Daily Mashriq


 پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بدولت اب جرم کو چھپانا مجرم کے لیے آسان نہیں رہا۔ کیونکہ اب مہینوں کا کام منٹوں میں، منٹوں کا محض ایک لمحے میں کیا جاسکتا ہے۔ دیگر شعبہ جات کی طرح محکمہ پولیس نے بھی فورس کے جوانوں کو جدید ٹیکنالوجی آلات سے لیس کرنے کے لیے کئی ایک اقدامات اُٹھائے ہیں۔ جن کے استعمال سے دہشتگردوں اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف حوصلہ افزاء مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ان آلات کے استعمال اور اقدامات سے نہ صرف مطلوبہ اعداد و شمار اکٹھا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ بلکہ جرائم کے موثر تدارک اور تفتیش میں بھی ریڑھ معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے پولیس جرائم کی روک تھام اور تفتیش کے لیے پرانے روایتی آلات اور طریقے استعمال کرتے تھے۔ جبکہ دوسری جانب جرائم پیشہ افراد جرائم کی سرزدگی کے لیے آئے روز جدید طریقے استعمال کرتے تھے۔ اور نت نئے طریقے سے واردات کرکے پولیس کے لیے بڑا چیلنج بن جاتے۔ موثر جدید آلات کی عدم دستیابی کے باعث پولیس چیک پوسٹوں پر تعینات عملے کو جرائم پیشہ اور شرپسند عناصر کو پکڑنے میں دشواری اور مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا تھا۔ جس سے پولیس کی کارکردگی پرمنفی اثرات مرتب ہوتے تھے۔ اسی طرح انسداد دہشت گردی کے قوانین اور کرایہ کی عمارتوں اور ہوٹلوں سے متعلق قوانین کے پاس ہونے کی وجہ سے ضروری تھا کہ ان سے متعلق اعداد و شمار کو کمپیوٹرائزڈ کیا جاسکے۔ تاکہ پولیس کوصوبہ بھر میں جرائم اور جرائم پیشہ افراد سے متعلق ڈیٹابر وقت دستیاب ہو اور کسی خاص وقوعہ کا تجزیہ مختصر وقت میں ہو کر اس کے فوری تدارک کے لیے بروقت موثر اقدامات عمل میں لائے جاسکیں۔اس مقصد کے حصول کے لیے محکمہ پولیس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق کئے گئے اقدامات اور دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف اس کے حوصلہ افزاء نتائج کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

ہاٹ سپاٹ پولیسنگ اور جیو ٹیگنگ۔

خیبر پختونخوا پولیس نے ایک مرکزی کرائم ٹریکنگ اور اینلائز سسٹم بنا کراسکا اجراء کردیا ہے۔ جو کہ جیو ٹیگنگ ٹیکنالوجی پر مبنی نیا نظام ہے۔ اس کے تحت دہشت گردوں اور جائے وقوعہ سے متعلق مواد بشمول تصاویر اور وقوعہ کی تفصیل ڈیٹا بیس میں محفوظ ہیں۔ مواد جب اکٹھا ہو کرمین سرور میں فیڈکیا جاتاہے۔ تو خود بخود گوگل نقشے پر آجاتا ہے جس کو صوبے میں جرائم کی سرزدگی سے متعلق استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔اس نظام کے تحت جائے وقوعہ، دہشت گردوں، ڈاکوئوں اورر اہزنوں کی تصاویرجیوٹیگ کرکے مین ڈیٹا بیس کو بھیجوادیا جاتا ہے۔ اور اس کے لیے کئی ایک آلات استعمال میں لائے جاتے ہیں۔

نئے نظام کے تحت اب تک ہزاروں کی تعداد میں سنگین وارداتوں کا ریکارڈ مین ڈیٹا بیس میں شامل کرلیا گیا ہے۔ جو ملک بھر میں سب سے بڑا جیو ٹیگنگ ڈیٹا مانا جاتا ہے۔ اس سے جرائم پیشہ افراد کی جانب سے مخصوص جگہوں کا باربار نشانہ بنانے کی رجحان کا پتہ لگاکہ ضروری سیکورٹی اقدامات عمل میں لائے جاتے ہیں۔

کریمنل ریکارڈ ویریفیکشن سسٹم

خیبر پختونخوا پولیس نے صوبے میں تمام پولیس اسٹیشنوں کے ایف آئی آرز کے ریکارڈ کے لیے ایک مرکزی ڈیٹا بیس بنادیا ہے۔ اورایف آئی آر کی تلاش متعلقہ شخص کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، اس کے نام، ولدیت، پتے اور اس کے زیر استعمال موبائل فونز کے ذریعے براہ راست کی جاتی ہے۔ اس نئے اقدام سے پولیس کی بروقت ویریفیکیشن کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔اس سسٹم کے ذریعے پولیس چیک پوسٹ پر تعینات عملہ موبائل کا بٹن دبا کر ہر ایک شخص کا پس منظر کی تصدیق کرسکتا ہے۔ اور اس میں بے گناہ افراد کو بے جاتنگ کرنے کے چانسز بھی بالکل ختم ہو چکے ہیں۔

شناختی ویریفیکیشن سسٹم (IVS) :

دہشت گرد، شرپسند اور جرائم پیشہ افراد کی ہمیشہ اپنی شناخت چھپانے کی کوشش ہوتی ہے۔ اور اس مقصد کے لیے وہ جعلی شناختی کارڈاستعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح کئی ایک غیرقانونی تارکین جو صوبے میں کئی ایک جرائم میں ملوث ہیں نے بھی جعلی شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں۔ محکمہ پولیس نے پولیس اسٹیشنوں میں شکایات /ایف آئی آرزدرج کرتے وقت شکایت کنندہ اور ملزم کے شناختی کارڈ نمبرات کے اندراج کو لازمی بنادیاہے۔ تاکہ اُنکی تلاش/گرفتاری میںآسانی ہو۔محکمہ پولیس اورنادرا کے مابین ڈیٹا تک رسائی کا معاہدہ طے ہوچکاہے۔اب چیک پوسٹ پر پولیس اہلکار ٹیبلٹ پر متعلقہ شخص کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبر ٹائپ کرکے اس شخص کے بارے میںسکرین پر تصویر سمیت مکمل معلومات حاصل کرسکتا ہے۔

وہیکل ویریفیکیشن سسٹم:

چوری شدہ اور جعلی رجسٹریشن والی گاڑیوں کی شناخت اوردہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے آزادانہ نقل وحرکت کو محدود کرنے کے لیے ایک سسٹم وضع کیاگیاجس کے تحت محکمہ ایکسائز میںگاڑیوں کا ریکارڈ چیک پوسٹ پر ڈیوٹی انجام دینے والے پولیس آفیسر کے موبائل فون سے منسلک کردیاگیا ہے۔ اب تک تمام اضلاع کے پولیس افسروں میںگاڑیوں کی شناخت کے 400سمز تقسیم کردیئے گئے ہیں۔ اب صرف موبائل فون کی ایک کلک کے ذریعے گاڑی کے تمام دستاویزات چیک کی جاتی ہیں۔ اس سسٹم کے ذریعے بھی اب تک ہزاروں گاڑیوں کو چیک کیا گیا اور اس عمل کے دوران کئی جعلی نمبر پلیٹس اور چوری شدہ گاڑیاں پکڑی گئی ہیں۔

تعلیمی اداروں اور دوسری غیر محفوظ اور حساس مقامات کے لیے ون کلک SOS سروس

دہشت گردوں کی جانب سے آسان (Soft) ٹارگٹ پر حملے کے پیش نظر خیبر پختونخوا پولیس نے اینڈرائیڈ پر مبنی ’’ ون کلک‘‘ SOS الرٹ سروس کا آغاز کردیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے تمام تعلیمی ادارے اور حساس اور غیر محفوظ مقامات موبائل فون کے ون کلک کے ذریعے کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں پولیس کو باخبر کرسکتے ہیں۔ موبائل فون کے ون کلک سے تقریباً دس متعلقہ افسروں اور اداروں کو خود بخود الرٹ پہنچتی ہے۔ اس سے حملے کی زد میں آنے والی جگہ کا ایڈرس بھی خود بخود موبائل فون پر آجاتا ہے۔ اور پولیس مختصراً راستہ پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر کاروائی عمل میں لاتی ہے۔

براہ راست ٹریفک اپ ڈیٹس

پشاور کو بڑھتی ہوئی آبادی سے دیگر چیلنجزکے ساتھ ساتھ ٹریفک کے گمبھیر مسائل کا سامنا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس نے عوام کی سہولت کے لئے ٹریفک اپ ڈیٹس کی ایک خصوصی SMS سروس شروع کردی ہے۔ جس سے عوام ٹریفک سے متعلق فوری آپ ڈیٹس حاصل کرکے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے لائحہ عمل اپناتے ہیں۔ اور یہ سروس کسی بھی نیٹ ورک سے 8333 کو ایس ایم ایس کرکے حاصل کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں