Daily Mashriq

ہم بد عنوانی پسند کرتے ہیں

ہم بد عنوانی پسند کرتے ہیں

ملک کے وزیراعظم ایک ننھی اپوزیشن سے مسلسل مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں ، اپوزیشن نے انہیں ایک بے وجہ کے جنجال میں مبتلا کیا ہوا ہے ۔ عوام میں سے کسی کو یہ بات معلوم نہیں کہ اس ملک کے سیاست دان کس قسم کی کاروائیوں میں مشغول رہتے ہیں ۔ منی لانڈرنگ ، ہر قسم کی بد عنوانی اور کرپشن ہمارے سیاست دانوں کے عام مشاغل ہیں ۔ جو یہ نہیں کر تے وہ سراج الحق ہو ا کرتے ہیں ۔ گنتی کے چند لوگ ہوں گے جو شاید ان کا رروائیوں میں ملوث نہ رہے ہوں گے اور ان کی کیفیت یہ ہے کہ ان کی کوئی سُنتانہیںہے۔انٹرنیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور انسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپنین کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کے سیاسی قائدین میں وزیر اعظم میاں نواز شریف مقبول ترین لیڈر ہیں ۔ سیاسی رہنمائوں میں میاں نواز شریف کو 63فی صد حمایت کے ساتھ عوام میں مقبولیت کی اکثریت حاصل ہے ۔ ان کے بعد عمران خان ہیں جن کی مقبولیت کا گراف میاں نواز شریف کے مقابلے میں خاصا کم ہے ۔ لیکن بہر حال 39فی صد ووٹوں کے ساتھ وہ دوسرے نمبر پر ہیں اور بلا ول بھٹو اپنے ننھے منے مخنی سیاسی کیرئیر کے ساتھ 32َفیصد پسند ید گی حاصل کیے ہوئے ہیں ۔ جب ایسے سروے دیکھتی ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں ہمارا اصل کردار جھلکتا ہے ۔ 

ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ایک عام آدمی مسلسل نفسیاتی دبائو کا شکار ہے ۔ یہ ملک ہماری زندگیوں میں کوئی آسانی مسلسل فراہم کرنے کا متحمل ہی نہیں ۔ ایک ایسی قوم جو خود کشیوں اور خود سوزیوں کو ہی زندگی کا معمول بنا چکی ہے ۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ انہی لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو انہیں نوچنے کھسوٹنے والے ہیں جو اپنی خواہشات اور کرپشن کے دانت نکوسے ان عوام پرپل پڑنے کو ہمیشہ تیار رہتے ہیں ۔ مسلسل ہماری شہ رگوں میں اپنے دانت گاڑے ہمارا خون جوستے ہی رہتے ہیں اور ہم یہ سب جانتے بوجھتے بھی انہیں ہی پسند کرتے ہیں ۔ جانے ہم کس خود اذیتی میں مبتلا ہیں ،جانے اس سے ہم کیا حظ اٹھا تے ہیں ۔ہماری اس کیفیت کو میں نے کئی دفعہ سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔ اس کا نفسیاتی تجزیہ بھی کرنے کی جستجو میں رہی ہوں ۔کئی بارتار یخی حوالے بھی تلاش کئے ہیں لیکن پھر بھی اس خیال سے اُلجھتی رہی ہوں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیں خود ہی اپنی حالت کے ٹھیک کرنے کا خیال نہیں آتا ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم چوروں لٹیروں ڈاکوئوں کو پسند کرتے ہیں ۔کیا ایسی وجوہات ہیں جن کے باعث ہم انہیں لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں کیا ہم ناسمجھ لوگ ہیں ۔ کیا ہماری خواہشات ایسی ہیں جنہیں جائز راستوں پر چلنے والے کبھی پورا ہی نہیں کر سکتے ۔ تبھی ہم انہیں پسند کرتے ہیں جو تاریک راہوں کے مسافر ہیں ۔ سوچتی ہوں کہ ہماری کیا ترجیحات ہیں ، میاں نواز شریف نے سیاست میںجتنے سال گزار ے ہیں اس میں کوئی قابل قدر خدمات نہیں ۔ کیا ہم واقف نہیں کہ یلو کیب سکیم سے لے کر موٹر وے کی تعمیر تک ، اورنج لائن کی تعمیر سے لے کر قطر سے ایل این جی کی در آمد تک ہر ایک عنوانی کے ساتھ بے شما رکہانیاں جڑی ہیں ۔جانے یہ کسی تاویل ہے جو اکثر لوگوں کو میں نے دیتے سُنا ہے کہ آخر وہ اپنا کماتے ہیں تو عوام کے لئے کام بھی تو کرتے ہیں ۔ عوام کے لئے کام کرنا ان کی مجبوری ہے ۔ وہ جائز مراعات ، تنخواہ کے حقدار ہیں ۔ لیکن بد عنوانی اور کرپشن میں ایسا نام پیدا کرنا کہ وہ قومی سے بین الاقوامی ہوجائیں۔ ملک میں بد عنوانی کے قصوں کی حدود سے آگے نکل کر پانامہ تک پہنچ جائیں اور آخربحیثیت قوم ہمارا ضمیر کیاکہتا ہے۔ ہم نے معاملات کو کیا رنگ دے رکھا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں اس ملک کے وزیر اعظم اور ان کے خاندان پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کا کیس چل رہا ہے اور ہم آج بھی انکے لئے پسند ید گی رکھتے ہیں۔
ان کی بد عنوانی کے تمام تر ثبوت بھی لوگ جانتے ہیں ۔ عدالت تو اپنی کارروائی مکمل کرے گی تو فیصلہ ہوگا لیکن عوامی عدالتوں میں فیصلے پہلے ہی ہو جایا کرتے ہیں ۔ یہ عوامی عدالت کا فیصلہ ہے کہ ہم بد عنوانی پسند کرتے ہیں ۔ ہم ان لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو اس طور سے پوری صحت کے ساتھ کرپشن کرسکیں۔ جو ہمیں جتنا لوٹے ہمیں اتنا ہی پسند ہے ۔ جو ہمارے لوٹنے کی داستان بن جائے وہ ہمارے سروں کا تاج ، جو ہمارا خون چوسنے کی انتہا کر دے وہ ہی پسند یدہ ترین ہے ۔ ہم بحیثیت قوم کرپشن پسند لوگ ہیں۔ اس لیے میاںنوازشریف ہمارے مقبول ترین لیڈرہیں ۔ کمال ہے اس قو م کی پسند پرآفرین کہنے کو دل چاہتا ہے ۔ ہمیں تو اعلان کر دینا چاہیے کہ ہم کرپشن کو پسند کرتے ہیں ۔ کرپشن کرنے والوں کو سر آنکھو ں پر بٹھا تے ہیں ۔ کرپشن ہمارا نصب العین ہے ۔ ہم نہایت محنت اور مہارت سے کرپشن کرتے ہیں اور اس میں جی لگانے والو ں کو پسند کرتے ہیں ۔ جو اسکے خلاف بات کرے اس کی بات ہمیں درست ہی محسوس نہیں ہوتی ۔ میاں صاحب کہتے ہیں کہ دھرنے والے کار کر دگی میں ان کا مقابلہ کریں ۔ میں پی ٹی آئی کی حامی نہیں ۔ ایک تجزیہ نگار صرف تجزیہ کرتا ہے اس کی بنیاد حقائق پر ہوتی ہے ۔لیکن میاں نواز شریف کی اس بات سے اختلاف کسی طور ممکن ہی نہیں کہ ان کی کار کر دگی کا مقابلہ کرنا پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی سے مشکل ہے ۔ پانامہ تک یہ غریب کہاں پہنچ سکتے ہیں ۔

اداریہ