Daily Mashriq


بنیادی توجہ طلب مسائل

بنیادی توجہ طلب مسائل

شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ملک میں پانی کی کمی اور آبادی میں اضافے پر پریشان ہو کر آنے والی نسلوں کی حفاظت کرنے اور پریشانیوں سے بچا کر رکھنے کیلئے ان دو اہم شعبوں کے حوالے سے ایک طرح کا ’’سوموٹو‘‘ لے چکے ہیں۔ اگرچہ اس پر بعض سیاسی پارٹیوں کے اکابرین چیں بہ جبیں نظر آتے ہیں کہ آخر قاضی القضاۃ کا ان کاموں سے کیا تعلق اور تُک بنتا ہے۔ بادی النظر میں ان کی بات صحیح لگتی ہے اور حقیقت میں یہ دونوں کام حکومتوں کے کرنے کے تھے لیکن یہ فطرت کا ایک اٹل اصول ہے کہ دنیا میں جس بھی شعبے میں خلا پیدا ہوگا اسے پُر کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی آگے بڑھے گا۔

چونکہ ہماری اکثر حکومتیں اصلی مینڈیٹ اور فرائض منصبی کے علاوہ پانامہ‘ اقامہ اور بے نامی اکاؤنٹس وغیرہ میں مشغول رہیں۔ اس لئے ان اہم شعبوں کی طرف توجہ دینے کیلئے وقت نہ نکال سکیں اور وہ زیادہ تر ان معاملات میں شب وروز مشغول رہیں جہاں کمیشن اور کک بیکس وغیرہ کے قوی امکانات بلکہ امکانات کیا یقین تھا۔

اس ذیل میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے ازاخیل کی مقامی آبادی اور جرمن حکومت کے تعاون سے ایک کلو میٹر سڑک کی تعمیر کا حکومت پاکستان کی بنائی ہوئی ایک کلو میٹر سڑک کے معیار اور اخراجات کے حوالے سے موازنہ کرتے ہوئے سوال اُٹھایا ہے اس کا سیدھا سا جواب تو یہی ہے کہ پاکستانی حکومت کی بنائی ہوئی سڑک میں نامعلوم اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر تک کتنے یار لوگوں کا مختلف جائز ناموں کیساتھ حصہ رہا ہوگا اور آپ نے تو سیدھا سبھاؤ میٹریل خرید کر مزدوروں اور اپنے معتمد آدمیوں کے ذریعے نگرانی کروا کر بنایا ہوگا۔ کے پی حکومت کے مشیر نے اس کی کتنی خوبصورت تاویل پیش کی ہے کہ حکومتی سڑک کے زیادہ اخراجات اور معیار کی وجہ ٹیکس‘ ٹائم کاسٹ اور ٹینڈر کے مسائل ہوتے ہیں۔ ارے بھائی! اگر ایک غیر ملکی سفیر کے زیرنگرانی اس طرح کام ہوسکتا ہے تو آپ بھی اس طرز پر قوانین میں تبدیلی کروا کرکام کروائیں لیکن خیر چھوڑیئے کہ موضوع سے کہیں اور نکل نہ جائیں۔

چیف جسٹس نے اس وقت دو ایسے کاموں میں ہاتھ ڈالا ہے کہ یہ شاید ہی ان کے Tenure میں ہوسکیں کیونکہ دونوں میں بہت زیادہ پیسہ لگنے کے علاوہ بہت قابل‘ مخلص اور وقف ہونے والے لوگوں کے کام کرنے کی ضرورت ہوگی لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ پہلی دفعہ سپریم کورٹ کے احاطے میں عوام کے مفاد سے متعلق موضوع پر سمپوزیم کا انعقاد ہوا اور اس میں پاکستان کی تین چوٹی کی شخصیات کے علاوہ ہر شعبہ زندگی سے متعلق بڑے لوگ موجود تھے۔

اس سلسلے میں تینوں شخصیات نے بہت اہم باتیں کیں لیکن اس حوالے سے چند ایک اہم نکات کو اگر اس اہم معاملے پر عمل کرتے ہوئے مدنظر رکھا جائے تو شاید بہتر نتائج سامنے آسکیں۔ مولانا طارق جمیل نے مختصر وقت میں جس اہم نکتے کو بیان فرمایا اس میں بین السطور یہ پیغام تھا کہ دنیا اور اس میں انسانی تخلیق اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا منصوبہ ہے۔ لہٰذا اس میں براہ راست مداخلت کرنے کی بجائے حضرت ابراہیمؑ کی سنت پرعمل کیا جائے تاکہ اس دنیا میں تخلیق انسان کے اصل مقصد کی طرف پیش رفت ممکن ہوسکے۔ اس کیلئے پاکستان میں امن کی ضرورت ہے، امن ہوگا تو معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی، معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں وسائل میں اضافہ ہوگا اور بنی نوع انسان کو وسائل کی کمی کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا اور آخری نکتہ جس کا تعلق سپریم کورٹ اور حکومت سے ہے وہ یہ کہ ملک میں عدل وانصاف کی حکمرانی قائم کی جائے۔ عدل وانصاف ہوگا تو ملک میں وسائل کی تقسیم عادلانہ ہوگی۔ اس وقت ملکی وسائل کا 80فیصد حصہ دس پندرہ فیصد اشرافیہ کے ہاتھوں میں ہے۔ پاکستانی عوام کے نام پر بھاری سود پر لئے گئے قرضوں کو منی لانڈرنگ کرکے لانچوں کے ذریعے بیرون ملک پہنچایا گیا اور اس وقت دنیا کے بیس پچیس امیر ملکوں میں پاکستان کے غریب عوام کا پیسہ بزنس اور بنکوں میں پڑا ہوا ہے۔

آبادی میں اضافہ روکنے کیلئے بہت ہمہ گیر اور ہمہ جہت کام کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ اس کا عقیدے کیساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اور پاکستان میں آپ کسی بھی مذہبی شخصیت سے اس پر بات کریں تو اس کا نقطۂ نظر اس کیخلاف ہوگا۔ ہمارے ہاں کی اکثریتی نیم خواندہ لوگ‘ آبادی میں اضافے کو تقدیر کیساتھ منسلک سمجھتے ہیں اور اس میں شک بھی نہیں کیونکہ حدیث مبارک کا مفہوم یہی ہے کہ ’’جس روح نے (مشیت ایزدی سے) آنا ہوتا ہے وہ آکر رہے گی‘‘ لیکن اس کیساتھ تدبیر منزل بھی قرآن وحدیث کی تعلیمات میں موجود ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء کے ذریعے عوام الناس کو تقدیر اور تدبیر کے مابین اعتدال قائم رکھنے کی سادہ زبان میں جمعہ کے خطبات کے ذریعے آگاہی دی جائے اور ان کو سمجھائیں کہ بچوں میں وقفہ‘ ان کی ضروریات زندگی‘ تعلیم وتربیت کیلئے وسائل کی فراہمی کی منصوبہ بندی بھی اسلام کا حکم ہے۔ جس طرح مالی استطاعت نہ رکھنے والے نوجوان کیلئے شادی کی بجائے روزے رکھنے کی ترغیب ہے جب تک کشادگی حاصل نہ ہو اسی طرح وسائل دیکھتے ہوئے بچوں کی پیدائش مناسب تعداد میں رکھنے کیلئے تدبیری کوششیں کرنا بھی اسلام کا تقاضا ہے۔

متعلقہ خبریں