Daily Mashriq


کچھ یادیں، کچھ باتیں

کچھ یادیں، کچھ باتیں

کچھ باتیں اور کام ایسے ہوتے ہیں جن کے گزرنے کے ساتھ ان کا قصہ بھی ختم ہو جاتاہے۔ مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو گزر تو جاتے ہیں مگرکہیں نہ کہیں ہماری یادوں میں زندہ رہتے ہیں اور ہمیں کچھ نہ کچھ کمی کا احساس دلاتے رہتے ہیں ۔ہمیں کبھی کبھی یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ گزرا ہوا وقت اچھا تھا یا زمانہ اب ویسا رہا نہیں۔گزشتہ صدی کی معرکتہ الآراء ایجادات اور ٹیکنالوجی کیو جہ سے اگر چہ بہت سی چیزیں بدلنے سے زندگی کی رفتار تیز ہوگئی تھی مگر اس کے اثرات سے گائوں اور دیہات کی زندگی ابھی محفوظ تھی۔ مگر اکیسویں صدی کا سورج طلوع ہونا تھا کہ دنیا کی دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ ساتھ رِیت و رواج بھی تہِ و بالا ہونے لگے۔لوگوں کی سوچ کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے انداز اور پرَکھنے کے زاوئیے بھی بدلنے شروع ہوگئے۔ وقت کا اگر چہ ہم اتنا خیال نہیں رکھتے لیکن مصروف اتنے ہوگئے کہ کسی کے ساتھ سلام دعاکرنے کیلئے بھی ٹائم نہیں رہا ۔ جب ٹی وی گھروں پر حملہ آور نہیں ہوا تھا تو لوگ ایک دوسرے کے نہ صرف بہت قریب تھے بلکہ باخبر بھی ہوتے تھے۔ مگر اب تو حال یہ ہے کہ بہت سے لوگ شام اور عشاء کی نماز کے بعد دعائیں بھی راستے میں چلتے ہوئے کرتے ہیں کیونکہ ڈرامہ دیکھنا خودکو یا دوسروں کو وقت دینے سے زیادہ ضروری ہے۔ ایک طرف اگر روایات زندہ تھیں تو لوگوں کے دل بھی بڑے تھے۔ چھوٹے بڑے کا لحاظ ہر کسی میں موجود تھا اور غم خوشی سب کی مشترک ہوا کرتی تھی۔ اس زمانے میںموجودہ دور کی کوئی بھی آسانی نہیں تھی مگر ذہنی سکون اور زندگی میں ٹھہرائو تھا۔ ہر کوئی اپنے حصے پر صابر و شاکر تھا۔ اگر چہ لوگوں کی جیبیں خالی تھیں مگر دل اخلاص سے بھرے تھے۔ کوئی سوالی بمشکل خالی ہاتھ جاتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آج سے بیس ، پچیس برس پہلے جب کبھی ہماری مسجد میں کوئی مسافر آجاتا اورآواز لگاتاکہ رات یہاں گزاروں گا تو لوگ اس کے کھانے اور بسترکے بندوبست میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے۔ لیکن آج کل یہ عالَم ہے کہ کوئی کسی کو مدد کیلئے پکارے تو ہر کوئی بہرہ بن جاتا ہے۔ اور پھر سادگی بھی ایسی تھی کہ بندہ بیان کرنے کیلئے الفاظ ہی نہ ڈھونڈ پائے۔ اگر کسی بچے کو اپنے بڑے بھائی یا والد کے ساتھ کہیں بازار جانے کاموقع ملتا تو پھرکئی دنوں تک وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کو اپنے ''دورے ''کا حال ایسا مزے لے لے کربیان کرتا کہ دوسرے حسرت اور یاس کی تصویر بن کر بس اس کے منہ کو ہی تکتے رہ جاتے۔میں نے گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں پرائمری اور ہائی سکول پڑھا ہے مگر مجھے نہیں یاد کہ میں کبھی ان دس سالوں میں پانچ روپے لے کر سکول گیا ہوں۔ کیونکہ فضول خرچی کا تصور نہیں تھا ۔آج کل تو فضول میں پیسے خرچ کرنا ایک فیشن بن گیا ہے۔اور پھر نانا، نانی کے گھر جانے ، وہاں کچھ دن گزارنے اور رات کو کزنز کے ساتھ گپ شپ ، روایتی کھیلوں اورڈرائونے قصے کہانیا ں سننے سنانے کا مزہ کون بھول سکتا ہے۔ لیکن پھر اچانک کوئی ہوا چلی اور یہ چیزیں ایسے ختم ہوگئیں کہ کل پرسوں کی باتیں صدیوں پرانی لگ رہی ہیں۔ ایک طرف اگر ضروریاتِ زندگی بڑھ گئی ہیں تو دوسری طرف ہمارے حرص اور لالچ میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہر کوئی زیادہ سے زیادہ کی تلاش میں مصروفِ عمل اور زندگی کی دوڑ میں دوسروں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ جانے کی سعی میں مگن ہے۔ نفسا نفسی کا ایسا عالَم ہے کہ باپ، بیٹے اور بیٹا ،باپ سے بیزار دکھائی دیتا ہے۔ دوستی برائے نام رہی تو رشتے بھی صرف ملنے پرہی یاد آتے ہیں۔ خوشی، غم، تکالیف، بیماریاں، راحت اورسکھ چَین سب زندگی کا حصہ ہے۔ ا ن میں سے کچھ اگر تقدیر کی طرف سے ہیں تو کچھ خود پیدا کردہ ہیں۔ انسان فطرتاََ عاجل بھی ہے، حریص بھی اوربے صبر بھی۔ ہم کبھی کبھی کسی چیز کو حاصل کرنے کیلئے ساری حدوں کو پار کر جاتے ہیں اور نتیجتاًاپنا سکون دائو پر لگادیتے ہیں۔ دنیا میں ہر کام ایک نظام کے تحت چل رہا ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ قدرت کے مرتب کردہ اصولوں پر کاربند ہے۔ کوئی بھی سیارہ یا ستارہ اپنے مدار سے نکلتا ہے اور نہ کبھی لیٹ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اربوں سال سے یہ نظام اسی طرح چل رہا ہے۔ لیکن چونکہ انسان عجلت پسند ہے اسلئے یہ نہ صرف اپنے مدار سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ وقت سے آگے جانے کیلئے بھی ہر وقت بے تاب رہتا ہے۔ میں سائنسی ایجادات کا مخالف ہوں اور نہ زندگی کی دوڑ میں آگے جانے سے انکاری۔ہر کسی کو پورا حق حاصل ہے کہ اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے ہر ممکن کوشش کرے ۔لیکن خیال رہے کہ کسی خواب کی قیمت ایسی کسی چیز کی قربانی نہ ہو جس سے کہ زندگی کا پہیہ متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔عمومی طور پر انسان کی ساری تگ و دو سکون پانے کے لئے ہے۔ مگر آجکل کی تیز زندگی نے انسان کو ایک ایسی مشین بنا دیا ہے کہ سکون نام کی چیز سے وہ آہستہ آہستہ بہت دورہوتاجا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ معاشر ے میں عدم برداشت، نفرت، شک، کدورت ،حسد اور کینہ پروان چڑھ رہا ہے۔ اور ان چیزوں کا ہی اثر ہے کہ خودکشیوں کی شرح بڑھ رہی ہے، زندگیاں تنگ اور سکون غارت ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے اگر احساس نہیں کیا اور خودغرضی، لالچ، اداسی، بے چینی اورادھورے پن کو اپنی زندگی میں جگہ دے دی تو ہم روبوٹ بن کر زندگی سے بہت دور ہو جائیں گے۔اور اگر ہم نے قناعت اختیار کیا، اپنوں کو وقت دینااوراپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرنا شروع کیا تو خوشیاں خود بخود ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈالیں گی۔اور زمانہ چاہے جیسا بھی ہو زندگی گلزار ہوگی۔

متعلقہ خبریں