Daily Mashriq


سینئر وزیر بلدیات کی توجہ درکار ہے

سینئر وزیر بلدیات کی توجہ درکار ہے

سینئرصوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان کو بالآخر اس کی ضرور ت محسوس ہوئی ہے کہ وہ اس امر کا اعتراف کریں کہ گلی محلوں اورسڑکوں پر گندگی پھینکنے کے انسداد بارے مروج قانون زیادہ مئوثر نہیں ہے ۔ انہوں نے نالیوں کی بندش کا باعث بننے والے پلاسٹک کے تھیلوں بارے متعلقین کو قائل کرنے کی سعی کا بھی عندیہ دیا ہے ۔ سینئر صوبائی وزیر کی اس حقیقت پسندی کی تعریف نہ کرنا بخل ہوگا ۔ جن کو مدت اقتدار کے آخر ی چھ ،سات ماہ میں مئوثر قانون کا خیال آہی گیا ہے ۔قانون کا مسودہ کب تیار ہوگا اس کی اسمبلی سے منظوری کی باری آئے گی یا نہیں اس سے قطع نظر اگر ہم اس امر کا جائزہ لیں کہ مروجہ قوانین واقعی مئو ثر نہیں یا پھر ان قوانین پر عملدر آمد کرانے والا کوئی نہیں ۔ محکمہ بلدیات کے عملے کے حال ہی میں شہریوں کو جاری کئے گئے نوٹسز کی روشنی میں وہ نہ صرف گندگی پھینکنے پر شہریوں کا چالان کر سکتے ہیں بلکہ وہ سڑک پر پانی آنے پر متعلقہ گھر کا کنکشن بھی منقطع کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس پندرہ ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا بھی اختیار ہے ۔ہمیں مزید مئو ثر قانون سازی سے ہر گز اختلاف نہیں لیکن محولہ نوٹس میں شہریوں کو قانون کے مطابق جن کارروائیوں کا عندیہ دیا گیا ہے کیا ان پر عملدر آمد حقیقی معنوں میں ہوتا ہے ۔ ہمارے تئیں یہ خاصے مضبوط اور مئو ثر قوانین ہیں بشرطیکہ ان پر عملدر آمد کیا جائے۔ صوبائی وزیر کو متعلقہ محکموں سے اس ضمن میں رپورٹ طلب کرنی چاہیئے کہ انہوں نے گزشتہ ایک خاص مدت میں ان قوانین پر عملدر آمد کرتے ہوئے کتنے شہریوں کے خلاف کن کن خلاف ورزیوںکی مد میں کارروائی کی اور کتنا جرمانہ وصول کیا گیا تو انہیں خود صورتحال کا اندازہ ہوگا۔ کیا حقیقت یہ ہے کہ قوانین پر عملدرآمد تو درکنار پی ڈی اے کو شکایت کرنے پر گلی محلہ آکر شکایت کنندہ کا نام بتا کر چلے جاتے ہیں مسئلہ جوں کا توں رہنا اپنی جگہ الٹا دشمنیاں بن جاتی ہیں۔ جہاں اس طرح کے عمال ہوں وہاں قانون سازی کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔ جہاں تک شاپنگ بیگز کا تعلق ہے اس ضمن میں صوبائی حکومت کے ترجمان نے کوئی سال قبل بلند و بانگ دعویٰ کیا تھا کہ شاپنگ بیگز کی تیاری پر پابندی عائد کردی گئی ہے بقیہ سٹاک تین ماہ کے اندر ختم کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے مگر اب بھی شاپنگ بیگز کے کارخانے چل رہے ہیں اور مسئلہ جوں کا توں ہے کیا یہاں بھی قوانین مئوثر نہیںیا پھر معاملہ عملدر آمد کا ہے ۔

متحدہ طلبہ محاذ احتجاج جاری رکھنے پر اصرار نہ کرے

متحدہ طلبہ محاذ جامعہ پشاور کا گزشتہ دس روزسے جاری دھرنا صوبائی وزیر مشتاق غنی کی کوششوں اور طلبہ کے مذاکرات کے باوجود ختم نہ ہوسکا جبکہ دوسری جانب متحدہ طلبہ محاذ کے رہنمائوں نے سینیٹر روبینہ خالد کی قیادت میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سے ملاقات کرکے ان کو اپنے مسائل سے آگاہ کر کے اعانت کی درخواست کی ہے۔ دریں اثناء اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں بھی طلبہ نے دھرنا شروع کر دیا ہے ۔ طلبہ اپنے مسائل کے حل کیلئے قبل ازیں یونیورسٹی انتظامیہ کی یقین دہانی و عدہ خلافی کے باعث پہلے ہی مسترد کر چکی تھی جبکہ صوبائی وزیرکی یقین دہانی کو بھی انہوں نے زبانی جمع خرچ قرار دے کرمسترد کر دیا ۔ اس صورتحال کے باوجود صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نجی سرکاری سکولوں میں طلبہ کی منتقلی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے ۔ ہمیں صوبائی حکومت کے دعوے کی صداقت سے کوئی سروکار نہیں لیکن اس دعوے کی روشنی میں اس امر کا استفسار ضرور ی سمجھتے ہیں کہ اگر صوبائی حکومت سکولوں کی سطح پر معیار تعلیم کی بہتری اور اساتذہ کو بھاری جرمانوں کے ذریعے پابند تدریس بنانے کے مشکل ترین کام میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے تو پھر یونیورسٹی کی سطح پر طالب علموں کے مسائل و معاملات کے حل میں امر مانع کیا ہے ۔ طلبہ رہنمائوں کیلئے یہ مناسب نہیں کہ وہ معاملے کو طول دیں اور ہر سطح کی یقین دہانی کو مسترد کرنے کا وتیرہ اختیار کریں ۔طلبہ ایک جانب اپنے مسائل کے حل کیلئے احتجاج کا راستہ اپنا رہے ہیں مگر دوسری جانب وہ کسی پر اعتمادکرنے پر تیار نہیں ۔ ہمارے تئیں متعلقہ صوبائی وزیر کی سطح پر حکومت کی یقین دہانی کو کافی گردانا جانا چاہیئے اور اگر پھر بھی سابقہ وعدہ خلافیوں کے باعث طلبہ اعتماد کرنے پر تیار نہیں تو وہ مزید یقین دہانیاں یا اور کوئی طریقہ کار اختیار کر سکتے ہیں۔ بہر حال جو کچھ بھی ہو طلبہ کو اس کا ادراک ہونا چاہیئے کہ ان کے مسائل بالآخر اسی فورم اورا نہی حکام کے ذریعے ہی حل ہونے ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ طلبہ سخت گیررویہ ترک کر کے مفاہمت کا رویہ اپنائیں اور مطالبات کے حل کیلئے غیر ضروری دبائو ڈالنے کی بجائے ٹھوس یقین دہانیاں حاصل کر کے احتجاج ختم کر کے اپنی تعلیم پر توجہ دیں صوبائی حکومت کو ایسے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ طلبہ کا اعتماد بحال ہو اور وہ مسائل کو حل ہوتے دیکھ کر سخت رویہ ترک کر کے احتجاج ختم کریں ۔

متعلقہ خبریں