Daily Mashriq

بے ربط اصلاحات

بے ربط اصلاحات

خیبر پختونخوا میں تعلیمی ایمرجنسی تو موجودہ حکومت کے قیام کے ساتھ ہی لگائی گئی تھی جس کے دوران مختلف قسم کی اصلاحات اور اقدامات کی سعی تو کی گئی لیکن تمام تر مساعی کے باوجود تعلیمی اداروں سے متعلق عوامی شکایات سننے اور ان کا ازالہ کرنے بارے ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام ہنوز ممکن نہیں ہو سکاہے اور نہ ہی صوبائی اسمبلی میں سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں نجی سکولوں سے متعلق بل کی منظوری کے بعد سے اب تک مذکورہ بل کو اسمبلی میں پیش کرکے ضروری قانون سازی کی جاسکی ہے۔ صوبائی حکومت کے تازہ ترین اقدامات ہوا میں تیر چلانے کے مترادف عمل اس لئے بھی قرار پاتا ہے کہ جس صوبے میں والدین اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھانے میں درپیش مشکلات کو حل کرنے کی ذرا بھی سعی نہیں کی جاتی سکولوں اور تعلیمی اداروں سے شکایات سننے اور اس کے ازالے کے لئے کوئی باقاعدہ ریگولیٹری اتھارٹی کا وجود نہیں وہاں پر والدین کو اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجنے کی پاداش میں سزائیں دی جائیں اور ان پر جرمانے عائد کئے جائیں' مضحکہ خیز امر نظر آتا ہے ۔سرکاری سکولوں میں اولاً اساتذہ ار طالب علم کو لہو کے بیل کی طرح ہیں۔ پھر بھی اگر کوئی شکایت ہو تو متعلقہ ای ڈی او اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ بعض نجی سکولوں میں اساتذہ اور طالب علموں کے ساتھ بھاری بھر کم فیسوں کی وصولی کے باوجود جو ناروا رویہ رکھا جاتا ہے اس کا کوئی پر سان حال نہیں اور نہ ہی اس کی شکایت کے لئے کوئی فورم موجود ہے۔ ان دنوں داخلوں کا موسم ہے نجی سکولوں میں داخلے کے لئے تو کوئی ضابطہ اور طریقہ مقرر نہیں مگر سکول چھوڑنے والے طالب علم اور ان کے والدین کی شامت آتی ہے۔ یہاں اگر اس کی ایک مثال کا سہارا لیا جائے تو صورتحال کا اندازہ لگانے میں آسانی ہوگی۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے حیات آباد برانچ میں ایک سکول میں بچوں اور ان کے والدین کو طالب علم کو فارم پر سکول کے باقاعدہ طالب علم ہونے کی تصدیق کو پالیسی کے خلاف گردانا جاتا ہے جبکہ اسی سکول میں چھ سو روپے کا ٹریک سوٹ سولہ سو روپے میں سکول ہی سے بچوں کو خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر ایک بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیر انتظام سکولوں میں یہ عالم ہو تو چھوٹے سکولوں میں بچوں اور والدین سے ہونے والے سلوک کا اندازہ ہی کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں دلچسپ امر یہ ہے کہ صوبے کے بعض سکولوں سے والدین اپنے بچوں کو محض اس بناء پر دوسرے سکولوں میں داخل کرتے ہیں کہ اب بچہ سمجھداری کی دہلیز پر ہے جس کی بناء پر وہ ان سکولوں کے آزاد ماحول میں بچوں کو مزید تعلیم دلانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ماحول پر کوئی قدغن تو نہیں لگائی جاسکتی اور اس طرح کے ماحول کے لئے کشش رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں مگر جس طرح یورپ میں مقیم والدین اولاد کے جوان ہونے پر واپس لوٹنے یا پھر اس کی تمنا میں آہیں بھرتے دکھائی دیتے ہیں اس طرح کے حالات ان سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کی بھی ہے۔ اس طرح کی شکایت سننے اور ان کا ازالہ کرنے کے لئے صوبائی سطح پر کوئی ریگولیٹری اتھارٹی نہیں۔ تعلیمی بورڈوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ای ڈی اوز اور محکمہ تعلیم کے دائرہ اختیار میں ان کے خلاف کارروائی کرنے کی کوئی صورت نہیں۔ وفاقی و صوبائی محتسب سے اس ضمن میں رجوع نہیں کیاجا سکتا۔ممکن ہے انسانی حقوق کمیشن اس کاکوئی حل نکال سکے یا پھر عدالت سے رجوع کیاجائے۔ جب اس پر صوبائی حکومت لوگوں کے مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں رکھتی سرکاری سکولوں کی حالت زار اور اساتذہ کی آسامیاں پر کرنے اور اساتذہ کو سکول آنے اور محنت سے تدریس کرنے بارے صوبائی حکومت کے پاس کوئی موثر میکنزم موجود نہیں۔ پھر صوبائی حکومت کس اخلاقی جواز کے تحت بچوں کو سکول نہ بھیجنے والے والدین کو سزا و جرمانہ کرسکتی ہے۔ ہمارا مقصد بچوں کو سکول نہ بھیجنے والے والدین کا دفاع نہیں اور نہ ہی ان کے اس اقدام سے ہمیں اتفاق ہے اس جدید دور میں ایسے والدین کم ہی ہوں گے جو استطاعت رکھنے کے باوجود اپنے بچوں کو سکول بھجوانے کی بجائے کمسنی ہی میں غم روزگار کی بھٹی میں جھونک دیں۔ صوبائی حکومت کے احسن اقدامات سے انکار نہیں حکومت زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں داخلے کے لئے جس قسم کے اقداما ت بھی اٹھائے اس سے انکار ممکن نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماحول کو حقیقت پسندانہ بنانے اور ساز گار حالات پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی نبھائے۔ تمام تر خامیوں کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے چھٹی سے دسویں تک وظائف جاری کرنے اور پانچویں جماعت تک عربی اور ناظرہ قرآن کو بطور مضمون لازم کرنے کا اقدام احسن اور بابرکت ہے۔ مگر اس کا حشر مذکورہ بالا میں متذکرہ ایک معروف یونیورسٹی کے سکولوں میں عربی کی تدریس کی طرح کا نہ ہو بلکہ طالب علموں کو عربی اور ناظرہ کی تعلیم دلانے والے اساتذہ کو اس مضمون کو پوری محنت سے پڑھانے اور اس مضمون کو بھی دیگر مضامین کی طرح برابر کی اہمیت دی جائے اور ہر سکول کی انتظامیہ کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ طالب علموںکو سائنس اور انگریزی کے مضا مین کی طرح اس بابرکت مضمون کو بھی پوری اہمیت دیں۔ صوبائی حکومت اس ضمن میں علمائے کرام اور آئمہ کرام سے اپنے دروس میں ان مضامین کی اہمیت اساتذہ کرام اور والدین کو اس پر خصوصی توجہ کی طرف رغبت دلانے میں کردار ادا کرنے کے لئے مدد لے۔ صوبے کی سطح پر ہر قسم کے ٹیسٹ و امتحان میں ان مضامین کے نصاب سے سوالات لازمی طور پر شامل کرکے عملی طور پر طلبہ کو اس پر مائل اور توجہ دینے پر راغب کرنا بہتر طریقہ ہوگا۔

اداریہ