قبائلی اصلاحات اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں

قبائلی اصلاحات اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں

قبائلی علاقہ جات کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے اور نہ کرنے کے معاملے پر قبائلی عوام اور قبائلی نمائندوں اور عمائدین جس نا اتفاقی اور تفریق کا شکار ہیں اس کے ہوتے ہوئے یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی بلکہ پتھر وہیں کا وہیں پڑا رہتا دکھائی دیتا ہے ۔ مرکزی حکومت کی نیت پر شبہ کی کوئی وجہ نہیں اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی قیادت میں فاٹا اصلاحات تجویز بھی کی گئی ہیں جن سے اتفاق واختلاف اپنی جگہ ایسا لگتا ہے کہ پہلی حکومتوں میں فاٹا اصلاحات کا صرف مژدہ سنایا جاتا رہا یا پھر کمیٹیا ں رپورٹ پیش کرتی رہیں مگر اس سے آگے کی پیشرفت نہ ہوئی ۔اب موجودہ حکومت اسے عملی شکل دینے کی بظاہر میںسعی دکھائی دیتی ہے مگر قبائلی عوام کی رائے منقسم ہے ۔ اس طرح کی صورتحال میں کوئی بھی حکومت اصلاحات کے نام پر تضاد ات کے مواقع پیدا کرنے پر تیار ہوگی اور نہ ہی کوئی حکومت اس کی متحمل ہو سکتی ہے ۔ اس سارے منظر نامے میں فاٹا اصلاحات عملی صورت میں ہوتی نظر نہیں آتیں ایسے میں موجودہ نظام میں بہتری نہیں لائی جا سکتی ہے بلکہ موجودہ صورتحا ل میں معاملات جوں کے توں ہی رہیں گے جس کا سب سے بڑا نقصان قبائلی عوام ہی کو ہوگا۔ قبائلی عما ئد ین عوامی نمائندوں اور عوام کو چاہیے کہ وہ منقسم ہونے کی بجائے اپنی رائے کی کوئی سمت متعین کریں اور اس طرح کے جرگوں کے انعقاد سے گریز کریں جس سے فاٹا کے مستقبل بارے کوئی فیصلہ نہ ہوسکے ۔ فاٹا کے عوام کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ میں سے چھ فی صد دینے کا مطالبہ اس وقت ہی قابل توجہ ہو سکتا ہے جب قبائل کی متحدہ آواز سامنے آئے اور تضادات کا خاتمہ ہو۔ قبائلی عوام کو اس امر کو پلو سے باندھ لینا چاہیے کہ جب تک وہ متحد نہیں ہوں گے اور متحدہ آواز نہیں اٹھے گی اس وقت تک نہ تو قبائلی علاقہ جات کے مستقبل کا فیصلہ ممکن ہوگا نہ ان کے مسائل حل ہوں گے اور نہ ہی وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے ۔
چترال اور دیر کے مراکز صحت کی حالت زار
چترال سے رکن صوبائی اسمبلی کی اپنے ضلع میں بارہ ڈسپنسریوں کا چوبیس سال سے غیر فعال ہونے کا انکشاف چشم کشا ہے تو حکمران اتحاد میں شامل جماعت اسلامی کے فاضل ممبر کی جانب سے شرینگل اور پاتراک کے مراکز صحت میں طبی آلات کے عدم استعمال کے باعث زنگ لگنے کی شکایت حیرت انگیز ہے ۔ دیر اور چترال کے ممبران اسمبلی اس صورتحال پر اسمبلی میں احتجاج ہی کر سکتے تھے جو انہوں نے کیا۔ لیکن اس کے باوجود لگتا نہیں کہ ا ن کی آواز سنی جائے گی اور دیر و چترال کے مراکز صحت میں طبی عملہ تعینات کیا جائے گا ۔ بارہ ڈسپنسریوں کا قیام عمل لایا ہی کیوں گیا تھا جب ان ڈسپنسریوں میں عملہ مقرر نہیں کیا گیا۔ سال دو سال کی بات ہو تو اسے زیادہ سے زیادہ سنگین غفلت قرار دیا جا سکتا تھا مگر یہاں چوبیس سال گز ر گئے جہاں مریضوں کا علاج معالجہ کرنے کی بجائے ان کو اصطبل اور مویشی خانہ اور حجروں میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ ایسے میں ان عمارتوں کی حالت زار کیا ہوگی اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ۔ صوبے میں صحت کے شعبے میں انقلاب لانے کی داعی دور حکومت میں اگر ان ڈسپنسریوں میں عملے کی تعیناتی ہوتی تو عوام کو اس سے مستفید ہوتے سال دو سال گز ر چکے ہوتے اور مشینری و آلات کو بھی زنگ نہ لگتا ۔ چترال میں سیلاب اور شدید برفباری کے دنوں میں خاص طور پر مریضوں کو درپیش مشکلات کا حوالہ دینے کی ضرورت نہیں۔ صحت کی سہولیات کی ضرورت ہر وقت رہتی ہے چترال اور دیر کی ڈسپنسریوں اور مراکز صحت میں فوری طور پر عملے کی تقرری سے قبل ان مراکز کو قابضین سے واگزار کرانے اور تعمیر و مرمت اور صفائی کاکام کرانے کی ضرورت ہے جس میں مزید تا خیر نہیں ہونی چاہیے ۔توقع کی جانی چاہیے کہ ان معاملات کے بارے میں اسمبلی میں آواز اٹھانے اور میڈیا میں مسئلے کی اشاعت کے بعد اب کہیں جا کر محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو خبر ہو جائے گی اور وہ سرکاری وسائل سے تعمیر شدہ مراکز صحت کی عمارتوں کو طبی خدمات کی فراہمی کے مراکز بنانے کی ذمہ دای پوری کریں گے جب کہ پڑے پڑے زنگ لگنے والے طبی آلات کو بھی عوامی منفعت کیلئے بروئے کا ر لایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور وزیر صحت اگر معاملے کی انکوائری کرا کے غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کر سکیں تو بہتر ہوگا ۔

اداریہ