Daily Mashriq


وفاقی کابینہ میں تبدیلی کے اشارے!

وفاقی کابینہ میں تبدیلی کے اشارے!

وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کی ایک خصوصی نشست میں اشارہ دیا ہے کہ ملک میں مڈٹرم انتخابات ہوسکتے ہیں، وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ جو وزیر پرفارمنس نہیں دے گا اسے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ متعدد وزراء کے ناموں پر سرخ نشان لگ چکا ہے، متعدد چہرے تبدیل کئے جا رہے ہیں اور کچھ وزراء کابینہ سے فارغ کردیئے جائیں گے۔ وزارت خزانہ میں تبدیلی کو معیشت اور پالیسی کیلئے عدم منصوبہ بندی بیان کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ ملکی معیشت کو درست کر دے گی۔ یہ کام ہونا بھی چاہئے کہ معیشت کی بہتری، خارجہ امور میں جرأت مندی اور شفافیت کے بغیر ریاست کے امور بخوبی انجام نہیں پاسکتے، لیکن حکومت تین ماہ کے دوران روپے کی قدر میں 11.9فیصد کمی کر چکی ہے اور جس تیزی سے روپیہ سستا کیا جا رہا ہے مہنگائی میں بھی اسی تیزی سے اضافہ جاری ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کا مطالبہ مان لیا ہے اور اس کا آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اب گیس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بھی اضافہ ہوگا اور جنوری میں آئی ایم ایف پاکستان کیلئے قرضے کی منظوری دے دیگا۔ وفاقی مشیر اشفاق حسن خان کی جانب سے آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ کر لینے کی بات کی تصدیق بھی ہوچکی ہے جس کے بعد قیامت خیز مہنگائی، کسادبازاری، اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کے جھٹکے لگے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے اسی تناظر میں باور کرایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی سو دن کی تکمیل پر کی گئی تقریر کے باعث ڈالر مہنگا ہوا ہے کیونکہ حکومت کے پاس معیشت کو سنبھالنے کیلئے ویژن ہے نہ روڈ میپ۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت ملک کی ہر اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کی حکومت میں آئے ہوئے مہنگائی کے سونامی پر تشویش ظاہر کر رہی ہے۔ جب تک اقتدار نہیں ملا تھا عمران خان قوم کو یہی مژدہ سناتے رہے کہ ملک کو آئی ایم ایف کے گھن چکر میں نہیں پڑنے دیں گے اور اس کی جانب رجوع نہیں کیا جائے گا لیکن اقتدار مل جانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم کو باور کرایا کہ معیشت کو سنبھالنے کیلئے ہمیں نئے قرضے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ سکتا ہے۔

حکومت کو سو دنوں کی نہیں بلکہ پانچ سال کی تیاری کرنی چاہئے تھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم سمیت تمام کابینہ دباؤ کا شکار ہے حالانکہ وہ پانچ سال کیلئے منتخب ہوکر آئے ہیں انہیں لانگ ٹرم منصوبہ بندی کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے جب حکومت کی جانب سے سو دن کی کارکردگی کی بات کی جاتی ہے تو اسے بھی ان ہاؤس جانچنے کی ضرورت ہے، ایسے مسائل کو عوام کے سامنے رکھنے کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکومت نے قبل ازوقت اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس مکمل اختیار ہے، انہیں عدلیہ اور فوج کا بھی اعتماد حاصل ہے، اس کے باوجود یہ حکومت کام نہ کر سکی تو تحریک انصاف کا حال بھی ماضی کی حکومتوں سے مختلف نہ ہوگا۔ کچھ اندازے اور شواہد ایسے بھی سامنے آرہے ہیں جن سے اندازہ ہو رہا ہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک متعدد کاروباری کارٹل اور شخصیات صرف اپنے کاروباری مفادات کا تحفظ کرنے کی حد تک ہی پارٹی سے وابستہ ہیں اور ایک محفوظ چھتری تلے فوائد حاصل کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ ابھی ڈالر اچانک کیوں مہنگا ہوا؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ حالیہ سہ ماہی میں حکومت کو بہت کم محاصل ملے ہیں، وجہ ملک میں کاروبار کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ جنوری میں حکومت کو قرض کی قسط ادا کرنی ہے، لہٰذا ڈالر مافیا نے کام دکھا دیا۔ اب حکومت قسط کی ادائیگی کیلئے مہنگا ڈالر مارکیٹ سے خریدے گی۔ تحقیقات تو یہ ہونی چاہئے کہ اس کھیل میں کون فائدہ اُٹھا رہا ہے؟ سب سے پہلے تحریک انصاف اپنے ان لوگوں سے پوچھے جو اس کاروبار سے وابستہ ہیں، جو لوگ ڈالر کی قیمت میں اضافے کے کھیل میں شریک ہیں وہ اس ملک سے کھلواڑ کر رہے ہیں اور یہ بھی کرپشن کی ہی ایک شکل ہے۔ اس وقت معیشت کی حالت مخدوش ہے، اس کے بعد کیا ہوگا؟ بے یقینی کی فضا قائم ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں جو ہونے والا ہے وہ عام آدمی کو بھی متاثر کرے گا۔ یہ گراوٹ آئی ایم ایف کی وجہ سے بھی نہیں ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان سوچیں کہ اب وہ حکومت کے سربراہ ہیں، اپوزیشن لیڈر نہیں ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں معاشی بحران وقتی ہے، عمران خان اگر ایک کام کرلیں تو ہمارے بیسیوں مسائل حل ہو سکتے ہیں وہ کام یہ ہے کہ پوری یکسوئی کیساتھ کام میں لگ جائیں، قوم کو صرف اتنا بتائیں کہ ہمیں معاشی صورتحال کا سامنا ہے اور بہت جلد ہم اس معاشی بحران سے نکل جائیں گے۔ اس بحران سے نکلنے کیلئے پوری قوم کی مدد درکار ہے، کفایت شعاری وہ پہلے ہی اپنا چکے ہیں، اس کے بعد وزیراعظم اور ان کی پوری کابینہ غیرضروری میڈیا پر آکر وضاحتیں پیش کرنے سے بچیں کیونکہ یہ وضاحتیں ہی ان کیلئے مسائل کا سبب بن رہی ہیں۔ عمران خان نے جس خوداعتمادی کیساتھ اپوزیشن کا دور گزارہ ہے اس سے کئی گنا زیادہ خوداعتمادی کی ضرورت حکومت کرنے کیلئے درکار ہوتی ہے۔ یہ خوداعتمادی اسی صورت آسکتی ہے جب وزیراعظم اپنی آئینی مدت پانچ سال کو سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے۔

متعلقہ خبریں