Daily Mashriq


جب کشمیر پر’’ کیمپ ڈیوڈ‘‘ طرز کا سمجھوتہ نہ ہو سکا

جب کشمیر پر’’ کیمپ ڈیوڈ‘‘ طرز کا سمجھوتہ نہ ہو سکا

جب فلسطینیوں کی جدوجہد زوروں پر تھی اور اسرائیلی جہازوں کے اغوا سے فدائی حملوں تک فلسطینی عورتیں مردوں سے آگے نکل کر اپنی جدوجہد کو آگے بڑھا رہی تھیں اور عرب دنیا میں مصر اس تحریک کی سرپرستی اور معاونت کررہا تھا تو امریکی صدر جمی کارٹر کی کوششوں سے اسرائیل کے صدر بیگن اور مصر کے صدر انورالسادات کے درمیان تیرہ دن بعد امریکہ کے شہر کیمپ ڈیوڈ میں ایک معاہدہ ہوا۔اس معاہدے میں مصر اور اسرائیل نے فلسطینی عوام کی رائے جانے اور اسے سموئے بغیر ان علاقوں پر ایک سمجھوتہ کیا جسے تاریخ کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے نام سے جانتی ہے ۔اس سے فلسطین کی تحریک خطے میں اپنے سب سے مضبوط حامی ملک کی حمایت سے محروم ہو گئی اور مصر فلسطینی عوام کی حمایت کے معاملے میں اپنے ہاتھ بازو کٹو ا کر بیٹھ گیا ۔اس کے ساتھ ساتھ فلسطین کے مزاحمت پسند عوام کے لئے ابتلاو آزمائش کے نہ ختم ہونے والے دور کا آغاز ہوا۔چونکہ آزادی کی سوچ ایک عام فلسطینی کے دل میں گھر کر چکی تھی اس لئے سب سے مضبوط حمایت اور سہارے سے محروم ہونے کے باوجود وہ اپنی اس سوچ کو دل ودماغ میںبسائے رہے ۔ کیمپ ڈیوڈ سمجھوتے کے نتیجے میں بیگن اور سادات کو امن کا نوبل پرائز تو مل گیا مگر چند برس بعد ہی انورالسادات کو ایک فوجی پریڈ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا ۔اس قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والا ایک میڈیکل سٹوڈنٹ ایمن الظواہری بھی تھا جو ماہ وسال کی طویل گردش کے بعد اسامہ بن لادن کا دست راست بنا۔چند دن قبل کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے انہیں دورہ لاہور سے واپسی کے بعد کہا تھا کہ انہوںنے پاکستانی حکمرانوں سے کہا ہے کہ کشمیر کے دونوں حصوں پر اپنا اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے کنٹرول لائن کو سیدھا کیا جائے گویا کہ دو دہائیوں سے مسئلہ کشمیر کے جس حل کا غلغلہ جاری رہا اس کہانی کا سارا نچوڑ اور خلاصہ یہی ہے ۔یہی وہ حل تھا جسے پہلے کرگل کے تصادم نے اور دوسری بارپاکستان میں شروع ہونے والی وکلا ٗ تحریک نے دور کردیا ۔پہلے دور میں اس حل کا شہرہ پاکستان کے ایک جمہوری حکمران میاں نواز شریف اور دوسری بار فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے سر سجتے سجتے رہ گیا ۔بھارت میں پہلی بار سخت گیر بی جے پی اور دوسری بار برصغیر کے تاریخی تنازعات کا اہم کردار کانگریس اس مشق کا حصہ تھی جس سے یہ انداز ہ ہورہا ہے کہ بھارت کی طرف سے اس کوشش کو اجتماعی حمایت حاصل تھی اور اس سے حل میں بھارت کے قومی اور ریاستی مفادات مجموعی طور پر محفوظ رہتے تھے ۔پاکستان میں ہر دو بار اس سوچ کو مکمل پذیرائی اور حمایت حاصل نہیں رہی جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایک مضبوط حلقے کو یہ خدشہ رہا ہے کہ یہ حل ریاست پاکستان اور کشمیر کے ایک موثر حلقے کے مفادات سے متصادم ہے ۔دوسرے لفظوں میں نوازشریف اور واجپائی اور پرویز مشرف اور من موہن سنگھ کے درمیان کشمیر پر جو کھچڑی پک رہی تھی اس کا کشمیری عوام کی طویل جدوجہد ،قربانیوں اور خواہشات سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ اس میں زمینی صورت حال کی بنیاد پر غیر جذباتی انداز میں فیصلہ کیا جانا تھا ۔گویاکہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے طویل اور صبر آزما عمل کے بعد کشمیر پر’’ اُدھر تم اِدھر ہم‘‘کا فارمولہ استعمال کیا جا رہا تھا۔

کنٹرول لائن کو ٹھیک کرکے اسے مستقل مگر نرم سرحد بنانا بھارتیوں کے پاس ہمیشہ سے ایک’’ ریڈی میڈ ‘‘حل کے طور پر موجود رہا ہے۔نوے کی دہائی کے آغاز میں جب ابھی ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوا تھا بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے سے وابستہ معروف صحافی ہریندر باویجہ اسی سوال پر پاکستانیوں کا ردعمل معلوم کرنے پاکستان آئیں ۔یہ سوال انہوں نے آزادکشمیر کے اس وقت کے وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان کے سامنے بھی رکھا تھا کہ کیوں نہ کنٹرول لائن کو درست کرکے مستقل سرحد بنالیا جائے ؟، سردار عبدالقیوم خان کے بقول انہوں نے یہ کہنے پر اکتفا کیا تھا کہ جب بھارت کشمیر پر مذاکرات پر آمادہ ہوگا تو اس تجویز پر بھی بات کی جا سکتی ہے ۔کنٹرول لائن کو ٹھیک کرنے سے مراد یہ لیا جاتا ہے کہ وہ دیہات اور گائوں جو غیر فطری تقسیم کا شکار ہیں اور جن پر انتظامی اور فوجی کنٹرول قائم رکھنے میں کسی بھی ایک ملک کو دشواری پیش آرہی ہے دوسرے کے کنٹرول میں دیا جائے۔یہ کنٹرول لائن پر موجودچند لوگوں کے مسائل کا حل اور خواہشات کا آئینہ دار تو ہے مگر اس میں اہل وادی کے مجموعی جذبات اور احساس کہاں ہیں؟اسے مسئلہ کشمیر کے حل سے زیادہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک سمجھوتہ ہی کہا جا سکتاہے۔بنیادی طور پر اس سمجھوتے میں بیگن بھارت کا حکمران ہے اور سادات کا کردار کسی پاکستانی حکمران نے نبھانا تھا اور فطری طور پر یہاں فلسطینی عوام کی طرح سمجھوتے کی کند چھری سے مذبوح بنانے کا کردار کشمیریوں کے حصے میں آنا تھا ۔جبکہ خود فاروق عبداللہ کہتے ہیں کہ دہلی کے اشوکا ہوٹل میں جب جنرل پرویز مشر ف کے دورے کے موقع پر ایک بھارتی نمائندے نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ تیسری پارٹی ہے تو فاروق عبداللہ نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ تھرڈ نہیں فرسٹ پارٹی ۔ فاروق عبداللہ کی یہ بات بڑی حد تک درست ہے جب تک تھرڈ پارٹی سمجھے جانے والی پارٹی کو فرسٹ پارٹی کی فرنٹ سیٹ پر نہیں بٹھایا جاتاکوئی سمجھوتہ بار آور نہیں ہو سکتا اور اس کا نتیجہ کسی سادات کا سربازار قتل اور کسی ایمن الظواہری کی صورت میں ہی برآمد ہو تا رہے گا۔

متعلقہ خبریں