Daily Mashriq


سوال ہیں جواب آں غزل نہیں

سوال ہیں جواب آں غزل نہیں

زیادہ مناسب یہی تھا کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور 70برسوں کے دوران آئے نازک ادوار کے ذمہ داران کے بارے میں بھی بتا دیتے تاکہ عوام جان پاتے کہ کن لوگوں نے ملکی مفاد کے منافی خارجہ وداخلہ پالیسیاں وضع کیں جن سے مسائل پیدا ہوئے۔ ان کا یہ کہنا کہ میڈیا 6ماہ تک اندرون وبیرون ملک ترقی دکھائے پھر دیکھیں پاکستان کہاں پہنچتا ہے کے حوالے سے یہ سوال بھی دریافت کیا جانا چاہئے کہ وہ ترقی ہے کہاں جس کی منظرکشی مقصود ہے۔ غربت ومہنگائی خطرناک حد تک بڑھ چکی‘ بیروزگاروں کی فوج ظفر موج میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے۔ آمدنی واخراجات میں عدم توازن صرف عام شہری تک محدود نہیں اس سے آگے بھی راحت جاں سے بھرے قصے ہرگز نہیں۔ اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے آرمی چیف کا پیغام بھی سنایا کہ ’’ایک ایک اینٹ لگا کر ملک دوبارہ بنا رہے ہیں ایسا وطن چاہتے ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہو کوئی شخص یا ادارہ ریاست سے بالاتر نہیں‘‘ خوش آئند پیغام ہے لیکن یہ تو بتایا جائے کہ بربادیوں کا ذمہ دار کون ہے کوئی ایک طبقہ یا ادارہ یا سبھی نے حصہ بقدر جثہ ڈالا بربادیوں میں؟ قیام امن کی منزل کتنی دور ہے۔ فوج کی توجہ بلوچستان پر ہے۔ یہاں دو سوال بہت اہم ہیں۔ اولاً یہ کہ امن واخوت کے دشمن غیر ریاستی لشکر کن حالات میں کس نے تشکیل دلوائے؟ بلوچستان میں درحقیقت ہو کیا رہا ہے؟ کیا سینہ بہ سینہ آتی اطلاعات اور آزاد ذرائع کی رپورٹس کو کھلا کفر سمجھ کر عالی جناب کے ارشادات پر ایمان لے آیا جائے۔ یا پھر اس حوالے سے عسکری قیادت سیاسی قیادت کو اعتماد میں لے کر اس امر کی خواہش مند ہوگی کہ پارلیمان کے ذریعے عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ لوگ یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں معلوم ہو کہ ملک کے ایک صوبے کے مخصوص حصے میں کھچڑی پک کیا رہی ہے۔ کھچڑی کے لوازمات کون فراہم کر رہا ہے اور آگ کس نے سلگائی رکھی ہے۔

یہ امر مسلمہ ہے کہ اچھے اور محفوظ مستقبل کی طرف تبھی بڑھا جا سکتا ہے جب الزام تراشیوں سے اجتناب برتا جائے اور اعتماد سازی کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ کیا اس سے قبل ماضی میں ہوئے ایڈونچروں‘ اقدامات اور دیگر امور پر کھلے مکالمے کی ضرورت نہیں تاکہ عوام جان پائیں کہ ابتری و بداعتمادی کو دوام کیونکر حاصل ہوا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ امور پر فقط غور وفکر کی نہیں بلکہ حقیقت حال کے اعتراف کی ضرورت ہے۔ اداروں کو متنازعہ بنانے کے کسی بھی عمل کی تائید نہیں کی جا سکتی، ادارے ریاست اور دستور کے وفادار ہوتے ہیں۔ یہ جذبہ محض اظہار کی حد تک موجود ہے عملی طور پر انگنت سوالات ہیں۔ سوالات کیوں پیدا ہوئے اس پر لمبی چوڑی بحث اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ دولفظی بات یہ ہے کہ جب یہ تاثر عام ہو کہ پارلیمان خارجہ پالیسی وضع کرنے کی مجاز نہیں اس حوالے سے ڈے ٹو ڈے ہدایات دفتر خارجہ کو موصول ہوتی ہیں تو سمجھا جا سکتا ہے کہ کیا پنپ رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے سربراہ نے پریس کانفرنس میں جن خیالات کا اظہار کیا ان میں سے چند نکات ایسے ہیں جن پر گفتگو اور مکالمہ ممکن نہیں۔ کیوں ممکن نہیں؟ اس سوال کا جواب بھی خود ان کے پاس ہے۔ پی ٹی ایم کے معاملے میں ان کے موقف پر صاد کرنا قدرے مشکل ہوگا ایسا ہی معاملہ بلوچستان کے حوالے سے ہے۔ ارشادات کے پیچھے طاقت کا ہونا سوال کرنے میں مانع ہوتا ہے۔ اصل میں ضرورت ہی اس بات کی ہے کہ سوال اور جواب کیلئے ماحول سازگار ہو۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تاثر کو حقیقت بنانا ہوگا کہ ملک کی قیادت عوام کے نمائندوں کے پاس ہے وہی پالیسی سازی کا حق رکھتے ہیں۔ یہ بجا ہے کہ ایک مستحکم ترقی یافتہ پُرامن پاکستان ہی آئندہ نسلوں کے مستقبل کا محافظ ہے۔ اس منزل پر پہنچنے کیلئے جن اقدامات اور وسعت القلبی کی ضرورت ہے کیا اس کیلئے بھی سبھی تیار ہیں؟ اس سوال کے جواب میں مستقبل محفوظ ہے۔

مکرر عرض ہے۔ ماضی کو فراموش کر دینے کا مشورہ بجا ہے ضرورت بھی اس بات کی ہے کہ متحد ہو کر آگے بڑھا جائے لیکن یہ اس طور ممکن ہے جب ہر شخص اور ادارہ خود کو دستور وقانون کا پابند سمجھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ماضی فراموش نہیں ہوتا وہ تاریخ کا حصہ رہتا ہے۔ فراموشی سے زیادہ اہم بات یہ ہوتی ہے کہ کیا فرد‘ ادارے یا ملک نے ماضی سے سبق سیکھ کر بدلتے ہوئے حالات میں حکمت عملی وضع کرنے کی شعوری کوشش کی ہے یا ماضی کے مزار پر پرانا جہان آباد کرنے کو نیاپن ثابت کیا جا رہا ہے؟ یہ درست ہے کہ فوج ایک قومی ادارہ ہے اسے کسی ایک صوبے کیساتھ نتھی کرنا غلط ہوگا مگر کیا یہ تاثر فقط ہمیں اجاگر کرنا ہے یا فوج کے اندر سے بھی ایسے اقدامات ہوں گے جن سے افواہوں‘ الزامات اور تعصبات کو رزق فراہم کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ یہ بھی عرض کرنا مناسب ہوگا کہ کرتارپورکراسنگ پر کسی کو اعتراض نہیں پڑوسی ممالک کیساتھ تعلقات کو مثالی بنانا یکطرفہ ضرورت نہیں مگر اس حوالے سے ہمیں اپنے حصے کا کردار ادا کرتے رہنا چاہئے۔ عدم برداشت‘ انکار اور نفرت سے اٹے ماحول میں بہت جی لیا گیا نفع ونقصان کا حساب سب کے سامنے ہے۔ اندریں حالات ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ممکن طریقہ سے سیکورٹی اسٹیٹ کے تاثر کو زائل کیا جائے۔ یہ کیسے ممکن ہے اور اس کیلئے فوری طور پر کیا اقدامات کرنا ہوں گے یقینا اس بارے بھی عسکری قیادت جانتی ہوگی۔ حرف آخر یہ ہے کہ بھارت کے سیکولر ازم کی بھد اڑانے والوں پر حرف گیری کی بجائے ہمیں اس امر پر غور کرنا ہوگا کہ ایک سوشل ڈیموکریٹک ریاست کے قیام کی سمت بڑھتے بڑھتے کن وجوہات کی بناء پر ریاست کے مذہبی چہرہ اور تشخص کو ہی نجات کی ضمانت سمجھ لیا گیا۔ خیر وبھلائی کے پہلو تلاش کرنے کیساتھ اگر ان میں حصہ بھی ڈالا جائے تو درست سمت گامزن ہوا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں