Daily Mashriq


پختون ثقافتی روایت کی شکست و ریخت

پختون ثقافتی روایت کی شکست و ریخت

مقام شکر ہے کہ کسی کو تو خیال آگیا مگر ماضی کے تجربات کی وجہ سے اب بھی یقین کرنے کو دل نہیں کرتا کہ جو بات کی جارہی ہے اس پر عمل کیا جائے گا ۔ بہر حال کہنے میں کیا حرج ہے یعنی جو باتیں گزشتہ روز وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی فضل الٰہی نے ایک پریس کانفرنس میں کہی ہیں ان کو واقعی عملی جامہ پہنا نے میں مزید تاخیر نہیں کی جائے گی ۔ اور پختون ثقافت کے تحفظ کیلئے حکومتی سطح پر سنجید گی کا مظاہرہ کیا جائے گا ۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فضل الٰہی نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ حکومت نے سی ڈی ڈراموں اور پشتون زبان کی فلموں میں پختون روایات کے برعکس منظر کشی کی روک تھام کیلئے صوبائی اسمبلی کے حالیہ اجلا س میں قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں چند لوگوں کی جانب پختون روایات اور اقدار کی تباہی میں کردار ادا کرنے کے حوالے سے جو اشارہ کیا ہے تو اس حوالے سے قابل افسوس امر یہ ہے کہ ابھی چند روز پہلے ہی پشتو سی ڈی ڈراموں اور فلموں کے ایک فنکار اور ان فلموں اور ڈراموں میں قابل اعتراض مناظر کشی کی نشاندہی کرنے والے ایک ناظر کے درمیان فیس بک پر جس قسم کی زبانی کلامی لڑائی اور فنکار کی جانب سے دھمکی آمیز قسم کی بیان بازی سامنے آئی ہے اس پر اظہار تشویش ہی کیا جا سکتا ہے ۔ محولہ ناظرنے پشتو ڈراموں اورفلموں کے بعض قابل اعتراض کلپس جوڑ کر پختون ثقافت کے نام پر بے حیائی کو فروغ دینے کے اقدامات پر کمنٹری کرتے ہوئے لوگوں کی توجہ اس منفی رجحان کی جانب دلانے کی کوشش اگر کی تھی تو بحیثیت ایک پختون ناظر کے یہ اس کا بنیادی حق اس لئے بھی تھا کہ جب کوئی تحریر کوئی پینٹنگ کوئی ڈرامہ ، کوئی فلم یا ادب پارہ منظر عام پر آجاتا ہے تو پھر یہ پبلک پراپرٹی بن جاتا ہے اور اس پر کسی کو بھی اپنی صوابدید کے مطابق تبصرہ کرنے کا حق ہوتا ہے ،اور تخلیق کاریا ڈراموں اور فلموں سے وابستہ متعلقہ افراد اگر صحت مند تنقید کا برا مناتے ہیں تو انہیں اس قسم کے کام کرنے ہی نہیں چاہئیں ۔ پشتو فلموں کے ابتدائی دور میں اس قدر احتیاط برتی جاتی تھی کہ ہیرو اور ہیروئن کے مابین گانوں اور ڈانس کی فلمبندی کیلئے کہانی نویس اور فلم ڈائر یکٹر ’’ خواب ‘‘ کا سہارا لیتے تھے یعنی انہیں یہ احساس تھا کہ پختون دوشیزائیں محبوب سے ملاقات کے دوران گانے اور ڈانس جیسی کسی روایت کی متحمل نہیں ہو سکتیں اس لئے خواب آلود ماحول سے فائدہ اٹھا کر سانپ کو مارتے ہوئے لاٹھی کو ٹوٹنے سے بچانے کی ترکیب استعمال کی جاتی تھی ، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اور بعد میں سی ڈی ڈراموں کی آمد سے سارا کچھ تلپٹ ہو کر رہ گیا ۔ نہ صرف کھلم کھلا شراب نوشی کے مناظر ریکارڈ کئے جانے لگے بلکہ بے ہودہ رقص (فحاشی کی حد تک ) بھی شامل کئے جانے لگے۔ 

پاکستان فلم انڈسٹری کے ابتدائی دور کی فلمیں دیکھیں تو ان میں کسی پختون کا کردار آتا تو یا تو وہ چوکیدار ہوتا یا گھر کا معمولی قسم کا ملازم ، بعد میں پی ٹی وی کے ڈراموں میں بھی یہی روایت برقرار رکھی گئی ، یعنی ہر حقیر کردار کیلئے پختون کا انتخاب کیا جاتا۔ اسی کا اثر ہے کہ چند ماہ پہلے تک لاہور میں اپنا مرکزی دفتر رکھنے والے ایک چینل پر ایک مزاحیہ پروگرام میں ایک مخصوص علاقائی لباس میں ایک پٹھان کو سائیکل پر سوار فلور پر لایا جاتا اور اس کے منہ سے جناتی قسم کی اردو بلوا کر پختون کا مذاق اڑانے کی منفی روایت قائم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ، جس کے خلاف راقم نے کئی بار اپنے کالم میں احتجاج کرتے ہوئے وزیراطلاعات و نشر یات اور پیمرا حکام کی توجہ دلانے کی کوشش کی ، اس دوران پی ٹی وی پر ایک شاعر نے مزاحیہ مشاعرے میں پختون قوم کی جس طرح تضحیک کی اس پر پورے پختون معاشرے نے شدید احتجاج کیا اور یہ سلسلہ (فی الحال )تھم چکا ہے ۔ ایسی صورت میں جبکہ ہم بحیثیت پختون قوم دوسروں سے بجا طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ کیوں پختون قوم کی توہین کرتے ہیں تو خود پختون فلمسازوں، ڈرامہ پروڈیوسر وں ، فنکاروں وغیرہ پر زیادہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنی قومی روایات ، اور ثقافت کا جنازہ نکالنے سے احتراز کریں ، چہ جائیکہ کوئی اصلاح احوال کی کوشش کرے تو شہرت کی بلندیوں پر اڑتے ہوئے کوئی فنکار دھمکی آمیز بیانات سے ماحول کو پراگندہ کرنے کا سبب بن جائے ۔

جوآنا چاہو ہزار رستے نہ آنا چاہو تو عذر لاکھوں

مزاج برہم طویل رستہ برستی بارش خراب موسم

یہاں اس بات کی جانب اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام گزشتہ چند مہینوں کے دوران ادب و ثقافت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے کلچر پالیسی مرتب کرنے کیلئے نہایت عرق ریزی سے کام کیا ، اور کئی نشستوں میں پالیسی کی نوک پلک سنوارنے اور اسے حتمی صورت دینے میں مدد دی۔ راقم نے بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کیا اور اب اس پالیسی کو حتمی شکل دے کر مرتب کرلیا گیا ہے ، جبکہ اس پالیسی کو قانون سازی کے ذریعے صوبائی اسمبلی سے منظور کراکر نافذ کرنا باقی ہے ، اور جناب فضل الٰہی نے اپنی پریس کانفرنس میں اسی جانب اشارہ کیا ہے ، اسلئے امید کی جا سکتی ہے کہ صوبائی اسمبلی ایک ایکٹ کے ذریعے اس کو قانون کی شکل دے کر جلد از جلد نافذ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی ۔جس کے بعد کسی کو بھی پختون روایات اور ثقافت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی جرأت نہ ہو سکے گی ۔

متعلقہ خبریں