوں نے ساتھ دیا جو ہنوز جاری ہے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کبھی بھی اچھے تعلقات قائم نہ ہو سکے ۔ بھارت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ جس طرح بھی ہو پاکستان کو کمزور کیا جائے جس کے لئے وہ مختلف محاذوں پر سرگر م عمل ہے ۔ بھارت کے ان مذموم عزائم میں افغانستان اس کا سپورٹر اور پارٹنر ہے ، سوائے طالبان کے چند سالہ دورِ حکومت کے بھارت نے ہمیشہ سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا ہے ۔ گریٹر پختونستان کے نعرے کا اصل خالق بھی بھارت ہے ، بھارت گریٹر بھارت کا خواب پورا کرنے کے لئے افغانستان کو گریٹر پختونستان کا خواب دکھا رہا ہے جو اسی طرح ایک بے تعبیر خواب ہے جس طرح کہ خود گریٹر بھارت۔ مطلب یہ کہ بھارت نے افغانستان کو ایک سراب کے پیچھے لگا دیا ہے اور افغان حکمران بھی زمینی حقائق کا ادراک کئے بغیراس سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ ہندوستان اور اس کے سرپرستوں نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے افغانستان کے سماجی ، اخلاقی اور مذہبی اقدار پربھی وار کیااور افغانستان کو کمیونسٹ رنگ میں رنگتے ہوئے وہاں آزادی کے نام پر افغانستان کی مذہبی اور اخلاقی اقدار کو پامال کرنے کی کوشش کی ۔ افغانستان میں موجود کچھ قوتیں شروع ہی سے اس طرز عمل کے خلاف تھیں وہ اپنی مذہبی اور اخلاقی اقدار کو پامال ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھیں مجبوراََ ان قوتوں نے اس طرز عمل کے خلاف مسلح جد وجہد شروع کی جو تا حال جاری ہے ۔ افغانستان میں عشروں سے جاری خونریزی دو سوچوں اور دو نظریوں کے درمیان جنگ ہے دونوں برتری حاصل کرنے کے لئے آپس میں برسرپیکار ہیں ۔ افغانستان میں مسلح جدوجہد اور عسکری کارروائیوں کی تاریخ سوویت یونین کے افغانستان پر حملے سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی جس کا مقصد بھارتی لابی کا افغانستان میں اپنے مذموم عزائم کو دوام بخشنا تھا یعنی پاکستان کو افغانستان کا دشمن قرار دے کر اپنی سازشوں کوآسانی سے جاری رکھناتھا ۔ سوویت یونین کے افغانستان پر حملے سے پہلے افغانستان میں ایسے کیمپ قائم تھے جو پاکستان میں دہشتگردی کرنے والوں کے لئے ٹریننگ کیطور پر استعمال ہوتے تھے ۔ ان تمام واقعات کا اور سازشوں کا جو افغانستان میں پاکستان کے خلاف ہو رہی تھیں ایک چشم دید گواہ اور سہولت کار پروفیسر صوفی جمعہ خان اپنی کتاب میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈال چکے ہیں اور وہ سارے کردار بھی واضح کر دئییجو پاکستان کے خلاف استعمال ہوتے تھے ۔ جب بھی پاک افغان تعلقات بہتر کرنے کی کوشش ہوتی ہے خفیہ ہاتھ بھی حرکت میں آ جاتا ہے اور بارڈر کے دونوں طرف دہشتگردی کی لہر شروع ہو جاتی ہے جس کا اختتام ایک دوسرے پر الزامات پر ہوتا ہے ۔ پاک فوج کی قیادت کی طرف سے افغانستان کا دورہ اور افغان صدر کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت کے بعد بارڈر کے دونوں طرف دہشتگردی کے پے در پے کئی خونریز واقعات رونما ہو چکے ہیں جس سے اس فضا کو مکدر کرنا مقصود ہے جو آرمی چیف کے دورہ کابل سے بنا تھا ۔

افغان حکمرانوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیئے کہ دوست اور دشمن بدل سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے اور پڑوسی کے گھر میں پتھر پھینک کر کوئی اپنا گھر محفوظ نہیں رکھ سکتا ۔ افغان عوام بھی اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ افغانستان کے کوتاہ اندیش لیڈر ہندوستان کے مفاد کے لئے ان کا خون بہا رہے ہیں۔ عشروں سے افغان عوام بلا روک ٹوک پاکستان آتے جاتے تھے لیکن افغان حکمرانوں کے پاکستان دشمن اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کو مجبوراََ بارڈر سیل کرنا پڑا جس کی وجہ سے اب افغانی ویزے کے بغیر پاکستان میں داخل نہیں ہو سکتے ۔ جس سے دونوں ممالک کی معیشت پر بھی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ہمارے آپس کے تعلقات بھی متاثر ہو رہے ہیں ۔ یہاں اگر ہم غور کریں تو سب سے زیادہ پشتون آبادی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ شمال مغربی علاقے میں رہنے والے افغانوں نے ایران ترکمانستان اور ازبکستان وغیرہ سے اپنی تجارت شروع کی ہے اور پشتونوں کا زیادہ انحصار پاکستان پر ہوتاہے کیونکہ پشتون پاکستان کے ساتھ بارڈر پر موجود ہیں اس لئے پاکستان کے ساتھ بگاڑ سے پشتونوں کی اقتصادی حالت بھی متاثر ہوئی ہے ۔ افغانستان میں پائیدار امن اور ترقی کے لئے افغان عوام کو بالخصوس پشتونوں کو نام نہاد لیڈروں اور ان کے بے بنیاد اور جھوٹے پروپیگنڈے کے خول سے نکلنا ہوگا اور اپنی آنے والی نسل کے بہتر مستقبل کے لئے زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہوگا ورنہ یہ نام نہاد لیڈر اسی طرح ان کو دوسروں کے مفاد کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں