Daily Mashriq


پولیو مہم ہی انسداد پولیو کیلئے کافی ہے؟

پولیو مہم ہی انسداد پولیو کیلئے کافی ہے؟

پاکستان میں تمام تر کوششوں کے باوجود پولیو وائرس کے خاتمے میں ناکامی لمحۂ فکریہ ہے۔ افغان سرحد سے آمد ورفت کرنے والے معمر افراد کیلئے پولیو کے قطرے لازمی قرار دے کر سرحد ہی پر ان کو پولیو قطرے پلانے کا انتظام کیا جائے تو اس پابندی کا اطلاق موثر ہوگا بصورت دیگر جس طرح بیرون ملک جانے والے افراد کیلئے ہسپتالوں کے سٹمپ لگے اور دستخط شدہ پولیو فارم جگہ جگہ برائے فروخت دستیاب ہیں کی طرح کی سرگرمی شروع ہو جائے گی اور یہ سعی بھی لاحاصل ٹھہرے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح پولیو کے قطرے پلانے ہی کو انسداد پولیو کا ذریعہ سمجھا گیا ہے اس پروگرام کی افادیت سے انکار نہیں لیکن جن مقامات پر پولیو وائرس کی موجودگی اور بار بار موجودگی سامنے آتی ہے ان علاقوں میں صحت وصفائی اور حفظان صحت کے انتظامات واقدامات پر توجہ کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی خود پولیو ورکروں کی جانب سے جعلی پولیو مہم چلانے اور ذمہ داری کی ادائیگی میں تساہل بھی کوئی راز کی بات نہیں۔ پولیو ورکرز کو معاوضوں کی ادائیگی میں کٹوتی کی شکایات بھی اس مہم میں نیم دلی کا سبب ہیں جب تک سارے معاملات کا مربوط انداز میں جائزہ لیکر یکبارگی اصلاح احوال کی مساعی نہیںکی جائیں گی اور سطحی طور پر پولیو مہم ہی کو واحد حل قرار دیا جاتا رہے گا پولیو وائرس کا خاتمہ ممکن نہ ہوگا۔

بالاحصار کو مرکز سیاحت بنایا جائے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا بالاحصار سمیت سیاحت کیلئے موزوں فوجی مقامات کا معاملہ اپیکس کمیٹی میں لے جانے کا عندیہ صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے اہم شمار ہوگا جہاں تک قلعہ بالاحصار کا تعلق ہے یہ شہر کے مرکز میں واقعہ ایسا تاریخی مقام اور سیاحوں کیلئے کشش کا باعث مقام ہے جو کسی بھی لحاظ سے آمد ورفت‘ سیکورٹی وغیرہ کے تناظر میں بھی فوجی ضروریات ومقاصد کیلئے موزوں نہیں علاوہ ازیں اس مرکز کا بہتر متبادل ایف سی کمپلیکس حیات آباد کی صورت میں موجود ہے جہاں دفاتر سے لیکر رہائشی سہولیات تک ایک محفوظ چاردیواری کے اندر موجود ہیں اسلئے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اس امر کا فیصلہ ہونا چاہئے کہ قلعہ بالاحصار کو محکمہ سیاحت وآثار قدیمہ کے حوالے کیا جائے اور دفاتر ومراکز منتقل کئے جائیں تاکہ سیاحوں اور دلچسپی رکھنے والے مقامی شہریوں کو ایک تاریخی مقام کا دورہ کرنے اور اونچے مقام سے شہر کے نظارے کا موقع میسر آئے۔

جرمن سفیرکی ٹویٹ پر بپا ہنگامہ

سوشل میڈیا پر ان دنوں جرمن سفیر مارٹن کوبلر کی ایک ٹویٹ پر ہنگامہ برپا کرنے کی بجائے اگر اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت گوارہ کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ جرمن سفیر نے بس اتنا ہی سوال کیا تھا کہ ازاخیل بالا میں بنائی گئی اس سڑک کو دیکھیں جسے مقامی دیہاتیوں نے جرمنی کے ایف ڈبلیو بینک کی مدد سے تعمیر کیا۔ ایک کلومیٹر کی سڑک جس پر چالیس لاکھ لاگت آئی بارہ انچ کی تہہ کیساتھ۔ یہی سڑک خیبر پختونخوا کی حکومت نے ایک کروڑ روپے کے خرچ سے بنائی۔ جرمن سفیر کی ازاخیل میں سڑک کی تعمیر کے تقابل کی سفارتی طور پر گنجائش ہے یا نہیں اس بحث سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ جو ملک سڑک کی تعمیر کیلئے رقم دیتا ہے کیا اس ملک کا سفیر ایک ایسا سوال بھی نہیں پوچھ سکتا جو عوام کے عین مفاد میں ہو۔ اگر ہمارے سرکاری ادارے ملی بھگت اور کمیشن کھا کر سڑک کی تعمیری لاگت بڑھانے اور معیار گرانے کے ذمہ دار ہیں تو آخر کبھی کسی نے ان سے یہ پوچھنے کی زحمت کیوں گوارا نہیں کی اورکیوں ان کی کارکردگی پر سوال نہیں کیا گیا۔ جرمنی کے سفیر کے آئینہ دکھانے پر ہمارے سرکاری ترجمان سمیت سرکاری حلقوں کی برہمی عذر گناہ بدتر ازگناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر مواصلات وتعمیرات اس کا نوٹس لیتے اور فوری طور پر تحقیقات کا حکم دیا جاتا کہ حقیقت حال کیا ہے۔ اگر جرمن سفیرکی نشاندہی درست ہے تو پھر ایسا کیوں نہیں کیا گیا اور اگر درست نہیں تو بھی جرمن سفیر کے اس دعوے کو حقیقت حال اور حقاق کی روشنی میں جواب دینے کی بجائے سفارتی آداب سے جوڑ کر اور سوشل میڈیا پر طوفان برپا کرنا کیا مناسب ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ باہر سے آنے والی گرانٹ کو ہمارے حکمران اور بیوروکریسی شیر مادر کی طرح ہڑپ کرتی ہے اور ہمارے عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ہمارے مسائل حل کرنے کیلئے جو عطیات اغیار دیتے ہیں اس پر ڈاکہ ڈالنے والے کوئی اور نہیں ہم ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے کتنے اداروں میں کتنے منصوبوں میں غیر ملکی فنڈز سے بہتری اور تبدیلی کے منصوبے کاغذوں پر بنتے ہیں یا پھر سطحی اور نمائشی قسم کے چند ایک اقدامات کے بعد وہ رقم ہڑپ نہیں ہوتی۔ کیا یہ بہتر نہ تھا کہ ہمارے حکمران‘ سرکاری افسران اور این جی اوز چلانے والے اس نشاندہی کی وجوہات پر توجہ دیں اور اصلاح احوال کی سعی کریں۔

متعلقہ خبریں