Daily Mashriq


طاقت نہیں مفاہمت سب سے بہتر نسخہ

طاقت نہیں مفاہمت سب سے بہتر نسخہ

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایسی حد عبور نہ کرے کہ پھر ریاست کو اپنی رِٹ قائم کرنے کیلئے اقدامات اُٹھانے پڑیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی ایم کے مطالبات کے حوالے سے اس امر کا واضح عندیہ دیا کہ ان پر کام اور پیشرفت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتون تحفظ موومنٹ والوںکے صرف 3مطالبات تھے، چیک پوسٹوں میں کمی، مائنز کی کلیئرنس اور لاپتہ افرادکی بازیابی، یہ وہ مطالبات ہیں جو ریاست کی ذمہ داری ہے اور وہ کر رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی ایم والے ریڈ لائن کراس کریں گے تو ہم انہیں چارج کریں گے لیکن ان کیساتھ نرم رویہ اختیار کیا ہوا ہے کیونکہ وہ دکھے ہوئے ہیں ان کے علاقے میں پندرہ سال جنگ ہوئی جس کا شکار ان کے بہت سے لوگ ہوئے، ان کے مسئلے سے ریاست یا فوج نے آنکھیں نہیں پھیریں۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پی ٹی ایم والے اس لائن کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ان کیساتھ وہی ہوگا جو ریاست اپنی رٹ برقرار رکھنے کیلئے کرتی ہے اور ہم کریں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے تنبیہہ سے لگتا ہے کہ محولہ تنظیم کے حوالے سے معاملات کا روز اول سے جس سنجیدگی سے جائزہ لیا جاتا رہا وہ صبر اب لبالب ہے جس کا مظاہرہ ایک عرصے سے جاری تھا۔ درون خانہ حالات کا تو علم نہیں البتہ دیکھا جائے تو پشتون تحفظ موومنٹ سڑکوں پر جلسے جلوس اور عوامی سرگرمیاں تو درکنار اب سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی ایم پر سکوت طاری ہے۔ ممکن ہے درون خانہ بعض معاملات ایسے ہوں جو اس سخت تنبیہہ کی وجہ بن گئے ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تحفظات کا اظہار اور تحفظات دور کرنے بارے رابطے اور بات چیت کا تسلسل ہی معاملات کو احسن طریقے سے حل کرنے کا ذریعہ ہونے چاہئیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیاں اگر منفی ہیں تو ان کو مثبت میں تبدیل کرنے اور متبادل سوچ کے حامل افراد کو سامنے لاکر اعتدال پر مبنی اور قابل قبول افراد کو سامنے لانا کوئی مشکل کام نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت داوڑ قومی جرگہ اور شمالی وزیرستان میں خالصتاً خدمت کیلئے وقف نوجوانوں کا ایک قابل ذکر گروپ موجود ہے۔ علاقے کے عمائدین کی جو اہمیت حالات کی نذر ہوگئی تھی اس ادارے کی حیثیت رکھنے والے نمائندہ افراد کو ازسرنو اہمیت دے کر منفی اذہان اور منفی عناصر کی ہمسری ہوسکتی ہے۔ جائزہ لیا جائے تو بے شمار مواقع اور طور طریقے سامنے آسکتے ہیں جو کسی تصادم وانتشار اور معاشرتی امن کے متاثر ہوئے بغیر بروئے کار لائے جاسکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگرچہ پاک فوج کے ترجمان نے پی ٹی ایم کو متنبہ ضرور کیا ہے لیکن اگر تفصیلی طور پر اس حوالے سے ان کے خیالات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کے باوجود نہ صرف صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے بلکہ خود وہ یہ اپنی زبانی تسلیم کر رہے ہیں کہ جہاں تک جذبات اور احساسات کا تعلق ہے کوئی بھی پاکستانی جو کسی بھی وجہ سے لاپتہ ہے وہ ہمیں بھی اتنا ہی عزیز ہے۔ ہماری پوری کوشش ہوگی ہے کہ باقی لاپتہ افراد کے بارے معاملات بھی آگے بڑھیں چونکہ کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے اس لئے ان کیساتھ اب تک نرمی سے پیش آئے اور بات چیت سے آگے بڑھیں۔ اس کی دو وجوہات تھی۔ ان لوگوں نے جنگ دیکھی، فوجی آپریشنز میں تکلیف اُٹھائی۔ ہمارے لوگ ہیں دکھی ہیں، نقصان ہوا۔ انہوں نے زبان سے ضرور باتیں کیں لیکن ابھی تک تشدد نہیں کیا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کے تین مطالبات کا تعلق تھا ریاست نے انہیں اپنا سمجھ کر تعاون کیا لیکن اب یہ جس طرف جا رہے ہیں وہاں وہ حد عبور کر سکتے ہیں اور ہم اپنا اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔ میری ان سے درخواست ہے کہ پُرامن پاکستانی کا کردار ادا کریں اور اس نہج پر نہ جائیں کہ ریاست کو اپنا زور لگا کر صورتحال کو قابو کرنا پڑے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طرفین کو معاملات کا ادراک کرنے اور ایک دوسرے کے موقف کیساتھ ساتھ مجبوریوں اور مشکلات کو حقائق کی نظر سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور جن معاملات پر شدید تحفظات ہیں اس میں تھوڑی سی تبدیلی اور نرمی لانے کی ضرورت ہے تاکہ طاقت کے استعمال کی نوبت نہ آئے۔ ریاست کو واقعی ماں کی طرح وسعت قلبی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور روٹھے ہوئے عناصر کی دلجوئی اور ان کی شکایات میں جتنا ممکن ہوسکے کمی لانی چاہئے۔ پشتون تحفظ موومنٹ کا کردار ملکی سرحدوں کے اندر اور ان کے مطالبات ومعاملات اور تحفظات خواہ کتنے بھی شدید ہوں اس کے حل کیلئے اسے رجوع بھی اسی ملک وقوم کے اداروں ہی سے کرنا چاہئے۔ سرحد پار سے حال ہی میں ایک واقعے کے نتیجے میں جو بڑی غلط فہمی پی ٹی ایم کی قیادت کے حصے میں آئی ہے وہ صرف اداروں ہی کو نہیں اس ملک کے کسی بھی شہری کیلئے قابل قبول نہیں۔ اس قسم کے معاملات سے غلط فہمی اور کشیدگی میں اضافہ فطری امر ہوگا جس کا نتیجہ مثبت ہونے کی توقع نہیں۔

متعلقہ خبریں