Daily Mashriq


ٹرمپ کا امت مسلمہ کے قلب پر وار

ٹرمپ کا امت مسلمہ کے قلب پر وار

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی دبائو کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان پوری امت مسلمہ کے جذبات کو شدید ترین ٹھیس پہنچانے کا باعث ہے اس کی نہ صرف مسلم ممالک کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے بلکہ اقوام عالم نے بھی اس متنازعہ اور دل آزار فیصلے کی مذمت کی ہے۔یروشلم مسلمانوں‘ مسیحیوں اور یہودیوں کے لئے قابل احترام اور مقدس جگہ ہے جہاں تینوں مذاہب کے لوگ زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ یہیں پر قبلہ اول بیت المقدس بھی ہے اور یہودیوں کی مقدس دیوار گریہ بھی ہے۔ اس پر فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کا اپنا اپنا دعویٰ ہے مگر اسرائیل کا اس پر مکمل قبضہ ہے جبکہ فلسطینی ریاست اس شہر کو اپنا حتمی دارالحکومت بنانے کی شدید خواہش مند ہے۔ اس شہر پر تسلط کی کشمکش تو حضرت عمر فاروقؓ کے دور سے ہی جاری ہے لیکن جدید تاریخ میں اس مسئلے کی ابتداء اس وقت ہوئی جب دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے منصوبہ تقسیم کے تحت ایک آزاد ریاست اورایک یہودی ریاست قائم کی جانی تھی اور یروشلم کو عالمی انتظامیہ کے تحت دیا جانا تھا تاکہ تمام مذاہب کے لوگ یہاں آزادانہ طور پر آجا سکیں لیکن اس منصوبے پر مسئلہ کشمیرکے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرارداد کی طرح عملدرآمد نہ ہوسکا۔ماضی میں اسرائیل نے اپنا دارالحکومت تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی کوششیں کیں مگر بین الاقوامی دبائو اور عربوں کے احتجاج کے باعث اس منصوبے پر عمل درآمد نہ ہو سکا ۔اب ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس یعنی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکہ کی صیہونی لابی کے دبائو کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اس کے نتیجے میں بالخصوص عرب دنیا اور بالعموم مسلم دنیا غصے ،ردعمل اور نفرت کے نئے جذبات کی فیکٹری ثابت ہوگی جس سے عالمی امن کے لئے نئے چیلنج شروع ہو ں گے اور پہلے سے انتشار و عدم استحکام کا شکار مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا کا امن مزید خطرے میں پڑ جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ بیت المقدس کی متنازعہ حیثیت کو نقصان پہنچا کرمشرق وسطیٰ میں ہی نہیں درحقیقت دنیا بھر میں ایک ہمہ گیر فساد کی بنیاد رکھنے جا رہا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ دنیا میں امن کی جلتی بجھتی کئی شمعوں کوکلی طور بجھانے کا باعث بنے گا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس انتخابی وعدے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جلدی نہیں کی بلکہ اس کے لئے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی‘ اختلافات‘ انتشار اور دیگر ذرائع سے پہلے راہ ہموار کی جبکہ امت مسلمہ کا عضو ناکارہ ہونا اور خود مسلم ممالک کے درمیان شدید اختلافات سبھی امریکہ اور اسرائیل ہی کے لئے معاونت کا باعث ٹھہرتے ہیں۔ اس معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو سعودی عرب کا کردار ہے گو کہ سعودی عرب وقتاً فوقتاً یہ کہتا آرہا ہے کہ اسرائیل کو مقبوضہ علاقے خالی کرنے چاہئیں مگر عملی طور پر اس ضمن میں اس کا کردار و تعاون نظر نہیں آتا۔ اگر دیکھا جائے تو موجودہ منظر نامے میں بھی سعودی عرب کاکردار بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے درون خانہ تعلقات کا تو محض اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے عملی طور پر سامنے آنے والی حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب حال ہی میں ایک دوسرے سے خفیہ معلومات کے تبادلے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ حال ہی میں اسرائیلی فوج کے سربراہ نے ایک انٹرویو میں اسرائیل کی سعودی عرب سے مل کر ایران کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔ دو اسلامی ممالک ایران اور سعودی عرب کی کشمکش سے مشرق وسطیٰ کا پورا خطہ تو متاثر ہوا ہی ہے اور انتشار کی کیفیت کے باعث مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا شکار ہے۔ اب ان ا ختلافات اور سعودی عرب کی ایران دشمنی میں اسرائیل سے قربت کا نتیجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ اعلان کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس اعلان کے بعد پوری دنیا میں ہلچل مچ جانا فطری امر ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیاگیا ہے۔ اسلامی ممالک میں سرکاری سطح پر رسمی بیان بازی کی حد تک ہی صورتحال نظر آتی ہے البتہ ترکی کی جانب سے حقیقی اسلامی ملک کے طور پر قائدانہ کردار نظر آتا ہے اور اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس استنبول میں متوقع ہے۔ اس ساری صورتحال میں امت مسلمہ کی نظروں کا ترکی اور پاکستان کی طرف ہونا فطری امر ہے۔ ترکی اور پاکستان کیلئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ امت مسلمہ کو متحد کرکے اسرائیل اور امریکی فیصلے کے خلاف میدان میں آجائیں ۔اگر ایسا نہ کیا گیا اور امت مسلمہ قبلہ اول کے معاملے پر بھی متحدنہ ہوئی تو مسلم دنیا کی رہی سہی اہمیت کا بھی خاتمہ ہوگا اور طاغوتی طاقتیں پوری طرح غلبہ حاصل کرلیں گی۔ سعودی عرب کو خاص طور پر اس معاملے پر سنجید گی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ان کو اسرائیل سے تعلقات بڑھانے کی بجائے امت مسلمہ کے اہم ملک کی طرح اسرائیل کے خلاف کردار ادا کرنا چاہیئے۔ بہتر ہوگا کہ مسلم ممالک ایران اور سعودی عرب میں صلح کے ذریعے ایک مضبوط پلیٹ فارم سے قبلہ اول کو یہودیوں کے مکمل طور پر تسلط میں ہونے سے بچائیں ۔

متعلقہ خبریں