Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت مسلم بن یسارؒ جب نماز پڑھتے تھے تو انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے ارد گرد کیا ہورہا ہے ۔

اتفاق سے ایک دن مسجد میںنماز پڑھ رہے تھے کہ مسجد کا ایک حصہ گر پڑا ، یہ صورت حال دیکھ کر لوگوں نے شور مچا یا اور فی الفور مسجد سے باہر نکل گئے ، لیکن آپ ؒ کو اس واقعے کی خبر تک بھی نہ ہوئی ۔

(اولیاء کے اخلاق ، صفحہ 167)

حضرت مالک بن دینار ؒ فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم لوگ خانہ کعبہ کے طواف میںمصروف تھے ، میں نے ایک خاتون کو دیکھا جو حجرا سود کے قریب کھڑی رو رہی تھیں اور یہ فرما رہی تھیں : اے میرے خدا : مجھ پر رحم فرما ، اے میرے خدا ! مجھ رحم فرما ، میں تیرے دربار میں بہت دور سے آئی ہوں ، اے میرے پروردگار ! میں تیرے رحم وکرم کی امید پر آئی ہوں کہ تو مجھ کو اس دنیا میں کسی کا محتاج نہ بنا ۔ مالک بن دینارؒ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے اس عورت کی یہ الحاح وزاری دیکھی تو اس کی رہائش گاہ پہنچے تا کہ اس کے مزید حالات معلوم کر سکیں ، جب کچھ گفتگو ہو چکی تو تھوڑی دیر بعد ان خاتون نے فرمایا : اب آپ لوگ تشریف لے جایئے ، اتنی دیر تک آپ نے مجھ کو رب کی عبادت سے محروم رکھا ۔ (صفتہ الصفوۃ الابن الجوزی ، صفحہ 113ج )

ایک مرتبہ سماک ؒ ہارون رشید کے دربار میں تشریف لائے تو تھوڑی دیر بعد ہارون رشید نے پانی طلب کیا ۔ جب خادم نے پانی حاضر کیا تو ابن سماک ؒ نے فرمایا ’’ اے امیر المومنین ! ذرا ٹھہر جائیے اور بتلائیے کہ اگر اس وقت آپ کو یہ پانی نہ دیا جائے تو آپ اس کو کتنے میں خرید یں گے ؟ ہارون رشید نے جواب دیا : اپنی نصف بادشاہت سے ۔ جب ہارون رشید پانی پی چکے تو ابن سماک ؒ نے پھر فرمایا : اے خلیفہ ! اگر اس پانی کو آپ کے بدن سے نکلنے سے روک دیاجائے تو اس کے نکالنے کے لیے آپ کیا خرچ کریں گے ؟ ہارون رشید نے جواب دیا اپنی پوری بادشاہت ۔ اس پرابن سماک ؒ نے فرما یا : اے امیر المومنین جس ملک و سلطنت کی قیمت ایک گھونٹ پانی ہو وہ تو اس لائق ہے کہ اس پر فخر نہ کیا جائے ۔ یہ سن کر ہارون رشید دیر تک اشک بہا تے رہے ۔ (تاریخ الخلفاء للسیوطی ، جدید صفحہ 293)

شیخ عزالدین ؒ نے ایک مرتبہ د مشق میں دیکھا کہ کچھ فرنگی جنگی سازوسامان خرید و فروخت کر رہے ہیں ۔ تفتیش و جستجو کے بعد معلوم ہو ا کہ یہ سب تیاریاں مسلمانوں پر حملہ کرنے کیلئے کی جارہی ہیں ۔ بس پھر کیا تھا ،شیخ کا دل بیتاب ہوگیا ، طبیعت نے یہ گوارا نہ کیا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہتھیار خریدے جارہے ہیں ، ان سے امت محمد ؐ پر قاتلانہ حملے کئے جائیں گے ۔ اس کے بعد فوراً ہی لوگوں کو آگاہ کردیا کہ ان فرنگیوں سے خرید و فروخت ناجائز ہے ، اس کے بعد ہی سے معمول بنالیا تھا کہ ہر نماز کے بعد منبر پر بیٹھ کر عجیب و غریب ، پر سوز آواز میں مسلمانوں کی کامیابی کی دعا مانگتے تھے ۔

(طبقات الشافعیہ 100بحوالہ کچھ دیر اہل حق کے ساتھ ،ص57)

متعلقہ خبریں