Daily Mashriq


آبادی پر قابو پانا کیوں ضروری ہے؟

آبادی پر قابو پانا کیوں ضروری ہے؟

بڑھتی آبادی واقعی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے کیونکہ آبادی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا تعلق تمام مسائل سے ہے، روزگار، تعلیم، صحت سے لیکر وسائل کی تقسیم تک آبادی کا عمل دخل ہے۔ جس قدر یہ مسئلہ فوری توجہ کا حامل ہے اسی قدر بے توجہی کا ثبوت فراہم کیا جاتا ہے۔ حکمرانوں نے جتنی توجہ وسائل کی فراہمی پر دی ہے اگر اس سے دس گنا کم توجہ بھی آبادی پر دی ہوتی تو آج ہمارے مسائل یقیناً کم ہوتے۔ آبادی پر کنٹرول سے پہلے ہمیں سب سے پہلے عوام کو اس کی شدت کا احساس دلانا ہوگا اس کے بغیر آبادی پر قابو پانا بہت مشکل ہے، حکومت نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کیلئے اسلام آباد میں سمپوزیم کا انعقاد کیا جو اس جانب مثبت پیش قدمی ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس سپموزیم میں آبادی پر قابو پانے کا کوئی منصوبہ پیش کیا گیا اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کوئی اعلان کیا گیا۔ یہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ حکومت نے اس مسئلہ کو سرسری لیا ہے۔ مولانا طارق جمیل نے بڑھتی ہوئی آبادی کی جو وجوہات غربت، کم علمی اور معاشی دباؤ بیان کی ہیں حکومت کو اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک عوامل کا خاتمہ یقینی نہ بنایا جائے مسئلہ جوں کا توں ہی رہے گا۔

آج ہر شادی شدہ انسان خاندانی منصوبہ بندی کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ کوئی تو اسے اپنا لیتا ہے تو کوئی اس کو اختیار کرنے میں تذبذب کا شکار رہتا ہے۔ عوام کی بڑی تعدادکو تو یہ سہولیات ملتی ہی نہیں۔ یوں خاندانی منصوبہ بندی کے انتخاب میں تردد اور سہولیات کی فراہمی میں تشنگی کا حاصل آبادی میں بے ہنگم اضافہ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلا کر آبادی کو وسائل کی دستیابی کی مناسبت سے ہی بڑھایا جائے تاکہ ہر کسی کے انسانی حقوق کی تکمیل ممکن ہو کیونکہ خاندانی منصوبہ بندی ایک ایسا انسانی حق ہے جو کئی ایک دیگر انسانی حقوق کی تشفی کا باعث بنتا ہے جبکہ اس کی سہولیات کی ہر شادی شدہ جوڑے کو باآسانی دستیابی اسے بذات خود ایک انسانی حق کی صورت دیتی ہے جسے 1968 میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی کانفرنس میں بطور انسانی حق کے تسلیم کیا گیا۔ ہر خاتون کا یہ انسانی حق ہے کہ اسے تشدد سے پاک ماحول فراہم کیا جائے۔ بچوں کی تعداد اور ان میں وقفہ کے حوالے سے ہر شادی شدہ عورت کی رائے کو مقدم رکھا جائے تاکہ وہ صحت مند رہے۔ اسی طرح ہر پیدا ہونے والے بچے کا یہ حق ہے کہ جب وہ پیدا ہو تو وہ جسمانی اور ذہنی طور پر مکمل صحت مند ہو، اسے ماں کا دودھ میسر ہو، حفاظتی ٹیکے بروقت لگوائے جائیں، کھیلنے اور سیکھنے کے مواقع مہیا کئے جائیں، معیاری اور مکمل تعلیم فراہم کی جائے، اسے تحفظ دیا جائے، علاوہ ازیں ہر مرد کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اپنے اوپر زیادہ بچوں کی صورت میں ذمہ داریوں کا اتنا ہی بوجھ ڈالے جتنا کہ وہ باآسانی اٹھا سکے۔ یہاں یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ ان تمام باتوں اور حقوق کا خاندانی منصوبہ بندی سے کیا تعلق؟ اگر ہم ان حقوق کو حال کے تناظر میں دیکھیں تو خاندانی منصوبہ بندی استعمال کرنے والا ہر شادی شدہ جوڑا ان تمام حقوق کی کسی نہ کسی طرح تکمیل کر رہا ہوتا ہے۔ مثلاً جب گھر میں بچے کم ہوں گے تو ہر بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کیلئے وسائل بھی موجود ہوں گے۔ گھر کا ماحول لڑائی جھگڑے سے پاک ہوگا اور خواتین پرتشدد کے واقعات بھی نہ ہوں گے۔ بچے معیاری اور مکمل تعلیم حاصل کر سکیں گے اور کسی کی تعلیم ادھوری نہیں رہے گی۔ اگر ہم ان حقوق کو مستقبل کے تناظر میں دیکھیں تو خاندانی منصوبہ بندی کا استعمال فیملی سائز کو اپنے وسائل کی مناسبت سے رکھنے کا اختیار دیتا ہے جو اوپر بیان کردہ حقوق کی مستقبل میں بھی ادائیگی کو یقینی بنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور یہ آبادی میں ہر اس غیرشعوری اضافہ کو روکتا ہے جس کے اثرات انفرادی، خاندان، معاشرے اور ملک کی سطح پر مرتب ہوتے ہیں۔ رہ گئی بات مرد کے بوجھ اُٹھانے کی تو اس حوالے سے چند باتیں مدنظر رکھنا ضروری ہیں۔ وہ یہ کہ رازق اللہ پاک کی ذات ہے لیکن بچوں کی بہتر پرورش اور ان کی تربیت والدین کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے اور جب بچوں کی کثرت ہوگی تو ذمہ داریوں کی فہرست بھی اسی مناسبت سے طویل ہوگی۔ تمام اضافی ذمہ داریوں کے بوجھ سے بچنا اور حقوق کی تکمیل خاندانی منصوبہ بندی کے اختیار میں ہی پنہاں ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی بذات خود ایک انسانی حق ہے جس کو چار پہلوؤںکی یکساں ادائیگی سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ اول خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات وافر مقدار میں دستیاب ہوں۔ دوم کسی بھی قسم کی تفریق سے مبرا یہ جسمانی اور معاشی طور پر سب کی پہنچ میں ہوں۔ سوم انفرادیوں اور ثقافتی حوالے سے قابل قبول ہوں۔ چہارم اعلیٰ معیار کی حامل ہوں۔خاندانی منصوبہ بندی کی راہ میں حائل دیگر وجوہات کیساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے حالانکہ حکومت کی طرف سے ان مراکز کیلئے خطیر رقم مختص کی جاتی ہے۔ ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم کیساتھ ساتھ ان کی ٹریننگ اور بیرون ممالک دوروں کا اہتمام اس مقصد کے تحت کیا جاتا ہے کہ عوام کو معیاری علاج کی سہولتات فراہم کی جا سکیں۔ اس کے باوجود اگر عوام ان مراکز کا رخ نہیں کرتے تو حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہئے اور آگاہی مہم کے ذریعے عوام میں پایا جانے والا ابہام دور کر کے انہیں ایسے مراکزسے استفادہ کیلئے قائل کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں