Daily Mashriq


جماعتیں مختلف مگر پالیسی ایک

جماعتیں مختلف مگر پالیسی ایک

کے انتخابات میں امیدواروں کے چنائو کا جو معیار ساری قابل ذکر سیاسی جماعتوں نے اختیار کیا وہ حیرت انگیز طور پر مماثل ہے۔ سینٹ کے امیدواروں کے انتخاب میں ہر سیاسی جماعت کی ترجیح اول ارب پتی ہی ٹھہراہے۔ گو کہ ایوان زریں کی رکنیت کے حصول کا پارٹی ٹکٹ بھی عام آدمی کو نہیں ملتا لیکن بہر حال عوامی سطح پر معاملات میں پھر بھی ترجیحات کے تعین میں کئی امور کا خیال رکھنا مجبوری بن جاتی ہے مگر سینٹ کے انتخابات میں پارٹی اور پارٹی قیادت کے پاس مرضی کے تعین کا موقع آزادانہ ہوتا ہے۔ کچھ اس طرح کی صورتحال خصوصی نشستوں پر امیدواروں کے چنائو میں بھی ہے۔ اس لئے دیکھا جائے تو خواتین کی خصوصی نشستوں پر امیدواروں کی ترجیحی فہرست میں منظور نظر اور قربت دارں کی اکثریت ہوتی ہے۔ سینٹ کے انتخابات میں امیدواروں کے چنائو میں پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ(ن)‘ تحریک انصاف اور کسی حد تک جے یو آئی کا بھی ارب پتیوں کا چنائو اس سوچ اور طرز عمل کا واضح اظہار ہے جسے عوامی امنگوں اور توقعات کے برعکس گرداننا غلط نہ ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کے اکابرین کی اس پالیسی سے اس امر کا بخوبی اظہار ہوتا ہے کہ عوام کے حقوق اور مسائل پر بہائے جانے والے ان کے آنسو مگر مچھ کے آنسوئوں کو بھی دھوکہ دے سکتے ہیں۔ سیاسی سٹیج پر خواہ زرداری ہو یا نواز شریف یہاں تک کہ عمران خان بھی ایک سے بڑھ کر ایک خود کو عوام کا سب سے بڑا غمخوار ثابت کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کازور لگاتے ہیں اور جب اسی عوام کی نمائندگی کے لئے امیدوار کے چنائو کی باری آتی ہے تو ترجیحی امیدوار وہ ہوتا ہے اور ٹکٹ اس کو جاری کیاجاتا ہے جس کا عوام سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اگر جائزہ لیاجائے تو سینٹ کے الیکشن کو انتخاب کا نام دینا بھی مناسب نہ ہوگا بلکہ اس انتخاب کو اگر منڈی سے تشبیہہ دی جائے تو غلط نہ ہوگا جس میں جماعتی ڈسپلن کی پابندی کرانے کی قیمت وصول ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر سیاسی قائدین کی یہ کیوں مجبوری بن گئی ہے کہ وہ ارب پتیوں ہی کا انتخاب کریں۔ خیبر پختونخوا میں ایک دو خاندان اور افراد تو اب سینیٹرز فیملی کا روپ دھار چکے ہیں وہ جس پارٹی کا سینٹ ٹکٹ چاہتے ہیں نہ صرف حاصل کرسکتے ہیں بلکہ جس جماعت میں بھی جاتے ہیں کامیاب ہو کر ثابت بھی کرتے ہیں کہ باپ بڑا نہ بھیا سب سے بڑا روپیہ۔ اب شاید ملفوف قسم کی سرمایہ کاری ہونے لگی ہے جس میں سینٹ کے ارب پتی امیدواروں کو ووٹرز خریدنے کے لئے رقم لاد کر ان کے دروازوں پر جانا نہیںپڑتا ایک پوری ڈیل کے طور پر اب ان کو آسانی میسر آگئی ہے اور ہر جماعت اپنے ارکان کو پھسلنے اور بکنے کی بدنامی سے بچانے کے لئے ان کی بولی کا گھر ہی پر انتظام کرلینے لگی ہے۔ اس صورتحال کی کلی نہیں تو جزوی طور پر ذمہ داری میں شراکت میں جے یو آئی(ف) کا دامن بھی صاف نہیں البتہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم میں اس سے قبل کے انتخابات میں جماعتی وابستگی، پارٹی سے وفا داری و اخلاص ترجیح اول رکھے جانے کا ریکارڈ رکھتی ہیں۔ جے یو آئی(ف) میں جماعتی وابستگی پر امیدواروں کے چنائو کاعنصر موجود ہے۔ ہمارے تئیں پاکستان تحریک انصاف سے عوام کی وابستگی اور توقعات دیگر جماعتوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ دوسری جماعتوں سے کارکنوں اور عوام کی وابستگی کی کوئی واضح تشریح مشکل ہے لیکن تحریک انصاف سے امنگوں بھری توقعات کے ساتھ عوام کی جذباتی وابستگی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ بنا بریں تحریک انصاف کی سینٹ امیدواروں کے چنائو کا معیار عوام کے لئے زیادہ تکلیف دہ ہونا فطری امر ہے۔ تحریک انصاف کی گزشتہ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم جس طرح ہوئی تھی اس کااعتراف خود عمران خان نے بھی کیا مگر اس کے باوجود تحریک انصاف کے موجودہ منتخب نمائندوں کو معقول افراد کا چنائو سمجھا جانا غلط نہ ہوگا۔ البتہ تحریک انصاف نے گزشتہ عام انتخابات کے بعد ضمنی انتخابات میں امیدواروں کا چنائو روایتی سیاسی جماعتوں کے طور پر کرنے کی غلطی ضرور کی اور سینٹ کے انتخابات میں بھی یہ غلطی دہرائی گئی جس سے اس کی امتیازی حیثیت کے متاثر ہونے کے حوالے سے تاثر ابھرنا فطری امر ہوگا۔ بہر حال یہ کسی ایک جماعت کی پالیسی اور رویہ نہیں، دیکھا جائے تو من الحیث المجوع سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کے چنائو میں رقم دولت اور خاندانوں کو اہمیت دیتی ہیں اور جیتنے والے گھوڑے ڈھونڈتی ہیں۔ یہاں سے شروع ہونے والا تضاد عوام اور سیاسی جماعتوں کے درمیان خلیج کا باعث بھی ہے اور عوام اس نظام اور سیاستدانوں سے متنفر ہورہے ہیں اور بد قسمتی سے اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کے جمہوریت اور جمہوری نظام پر عدم اعتماد میں اضافے کا سبب خود سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں ہیں ۔ سیاسی جماعتیں اگر عوام کی خدمت کے دعوے میں سچی ہیں تو پھر ان کو اپنی پہلی صفوں میں عوام میں سے اور ان کے حقیقی ہمدردوں کو جگہ دینی ہوگی اور عوام کو شریک اقتدار ہونے کا احساس دلانا ہوگا تبھی جا کر جمہوریت مضبوط ہوگی اور جمہوری اداروں کی قدر و منزلت ہوگی۔

متعلقہ خبریں