Daily Mashriq


ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

جب بھولا باچھا اپنے گھر لوٹا تو بیٹے نے بتایا کہ آج ہمارے ہاں مہمان آئے تھے۔ معلوم نہیں بھولا باچھا مہمانوں کا نام سنتے ہی گھبرا کیوں جاتا تھا حالانکہ جب کوئی کسی کے ہاں مہمان بن کر جاتا ہے تو وہ اپنے میزبان کے اللہ کی سو سو رحمتیں اور اس کی نعمتیں لیکر وارد ہوتا ہے۔ کہتے ہیں وہ اپنے حصے کا رزق اپنے ساتھ لیکر آتا ہے۔ جب ہی تو بڑے بزرگ کہہ گئے ہیں کہ دانے دانے پہ لکھا ہے کھانے والے کا نام۔ مگر بھولا باچھا ان سب باتوں کو نہیں جانتا اور اگر جانتا بھی تو نہیں مانتا۔ اس کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں جب اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اس کے ہاں کوئی مہمان آرہا ہے۔ لیکن آج اس نے اپنے پپو میاں سے مہمانوں کے آنے کے امکانات یا ان کے آنے کی اطلاع نہیں سنی بلکہ مہمانوں کے آکر چلے جانے کی خبر سنی تو وہ اپنے دل کی دھڑکنوں پر قابو پاتے ہوئے کہنے لگا۔ ارے ارے ارے۔ کب؟ کیوں؟ کون؟ کیسے آیا ہمارے گھر مہمان بن کر!! گھبرائیے نہیں ابو جان کوئی پرائے لوگ تھوڑی آئے تھے مہمان بن کر بس اپنے چچا اور چچی آئی تھیں۔ ارے ارے ارے۔ وہ کیوں چلے آئے مہمان بن کر۔ کہتے تھے کہ تمہارے ابو سے ملنے کو جی کر رہا تھا سو ہم چلے آئے۔ پپو نے جواب دیا۔ غضب خدا کا ان کے گھر جاؤ تو ایک پیالی قہوے کا بھی نہیں پوچھتے۔ تم نے تو ان کی اچھی خاصی خاطر مدارت کی ہوگی۔ بھولے باچھا نے پپو سے پوچھا۔ جو مجھ سے بن پڑی کر دی۔ کیا کیا؟ کیا کھلادیا ان کو۔ بھولا باچھا قدرے غضب ناک ہوکر بولا۔ ارے گھر میں کیا رکھا تھا جو کھلاتا پپو نے بھولے باچھا کو جواب دیا۔ میں نے بس اتنا کیا کہ ان کو دو انڈے پیش کر دئیے۔ ارے ارے ارے یہ تونے کیا کر دیا۔ تمہیں معلوم ہے کتنے کے آتے ہیں دو انڈے۔ بھولے باچھا نے کنجوسی کی انتہا کرتے ہوئے کہا۔ یہ کیا غضب کر دیا تونے۔ گھبرائیے نہیں ابو۔ پپو نے اپنے ابو کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ میں نے انہیں کوئی سچ مچ کے انڈے تھوڑے کھلا دئیے۔ تو پھر چائنہ سے آئے ہوئے انڈے کھلائے ہوںگے۔ بھولے باچھا نے پپو سے وضاحت چاہی۔ جس کے جواب میں پپو اپنے کنجوس باپ کو سمجھانے کی غرض سے انگلی کے اشارے سے گول دائرہ بناتے ہوئے کہنے لگا۔ میں نے ایک کاغذ لیا اور اس پر یوں انڈے جیسا گول دائرہ بنایا اورچچا جان سے کہا یہ لیجئے چچا جان آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں دیسی مرغی کا ایک انڈہ اور پھر میں نے دوسرے کاغذ پر انڈے جیسا دائرہ بنا کر چچی جان کو وہ کاغذ تھما کر دوسرا انڈا تھما دیا۔ واہ واہ واہ۔ اچھا کیا ان کو سچ مچ کے انڈے پیش کرنے کی بجائے کاغذی اور فرضی انڈے پیش کر دئیے۔ لیکن پپو! تم نے اگر فرضی انڈے پیش کرنے ہی تھے تو تجھے کیا پڑی تھی کاغذ پر اتنے بڑے دائرے بنا کر انڈے بنانے اور ان کو چچا چچی کے حوالہ کر دینے کی۔پپو میاں دیسی انڈوں کے علاوہ دیسی مرغی بھی بنا کر اپنے چچا چچی کو پیش کردیتے تو ان کا کیا جاتا، لیکن وہ بیٹا کس کا تھا، سو اس نے کاغذ پر صرف انڈوں کی تصویر بنا کر پیش کرنے میں عافیت سمجھی، ہمیں کبھی یاد نہ آتی بھولے باچھا اور اس کے بیٹے پپو کی انڈوں بھری مہمان نوازی کی، اگر ہمارے پیارے ملک کے راج دلارے وزیراعظم عمران خان پر ان کے جرم ناکردہ کی پاداش میں چہار سو سے لفظوں، جملوں اور جگتوں کے اچھے اور برے انڈوں کی بارش نہ ہو رہی ہوتی۔ عمران نے قومی معیشت کو مضبوط کرنے اور قرضہ کی لعنت سے آزاد ہونے کیلئے مرغی انڈے کی بات کیا کر دی ایک طرفہ تماشا ہاتھ آگیا یار لوگوںکے۔ وہ جو کہتے ہیں تنقید کرنا سب سے آسان کام ہے، سو ڈونگرے بجنے لگے تنقید وتنقیص کے، ہمارے اسکول ماسٹر ہماری کارکردگی کے پیش نظر ہمیں انڈوں کیساتھ ڈنڈوں کا تحفہ بھی دیا کرتے تھے۔

عمران خان کے انڈے مرغی کے، شیخ چلیانہ فلسفے پر تنقید کرنے یا طنز کے نشتر برسانے والوں پر ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ وہ مرغی اور اس کے انڈوں کو آپ بھول کر بھی معمولی نہ سمجھیں۔ انڈوں سے چوزے نکلیں، ان کا آملیٹ بنے یا ان کو کسی کی درگت بنانے کیلئے استعمال کیا جائے انڈے آخر انڈے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے طالب علمی کے زمانے سے یہ بات اچھی طرح ازبر کر چکے ہیں کہ انڈوں اور ڈنڈوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن ہم نے جب پڑھ لکھ کر ہوش کے ناخن لئے تو ہماری کھوپڑی کے بھوسے میں یہ بات بھی سما گئی کہ انڈوں اور ڈنڈوں کا ہم قافیہ لفظ جھنڈا بھی، ہم نے جب یہ بات سنی تو بے اختیار ہوکر پکار اُٹھے

ہر دل کی ہے تمنا، لب پہ یہی دعا ہے

یا رب رہے ہمیشہ اونچا وطن کا جھنڈا

کڑوی سہی مگر یہ، ہے بات اک حقیقت

جھنڈے کے واسطے ہو مضبوط سا اک ڈنڈا

یہ وہی ڈنڈا ہے جو موسیٰ کو ملتا ہے تو فرعون اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے، افواج پاکستان کے ہاتھ میں آتا ہے تو ملک کے اندر اور باہر کے ملک دشمن چنے چبانے لگتے ہیں، جب قانون کے رکھوالوں کے ہاتھ میں قلم بن کر آتا ہے تو حق وانصاف کا بول بالا ہو جاتا ہے اور جب اسے قلم کار تھامتے ہیں تو وہ پکار اُٹھتے ہیں کہ

لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

متعلقہ خبریں