Daily Mashriq

یاد آئیں گی زمانے کو مثالوں کیلئے

یاد آئیں گی زمانے کو مثالوں کیلئے

بعض موضوعات ایسے ہیں جن پر بات کرتے ہوئے کالم کی تنگ دامنی آڑے آجاتی ہے اور یوں بات ادھوری رہ جاتی ہے،4دسمبر کو شائع ہونے والے کالم جس کی ذیلی سرخی خود میرے اپنے ہی ایک شعر کا مصرعہ ثانی تھا یعنی اور میں سردی کی شدت سے ٹھٹھر کر مرگیا،اس میں بات صرف میرے قیام کوئٹہ تک ہی محدود رہی تھی،حالانکہ اس حوالے سے پشاور کے اس دور پر بھی روشنی ڈالنا چاہتا تھا جب''آتش ابھی بچپن، لڑکپن'' کے دور میں تھا،تب اہل پشاور بھی کڑاکے کی سردی سے بچنے کیلئے گھروں وغیرہ کو گرم کرنے کیلئے کیا کیا طریقے اختیار کرتے تھے،اس کا ذکر تو رہ ہی گیا تھا،ایک تو قدیم زمانے سے اکثر گھروں کے اندر صندلی کا رواج تھا یہ ایک قسم کی انگیٹھی ہوا کرتی تھی جو کوئلے دہکا کر بڑے کمرے کے اندر لاکر رکھ دی جاتی اور ایک بڑے سائز کا لحاف اس کے اوپر ڈال کر گھر کے تمام افراد اس لحاف میں چاروں جانب رات بڑے آرام سے گزارتے تھے،ابھی میں یہ سطور لکھ ہی رہا تھا کہ دلیپ کمار یوسف خان کی وہ بات یا دآگئی جوانہوں نے اپنے دورہ پشاور کے موقع پر ریڈیو پاکستان پشاور کے سٹوڈیومیں میرے ریکارڈ کئے ہوئے انٹر ویو کے دوران بتائی تھی کہ ان کے بچپن کے دنوں میں ان کے بزرگ ان کے بستر میں پائینتی کی جانب پالتو بلی لٹا دیتے تھے جس کے بدن کی گرمی سے بستر گرم رہتا ،یہ انٹرویو میرے پاس اب بھی موجود ہے،بہرحال یہ تو رات گزارنے کے طور طریقے تھے جبکہ صبح اور شام کے اوقات میں کمروں وغیرہ کو گرم رکھنے ہانڈی پکانے وغیرہ کیلئے بھی ایندھن کے کئی طور طریقے رائج تھے جیسا کہ گزشتہ کالم میں ایک لفظ بخاری کا ذکر کیا گیا تھا،اسی طرح کی بخاری مقامی طور پر بنائی جاتی تھی اور لوہاروں کے ہاں سے مل جاتی تھی،یعنی لوہے کی چادر کی اس بخاری یا انگیٹھی میںد رمیان سے ایک گول نلکی ڈال کر اردگرد آرامشینوں سے حاصل کیا ہوا لکڑی کا برادہ بھردیا جاتا اور ڈھکن رکھ کر نلکی نکال کر اسی نلکی کی وجہ سے نیچے سائیڈ پر بنے ہو ئے خلاء میں آگ لگادی جاتی،تھوڑی دیر میںانگیٹھی دہک اٹھتی،جس پر نہ صرف کھانے پکانے کیلئے ہنڈیا،دیگچی یا پتیلا وغیرہ رکھ دیا جاتا اور ساتھ ہی کمرہ بھی گرم ہوتا رہتا۔اسی طرح کوئلے کی انگیھٹیاں بھی استعمال کی جاتیںجو بازار سے بہ آسانی دستیاب ہوتیں،اب بھی مل جاتی ہیں،ایسی انگیٹھیاں نہ صرف گھروں میں عام طور پر استعمال کی جاتیں بلکہ سرکاری دفاتر میں بھی ہر کمرے میں ایک ایک یادو دو(کمروں کے سائز کے مطابق)صبح ہی صبح کلاس فور ملازمین دہکا کر رکھ دیتے،مجھے یاد ہے کہ ریڈیو پاکستان میں بھی یہی طریقہ رائج تھا،سینئرافسروںکیلئے بجلی کے ہیٹر بھی رکھے جاتے،یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک سوئی گیس کی سہولت میسر نہیں آئی تھی،جبکہ گھروں میں کوئلے کی انگیٹھی کی بات چلی ہے تو یہ بھی بتادوں کہ عام یعنی کم آمدنی والے گھروں میں ایک اور طریقہ بھی اختیار کیا جاتا،وہ لکڑی کی ٹال سے کوئلے کا چورہ بوریوں میں بھر کر گھروں میں لے آتے کیونکہ کوئلے کے مقابلے میں یہ بہت سستا ہوتا کہ کوئلے کی سپلائی کے دوران ٹرکوں میں اتنی دور سے(کوئلے کی کان سے دکانوں تک) آتے آتے رگڑا کھا کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا،جو دکانداروں کیلئے ویسے بھی بے مصرف ہوتا تو وہ اسے ایک جگہ جمع کر کے غریبوں کو سستے داموں فروخت کر دیتے،کوئلے کا یہ چورہ لاکر گھریلو خواتین مٹی منگوا کر اسے کیچڑ میں تبدیل کر کے یہ کوئلوں کا چورا اس میں شامل کر کے اس کو اپلوں کی شکل دے دیتیں اور دھوپ میں خشک کر کے کنسٹرکشن کے کام میں استعمال ہونے والی بالٹی(ٹاٹکی) میں رکھ کر انہیں آگ لگا دیتیں تو تھوڑی دیر میں یہ بھی دہک اٹھتے یوں ان سے بھی نہ صرف کمروں کو گرم کرنے کا کام لیا جاتا بلکہ چائے،قہوہ پکانے یا پھر ہانڈی گرم کرنے کیلئے بھی ان بالٹی انگیٹھیوں کو استعمال میں لایا جاتا گویا یہ طور طریقے ضرورت ایجاد کی ماں والی صورتحال کے تقاضوں کے عین مطابق ہوتے،یعنی بقول علامہ اقبال

گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

دہقان کو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

اس ساری داستان میں لکڑی جلا کر آگ تاپنے،اپلوں کی مدد سے تپش حاصل کرنے اور مٹی کے تیل کے چولہوں سے کام لینے کی بات تو رہ گئی،حالانکہ یہ بھی ایسے طریقے تھے جن کو ڈبل پریزکے طور پر اختیار کیا جاتا تھا،مجھے یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے تھے تو پشاور کے اکثر گھر کچی مٹی کے ہوتے تھے،ان میں سردیوں کے دنوں میں کمروں کے اندر ہی کمہاروں سے حاصل ہونے والے چولہے جنہیں مقامی طور پرنغرے یا انغرے کہا جاتا تھا،ان میں یا تو لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اور اوپر سے گوجروں کے گھروں سے اُپلے خرید کر انہیں رکھ دیا جاتا،اس سے جمع ہونے والے دھوئیں کے اخراج کیلئے ہر کمرے کی چھت میں ایک بڑا سا گول سوراخ بنایا جاتا،مگر دھوا ں اتنا زیادہ ہوتا کہ لگ بھگ 12ت ا15انچ کایہ سوراخ اس کی نکاسی میں سہولت فراہم کرنے میں مشکل پیدا کرتا،اس لئے دھوئیں کی وجہ سے کمرے میں آگ پوری طرح روشن ہونے تک وہاں موجود افراد کی آنکھوں سے جلن کی وجہ سے آنسو نکلتے رہتے ،گویا بقول شاعر

اے شام غم بتا کہ سحر کتنی دور ہے

آنسو نہیں جہاں وہ کمر کتنی دور ہے

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آسانیاں بہم ہوتی رہیں اور اب تو تقریباً ہر گھر میں گیس کے چولھے اور ہیٹر جو سہولتیں دے رہے ہیں ان کی وجہ سے پرانے طور طریقے تو جیسے خواب بن کر رہ گئے یعنی آج کی نسل ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتی۔بقول فارغ بخاری

یاد آئیں گی زمانے کو مثالوں کے لئے

جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کیلئے

متعلقہ خبریں