Daily Mashriq


کون جانے ؟ !

کون جانے ؟ !

خزاں کے کپکپاتے ہاتھوں سے درختوں پر لگے پتے جب زرد پڑنے لگتے ہیں تو شاید انہیں اپنے رنگ کی یہ تبدیلی موسم کی عادت محسوس ہوتی ہوگی ۔ جب پہلا پتا ٹوٹتا ہوگا تو بقیہ ماندہسوچتیہونگے کہ اس کی ہی اپنی کمزوری تھی کہ یہ ٹوٹ گیا ورنہ ایسی کوئی بات تو نہ تھی ۔ لیکن خزاں کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی ہے ۔ اور سب سے مضبوط پتا بھی درخت کی ٹہنی سے اپنا تعلق برقرار نہیں رکھ سکتا ۔ انہی پتوں کے گرنے سے نئے پتوں کے اُگ آنے کی جگہ بنانی ہوتی ہے ۔ پاکستان کی سیاست میں بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے ۔ درختوں سے لگے پتے ایک ایک کر کے زمین پر گر رہے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ ابھی تک انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ وہ شاخ سے ٹوٹ چکے ہیں جو رنگ انہیں زرد محسوس ہورہا ہے ، یہ و قت گزرنے کے ساتھ ساتھ گہرا ہوتا جائے گا ۔ وہ نرمی جو ابھی انہیں محسوس ہورہی ہے ، اکڑاہٹ میں بد ل جائے گی اور پھر ذرا سی ہو ا چلنے پر یہ ریزہ ریزہ ہو کر ہوائوں میں بکھر جائینگے ۔ ان کا نام ونشان بھی باقی نہ رہے گا ۔ میاں نواز شریف کہتے ہیں مجھے کیوں نکالا تو ہم میںسے کئی لوگ مسکرادیتے ہیں ۔ یہ آج کل ایک مذاق بن گیا ہے ۔ ان کے لہجے کی بے بسی اور چہرے کی پریشانی پر کئی بار لوگ پھبتیاں ہیں ۔ لیکن شریف خاندان اپنے ہی خیال میں گم ہے ۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ لوگ سب جانتے ہیں ۔ اور جب یہ مشکل سے گزر رہے ہیں وہ یک گو نہ اطمینان میں ہیں کہ اللہ کی پکڑ انہیں صاف دکھائی دے رہی ہے ۔ یہ بھی وہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ بات صرف اسی حد تک محدود رہنے والی نہیں ۔ یہ اس سے بھی کہیں آگے جائے گی ۔ اس آخری شخص تک کا تعلق اقتدار کے اس کلپاوتی درخت سے ٹوٹے گا جس نے ناحق غریبوں کا ایک پیسہ بھی کھایا ہے ۔ جس طرح جین مذہب میں کلپاوتی خواہشوں کا درخت ہے جو آسمان سے لے کر زمین تک پھیلا ہوا ہے ، اسی طرح یہاں اقتدار کلپاوتی ہی تو ہے فرق صرف اتنا ہے کہ جین مذہب کا کلپاوتی امیر غریب ، چھوٹے بڑے ، مقتدر اور محکوم کا فرق نہیں کرتا ، لیکن ان کا کلپاوتی صرف مقتدرین کی خواہشات کا درخت ہے ۔ بس انہی کی باتیں ہیں ، انہی کے استعارے ، انہی کے خواب اور ان سے آگے کچھ نہیں ۔ جب میاں نواز شریف تڑپ کر کہتے ہیں کہ بس یہی ملک ہے جہاں وزیر اعظموں کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے ۔ ان کی اس بات کے جواب میں جی چاہتا ہے کہ اونچی آواز میں کہوں ، یہی ایک ایسا ملک ہے جہاں وزیراعظم عوام کے ساتھ یہ سب کچھ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور پھر بھی ان کی ڈھٹائی کا یہ عالم رہتا ہے کہ وہ اپنی ہی بد عنوانی کو نظر انداز کر کے یہ بڑی جرأت سے پوچھتے ہیں مجھے کیوں نکالا جیسے بد عنوانی حکمرانوں کے لیے کوئی جرم نہ ہو اور اس جرم کی سزا دے کر ملک میں بڑی زیادتی کی گئی ہو ۔ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ ان پاناما پیپرز میں برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا ذکر بھی آیاتھا ۔ ڈیوڈ کیمرون سے منسوب بد عنوانی چند ہزار ڈالر کی تھی اور وہ بھی ان کے والد صاحب سے منسوب تھی لیکن ڈیوڈ کیمرون مستعفی ہوگئے تھے ۔ انہیں نہ ہی کسی عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑا ، نہ ہی اپنی بد عنوانی ثابت ہو جانے کے بعد بھی وہ نہایت ڈھٹائی سے یہ پوچھتے رہے کہ مجھے کیوںنکالا ۔بات انہی تک موقوف بھی کہاں رہنی تھی ۔ خزاں کا آغاز ہو چکا ہے ۔ ایک کے بعد ایک پتا لرزنا شروع ہوگیا ہے ۔ اور اب جسٹس علی باقر نجفی کی رپورٹ نے بھی اس سارے عمل کو مہمیز کردیا ہے ۔ بڑی جلد ہم اور بھی پتے زرد ہوتے دیکھیں گے ۔ وہ بیورو کریٹس جو انہیںآقا سمجھ کر لوگوں کی جانوں کو محض ہند سے سمجھ کر فیصلے کرتے رہے ہیں ان کا بھی انجام بقیہ ماندے لوگوں کے لیے عبرت کی مثال بن سکے اور وہ سیاست دان جن کے لیے اپنے مخالفین کی جانوں سے کھیل جانا ، بہت بڑا کام ہی نہ تھا ۔ جو اپنے حلیے اور اپنی حرکات و سکنات دونوں ہی سے سیاست دان کم اور غنڈے زیادہ لگتے ہیں ، اب ان کا بھی مکافات عمل شروع ہونے والا ہے ۔ انہیں بھی اب احساس ہونے لگے گا کہ جب خدا کی بے آواز لاٹھی پڑتی ہے تو اس کی آواز بڑی دور تک سنائی دیتی ہے ۔ اور اب یہ محسوس تو ہو ہی رہا ہے کہ شاید اس رپورٹ کے نتیجے میں اور بھی کئی محاذ کھل جائینگے اور ان محاذوں پراب کئی سروں کے مینار دکھائی دینگے ۔ کئی نئے نام سامنے آئینگے ۔ کئی باتیں کھلیں گی اور ان میں سے کئی مظلوموں کی چیخوں کی آواز یں سنائی دینگی ۔ میں سوچتی ہوں تو دل یک گونہ اطمینا ن محسوس کرتا ہے ۔ وہ جواس ملک کو اپنا جان کر لوٹ مار کر رہے تھے ۔ جن کا خیال تھا کہ یہ سب تو انہی کی جاگیر ہے اور وہ اسے جس طور چاہیں لوٹ سکتے ہیں ، ان کا سدباب اب ہو ہی جائے گا ۔ میں سوچتی ہوں ہم نے کب سے اس سب کو نہایت صبر سے برداشت کیا ہے ۔ کون جانے کس مظلوم کی آہ سنی گئی ہے کون جانے اس سب کا کیا انجام ہونے والا ہے ۔ کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ سب اس طور بھی ہوگا ۔ 

متعلقہ خبریں