Daily Mashriq


برکتو ں والی زمین

برکتو ں والی زمین

امریکی انتظامیہ کی طر ف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر سلامتی کو نسل کا ہنگا می اجلاس جمعہ کوطلب کر لیا گیا ہے ، جا پان سمیت آٹھ ممالک نے سلا متی کونسل کا ہنگا می اجلا س منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، جن میں بولیویا مصر، فرانس ، اٹلی ، سینگال ، سویڈن ،برطانیہ اور اور یوروگوئے شامل ہیں ، امر یکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر نے پر دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے رد عمل آیا ہے تاہم اسلامی ممالک کے عوام میں ایک زبردست ہلچل مچی ہے جو حکومتی سطح پر نظر نہیں آئی ہے البتہ تر کی کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہارکیا گیا ہے ، ترکی کے صدر طیب اردگان نے 13؍ستمبر کو استنبول میں اسلا می تعاون تنظیم کے سربراہی اجلا س کے اسلا می ممالک کو دعوت دی ہے ۔ ترکی کے ایو ان صدارت کے ترجمان ابراہیم کیلن نے بتایا ہے کہ تر ک صدر نے امریکی اقدام سے پید ا ہو نے والی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے یکساں مو قف اختیا ر کر نے کی غرض سے اسلا می سربراہی کا نفر س کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے ، ترک صدر کی دعوت کے بعد سعودی عرب جس کا امریکی اقدام پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں آیا ہے تاہم سعودی بادشا ہ سلما ن نے طیب اردگا ن سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے نئی صورت حال اور اسلا می کانفرنس کے اجلا س کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ، ماضی کے پس منظر میں عربو ں اور ترکی کے کشید ہ تعلقات کے پیش نظر دونو ں ملکو ں کے سربراہو ں کے درمیان براہ راست رابطہ ایک مثبت پیش رفت ہے ۔ ادھر سعودی عر ب کے ایو ان شاہی کی طر ف سے ایک اعلا میہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ سعودی عرب کو امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے وہا ں منتقل کر نے کے فیصلے پر انتہا ئی دکھ اور افسو س ہو ا ہے ۔سعودی عرب کی حکومت کے اعلا میہ سے اندا زہ ہوتا ہے کہ سعودی عرب کو محض افسو س ہو ا ہے ، حالا نکہ مسلم ممالک کی جانب سے کھل کر امریکا سے با ت کرنے کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ اسلامی ممالک کے سربراہو ں نے اپنے اقتدا رکے دوام کے لیے خود کو ٹکڑیوں میں بانٹ دیا ہے اور وہ آواز اٹھانے سے بھی نحیف ہیں ۔ یہ افسو س نا ک فیصلہ نہیں ہے بلکہ امریکا نے فلسطینی عوام اور مسلم ممالک کی کمر میں چھراگھونپا ہے ، فلسطینی عوام کے بیت المقدس میںتاریخی حق سے جانبداری برتی گئی ہے ، فلسطینیو ں کے حق کو تسلیم کیے جانے کے بارے میں عالمی بر ادری کی تائید اور عالمی قرار دادیں بھی موجو د ہیں اس کے باوجو د سعودی حکومت کا بیانیہ غیر منطقی سا ہے کہ شاہی ایو ان سے جاری ہونے والے اعلا میہ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اس اقدام سے بیت المقد س اور دیگر مقبوضہ علا قو ں میں فلسطینیو ں کاحق متا ثر نہیں ہوتا نہ ہی اس فیصلے سے زمینی حقیقت تبدیل ہو گی تاہم اس سے امن قائم کرنے کی کوشش سبو تا ژ ہو ں گی ۔سعودی حکومت کا یہ موقف اپنی جگہ معنی رکھتا ہے ، تاہم یہ حقیقت ہے کہ امریکا نے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے القدس منتقل کر کے فلسطین کے اسرائیلی علا قہ ہو نے پر مہر ثبت کردی ہے پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس سے فلسطینیوں کا حق متا ثر نہیں ہوگاجبکہ ہو گیا ہے ۔ اسلامی ہی نہیں عام تاریخ کے اعتبار سے بھی بیت المقدس کی اہمیت اور فضیلت کو سمجھنا چاہیے اور اس کی طر ف توجہ مرکو ز کر نے کی ضرورت بھی ہے۔ مسجداقصیٰ کا تقدس اور اس کااحترام دینی اعتبار سے عین مطلو ب ہے۔ واضح رہے کہ جس وقت واقعہ اسراء ومعراج پیش آیا تھا اس وقت مو جو دہ بیت المقدس کی جگہ کوئی پکی عما رت نہ تھی مگر وہا ں مسجد کی جگہ مو جود تھی جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ـ۔۔۔اور ہم نے ابر اہیم (علیہ السلام )کے لیے کعبہ کے مکان کی جگہ مقر رکر دی (الحج26ٌ) قرآن میں اس مقام کو مسجد الا قصیٰ کہا گیا ہے (الا سرء ۱)اقصیٰ کے معنی ہیں دور یا دور کی جگہ چنا نچہ اہل حجا ز کے لیے یہ دور کا مقام ہے چنا نچہ اس مسجد کا نا م اقصیٰ ہو ا۔

اسراء کا یہ مقام مسافت کے لحاظ سے اہل حجا زسے دور ہے اور یہ ایک بشارت ہے کہ مسلمان کا غلبہ قائم ہو جا ئے گا اس لیے اس کو مسجد اقصیٰ کہا گیامسلما ن حضرت عمرؓکے عہد خلافت میں سر زمین اقدس میںداخل ہو ئے تھے اس وقت قدس کے بطریک سیفر ینو س نے مدینہ قدس کی کلید خلیفہ مسلمین ؓکے ہاتھ کے علا وہ کسی اور کے سپر د کر نے سے انکا ر کیا تھا اور اس وقت کہا تھا کہ وہ چاہتا ہے کہ خلیفتہ المسلمین بنفس نفیس تشریف لا ئیں اور مدینہ القدس کی زما م کار اپنے ہا تھو ں میں سنبھال لیں ، چنا نچہ حضر ت عمر ؓ اپنا تاریخی سفر طے کر کے مدینہ القدس تشریف لائے اور ایک معاہد ہ اس وقت تحریر میں لا یا گیا ، اس معاہد ہ کا نام معاہدہ عمر یہ کہلایا ، اس معاہدہ میںکہا گیا کہ ان لوگو ں کو جو اس سرزمین میں ْمقیم ہیں ان کو جا نی مالی تحفظ عطا کیا جا تا ہے نیز ان کی ذریت اور اہل وعیال محفو ظ وما مو ن ہیں ان کی عبادت گاہو ں اور ان کے شعائر وینیہ اور رسم ورواج سے تعارض نہیں کیا جا ئے گا اور ہر اس چیز کا ان کو حق حاصل ہے جس کے لیے لو گ تگ ودوکرتے ہیں اس معاہد ے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اس مقدس سرزمین پر یہو دیو ں میں سے کسی فر د کو آباد ہونے کے لیے جگہ نہیں دی جائے گی ، جب مسلمان بیت المقدس کی سر زمین میں داخل ہوئے تو اس زمانے میں دور دور تک یہو دیو ں کا نا م ونشان تک نہ تھا ، کیوں کہ رومن امپائر نے صدیو ں قبل وہا ں سے یہودیو ں کا صفا یا کر دیاتھا اس سے قبل بابلیو ں نے یہو دیو ں کی حکومت کو تاخت و تا راج کردیا تھا ، یہودی تو مسلما نو ں کی جانب سے بیت المقد س فتح کرنے سے پچیس سو سال قبل بابلیوں کے ہاتھو ں در بدر ہو چکے تھے ان تا ریخی حقائق کی روشنی میں ٹرمپ انتظامیہ یہو دیو ں کا حق کیو ں کر تسلیم کرتی ہے ۔

متعلقہ خبریں