Daily Mashriq


تھانے اور سکول میں فرق ضروری ہے

تھانے اور سکول میں فرق ضروری ہے

کل پرسوں کی بات ہے ' ہم اپنے پوتے پوتیوں کو چھٹی پر سکول سے لینے کے لئے گئے۔ دیکھا کہ ہماری ایک پوتی جو چھٹی جماعت میں پڑھتی ہے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ دروازہ کھول کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اس کا چہرہ بھی مرجھایا ہوا تھا اور جیسے کہ اس کی عادت ہے بلند آواز سے سلام بھی نہیں کیا۔ ہم نے پوچھا' کیوں بھئی موڈ کیوں خراب ہے؟ اس پر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے' ہمیں بھی تشویش ہوئی تو سختی سے پوچھا' بتاتی کیوں نہیں' مسئلہ کیا ہے۔ اب تو وہ باقاعدہ ہچکیاں لینے لگی اور روتے ہوئے بتایا' ہمارا کوئی قصور نہ تھا استانی نے ہمیں سکول سے باہر نکال کر ایک گھنٹے تک گیٹ پر کھڑے رکھا۔ کوئی شرارت کی تھی؟ جی نہیں' کچھ بچے باہر گرائونڈ میں فٹ بال کھیل رہے تھے' استانی نے کہا تم انہیں کیوں دیکھ رہی ہو؟ اور پھر انہوں نے ساری کلاس کو سکول سے باہر نکال کر گیٹ پر کھڑا کردیا۔ استانی نے اگرچہ بچیوں کو کوئی جسمانی سزا تو نہیں دی لیکن شدید جاڑوں میں چھٹی جماعت کی بچیوں کو صرف اس بات پر کہ تم نے باہر کیوں دیکھا' سکول کے گیٹ پر کھڑا رکھنا بھی ایک ایسی ہی سزا تھی جو قرون وسطیٰ میں آقا اپنے غلاموں کو چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کرکے دیتے تھے۔ یہ سزا اس لئے بھی نا مناسب تھی کہ بچوں کو سکول سے باہر کوئی حادثہ بھی پیش آسکتا تھا۔ انہیں کسی نقصان پہنچنے کا بھی خدشہ تھا۔ ہمارے سکولوں میں بچوں کو غیر انسانی سزائیں دینے کے واقعات روزانہ پیش آتے رہتے ہیں۔ میڈیا میں ان کا ذکر بھی ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ رواج ختم نہیں ہوتا۔ ابھی ہم سکول انتظامیہ سے چھٹی جماعت کی طالبات سے ان کی استانی کے اس ناروا سلوک پر رابطہ کرنے کا سوچ رہے تھے کہ ہمارے دوست کرنل انیل مدن کی جانب سے ایک ایسی ویڈیو ملی جسے دیکھ کر ہم اپنا فشار خون قابومیں نہ رکھ سکے۔ ویڈیو میں مشرق و مغرب کے پس منظر میں دو انسانی رویوں کی کچھ اس انداز سے عکاسی کی گئی تھی جسے دیکھ کر ہمیں یوں لگا کہ 21ویں صدی میں بھی پتھر اور دھات کے زمانے سے گزر رہے ہیں۔ اس ڈیڑھ منٹ کی مختصر ویڈیو میں دو ملکوں کی ثقافتوں اور ذہنی رویوں میں صدیوں کے فرق سے ہمیں حیرت ہی نہیں ہوئی باقاعدہ اپنا سینہ کوٹنے کو دل چاہا۔ ویڈیو کے آدھے حصے میں امریکہ کے کسی شہر کے سکول کا نظارہ پیش نظر تھا جس میں ایک جواں سال استانی سکول آنے والے بچوں کو خوش آمدید کہنے کھڑی تھی۔ وہ بڑی خوش دلی کے ساتھ کسی کے ساتھ ہاتھ ملا رہی تھی تو کسی سے بغلگیر ہو کر ان کے ماتھے پر بوسہ دے رہی تھی۔ دوسرے منظر میں ایک دیو ہیکل خونخوار قسم کے ٹیچر کے سامنے یہی کوئی دس بارہ سال کے کچھ بچے قطار میں سہمے ہوئے کھڑے تھے۔ وہ ان میں سے ایک ایک کو اپنی طرف کھینچ کر اس پر تھپڑ اور گھونسے برسا رہا تھا۔ ان میں سے اگر کوئی بچہ دو ایک تھپڑ کھانے کے بعد روانہ ہونے لگتا تو وہ ظالم استاد اسے دوبارہ گردن سے پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کرکے مزید دو تین گھونسے جڑ دیتا۔ ایک ویڈیو پر معلمھم با امریکہ کے الفاظ درج تھے اور دوسرے پر معلمنا العرب کی تحریر نمایاں تھی۔ یہ تو خیر امریکہ اور عرب کے کسی ملک کے دو سکولوں میں بچوں سے روا رکھنے والے دو مختلف رویوں کی تصویر تھی۔

گزشتہ دنوں ایک نجی ٹی وی چینل پر چترال کے کسی سکول کی تصویری خبر چلائی گئی تھی جس میں استاد ایک چھوٹے بچے کو نہایت ہی ظالمانہ انداز میں جسمانی سزا دیتے ہوئے دکھایاگیا تھا۔ یقین جانئے استاد بچے کو جس بے دردی سے مار رہا تھا ہمیں اس کی مزید تفصیل بتانے کی تاب نہیں۔ یہ خبر چلنے کے بعد بتایاگیا کہ یہ استاد نفسیاتی مریض تھا۔ استاد کو کیا سزا ملی؟ اسے ملازمت سے فارغ کردیاگیا یا پھر وہ اب بھی اپنے شاگردوں کے مکے اور تھپڑ برسانے کے کام پر مامور ہے ہمیں اس بارے میں کوئی علم نہیں۔ ہمارے سکولوں میں اس قبیل کے تشدد پسند اساتذہ میں سے اگر کسی ایک کو بھی نشان عبرت بنا دیا جائے تو پھر آئندہ کے لئے ایسا کوئی وقوعہ رونما نہ ہوتا کیونکہ اس کے بعد بھی اس نوع کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں اور تشدد زدہ بچوں کو ٹی وی پر دکھایا جاتاہے۔ بچوں پر سکولوں میں اس قسم کے پر تشدد واقعات کے لئے اساتذہ تو مجرم ضرور ہیں لیکن ہم والدین کوبھی بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے کیونکہ وہ بھی بالعموم ایسے واقعات پر ان پر خاموش ہو جاتے ہیں۔حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے سکولوں میں پرائمری کی سطح تک قرآن کریم کی ناظرہ اور اگلی جماعتوں میں با ترجمہ تدریس کو لازمی قرار دیا ے۔ اسی طرح ایک محکمہ مانیٹرنگ ونگ کے نام سے سکول اساتذہ کی کارکردگی جانچنے کے لئے بھی قائم کیاگیا ہے۔ یہ سب درست فیصلے ہیں لیکن کیا تعلیمی اداروں بالخصوص سکولز میں جہاں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے بائیو میٹرک نظام کا اجراء ہورہا ہے' اس کے ساتھ ایسی چھاپہ پارٹیوں کی تشکیل بھی ضروری ہے کہ وہ معصوم بچوں کو بعض خونخوار اساتذہ کے تشدد سے محفوظ کر سکیں۔ ہماری تو یہ رائے ہے کہ اساتذہ کی تقرری کے وقت ان کو ذہنی صحت مندی کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ کسی سکول میں طالب علم پر اب تشدد کیا جائے جو تھانے میں ملزم پر کیا جاتا ہے۔ تھانے اور سکول میں کچھ فرق تو ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں