Daily Mashriq


45ماہ کاکام

45ماہ کاکام

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعدتاحال حکومت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ موجودہ حالات حکومت کے لیے ناساز گار ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجود ہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پائے گی۔ 

گزشتہ دنوں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین پیرزادہ سے ملاقات میںموجودہ بحران کے حوالے سے گفتگوہوئی تو انہوں نے بتایا کہ حکومت کے خلاف جس طرح کا عمومی تاثر قائم کیا جا رہا ہے ،حقیقت میں حالات ویسے نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ میاں ریاض حسین پیرزادہ اپنے دو ٹوک مؤقف اورکھری باتوں کی وجہ سے تمام سیاسی حلقوں میں مشہور ہیں۔ میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس کر کے اپنی ہی پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں شہباز شریف کو پارٹی قیادت سنبھال لینی چاہیے۔ قحط الرجال کے دور میں ایسے لوگ بہت کم رہ گئے ہیں جو اپنے لوگوں پر تنقید کریں اور ان کی شنوائی بھی ہو۔ پیرزادہ صاحب نے بتایا کہ اگرچہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نا مساعد حالات میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی ہے لیکن موجودہ حالات میں چند حوالوں سے شاہد خاقان عباسی اس وقت مقبول وزیر اعظم ہیں۔ اس لیے کہ

وہ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔

ان کے دروازے ہر کسی کے لیے اورہر وقت کھلے رہتے ہیں۔

وزراء کو ان کے ساتھ رابطے اور بیرون ملک دورے کے لیے کوئی مشکلات نہیں۔ وزراء اپنی اپنی وزارت میں بااختیار ہیں۔

گورننس میں واضح فرق آیا ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ سب جماعتوں کے لیے قابلِ قبول ہیں۔

ان کی عاجزی ‘ وضع داری کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب انہوں نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملنے کیلئے خود ان کے پاس چل کر گئے۔

صوبوں کو وفاق سے یہ گلہ تھا کہ وفاق ان کا حق نہیں دے رہا‘ وزیر اعظم عباسی نے صوبوں کو ان کے حقوق دینے شروع کر دئیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب صوبوں کی طرف سے اپنے حقوق کے لیے احتجاج نہیں کیا جا رہا۔

وزیر اعظم عباسی کا خاص وصف یہ رہا ہے کہ دیگر جماعتوں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگیوں کے لیے متفقہ طور پر قابلِ قبول ہیں کیونکہ جب میاں نواز شریف کو نااہل کیا گیا تو جماعت میں اندرونی طور پر ایک ہلچل پیدا ہو گئی تھی اور خدشہ ہو چلا تھا کہ شاید جماعت ٹکڑوں میں بٹ جائے۔ اسی کے پیش نظر وزارت عظمیٰ کے لیے شہباز شریف کا نام سامنے لایا گیا جس سے پارٹی کے اندر پایا جانے والا خلفشار وقتی طور پر تو تھم گیا لیکن اس کا مستقل سدباب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی معاملہ فہمی سے دیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ آج مسلم لیگ یکجا و متحد ہے بلکہ دھیرے دھیرے چیلنجز پر بھی قابو پایا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ ن کی خواہش ہے کہ کسی طرح اپنی آئینی مدت پوری کی جائے ، اس دوران نامکمل منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے اور آئندہ انتخابات میں اپنے ترقیاتی منصوبوں کو کیش کرایا جائے‘ سو اس مقصد کے لیے کسی ایسے لیڈر کی ضرورت تھی جو نرم خو ہو اور معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کا فن جانتا ہو۔کیونکہ مسلم لیگ پہلے ہی عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آراہے۔

جہاں تک ہمارا خیال ہے جس طرح وزیر اعظم عباسی معاملات کو چلا رہے ہیں اگر اسی طرح مئی 2018تک معاملات چلتے رہے تو مسلم لیگ ن کی حکومت لوڈشیڈنگ کا خاتمہ‘ میٹرو بس سروس،لاہور میں اورنج ٹرین ‘ ڈالر کی قیمت کو کنٹرول کرنے سمیت سی پیک کا کافی کام کر چکی ہو گی‘ دوسری اہم بات یہ ہے کہ موجودہ حکوممت کے ترقیاتی منصوبوں کے بر عکس دیگر جماعتوں کی کارکردگی بہت کم ہے‘ اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن کے مدِ مقابل سیاسی اعتبار سے تحریک انصاف ہے ‘ جس نے بلاشبہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں اور اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں سسٹم کی اصلاح کے لیے کافی کوشش کی ہے لیکن پاکستان کے عوام کا جو عمومی مزاج ہے وہ ترقیاتی منصوبوں کو دیکھ کر موازنہ کرنے کے عادی ہیں ۔

مثال کے طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ترقیاتی کاموں میں موازنہ کرکے عوام اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کونسا صوبہ آگے ہے ۔ موجودہ حالات میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جس طرح حالات کو سنبھالا دیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد یہ جملہ سوچ سمجھ کر کہا تھا کہ ’’وہ آئے تو 45دنوں کیلئے ہیں لیکن کام 45مہینوں کا کریں گے‘‘ ۔اہم بات یہ بھی ہے کہ انہوںنے ناگفتہ بہ حالات کے باوجود جمہوریت کو پٹڑی سے نہیں اترنے دیا، ہم سمجھتے ہیں گو پاکستان میں جمہوریت نے اس قدر ثمرات نہیں دیئے جس قدر دیگر ممالک میں جمہوریت کے ثمرات نظر آرہے ہیںلیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ان چند اسلامی ممالک میں سے ایک ہے جس میں جمہوریت رائج ہے ،جمہوریت کا اپنا ارتقائی عمل ہوتا ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اگر جمہوریت کو چند سال تسلسل کے ساتھ کام کرنے دیا گیا تو ہمارے تمام دیرینہ مسائل حل ہو جائیں گے۔

متعلقہ خبریں