Daily Mashriq

مردان میڈیکل کمپلیکس میں ارتکاب غفلت کا تیسرا واقعہ

مردان میڈیکل کمپلیکس میں ارتکاب غفلت کا تیسرا واقعہ

مردان میڈیکل کمپلیکس میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے آپریشن کے دوران ایک شخص زندگی کی بازی ہار گیا۔ ضلع ناظم کی ڈاکٹروں سے تکرار کے بعد جاں بحق شخص کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دی گئی۔ دوسری جانب وزیر اعلی خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ مردان میں ڈاکٹروں پر تشدد کرنے والے ضلع ناظم کے خلاف پولیس کارروائی کرے تو اسے سیاسی انتقام کا نام نہ دیا جائے ۔ واقعے کے وقوع پذیر ہونے اور وزیراعلیٰ کی جانب سے اس کا نوٹس لینے کے حوالے سے کچھ کہنا مناسب نہیں صورتحال سب کے سامنے ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مردان میڈیکل کمپلیکس میں ہر تھوڑ ے دنوں بعد اس طرح کے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں اس طرح کے واقعات پر عوام کا مشتعل ہونا فطری امرہے لیکن کسی مخالف سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے کسی ذمہ دار شخص کا اس طرح کے معاملات میں قانونی کارروائی اور سرکاری طور پر ذمہ دار عناصر کے خلاف تحقیقات کرانے میں کردار ادا کرنے کی بجائے تشدد پر اکسانا یا اس میں ملوث ہونے کی کوشش کی کسی طور بھی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ ہمیں وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی جانب سے محولہ شخص کے خلاف ممکنہ کارروائی کے عندیہ سے اختلاف نہیں لیکن وزیر اعلیٰ اگر اس کارروائی سے قبل مردان میڈیکل کمپلیکس کے منتظمین اور ڈاکٹر وں کے خلاف بھی ایکشن لیں تو زیادہ موزوں ہوگا اور پھر ڈاکٹروں پر تشدد کرنے والے عناصر کے خلاف کسی اقدام کی مخالفت کی بھی گنجائش نہیں رہے گی۔ ہم ایک مرتبہ پھر اس جانب توجہ مبذول کرانا چاہیں گے کہ مردان میڈیکل کمپلیکس میں اس طرح کے واقعات بار بار کیوں ہو رہے ہیں کہ مخالف عناصر کو ان کو ہو ا دینے کا موقع مل جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگ احتجاج پر اتر آتے ہیں۔ ہم قبل ازیں پور ی درد مندی کے ساتھ انہی کا لموں میں مردان میڈیکل کمپلیکس میں پیش آمدہ واقعات اور ہسپتال میں انتظامی کوتاہیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کر چکے ہیں لیکن کسی جانب سے بھی نوٹس نہ لیا گیا اور نہ ہی کارروائی کی اطلاعات ملیں۔ زچہ بچہ وارڈ میں پیش آنے والے ان واقعات کے ذمہ دار عناصر کے بااثر ہونے کو نظر انداز کر کے ان سے رعایت نہ برتی جاتی اور ان کے خلاف کارروائی ہوچکی ہوتی تو آج شاید یہ نوبت نہ آتی ۔ مردان میڈیکل کمپلیکس میں نوجوان کی ہلاکت کی وجوہات کی پوری طرح تحقیقات کرانے کے بعد کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے سیاسی بنیادوں پر معاملات کو الجھانے والے عناصر سے بھی گزارش ہے کہ وہ احتجاج برائے سیاسی مخاصمت کی بجائے نا انصافی و غفلت کے خلاف ضرور احتجاج کریں لیکن اس میں تشدد کا عنصر شامل نہ ہو ۔ ذمہ دار عناصر کے خلاف تحقیقات پر نظر رکھیں اور حکومت کو مجبور کیا جائے کہ کوتاہی کی گنجائش باقی نہ رہے یہی بہتر عوامی خدمت اور عوامی عہدے کا تقاضا ہے ۔
مشرق ٹی وی کی قابل توجہ رپورٹ
مشرق ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مستحق طلباء کو معیاری سکولوں میںتعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے شروع کردہ سکیم میں غیر مستحق افراد نے چور دروازے نکال لئے ہیںمذکورہ سکیم کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے تعلیمی اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرتی ہے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ تعلیم کے ملازمین بالخصوص اساتذہ مختلف انگلش میڈیم پرائیویٹ سکولوں میں زیر تعلیم اپنے بچوں کو ایٹا ٹیسٹ کے لئے درخواست دینے سے ماہ ڈیڑھ ماہ قبل اٹھا کر سرکاری سکول میں داخل کروادیتے ہیں اور پھر انہیں سرکاری سکول میں زیر تعلیم طلباء کے طور پر ایٹا ٹیسٹ میں بٹھا دیتے ہیں جبکہ بعض صورتوں میں فرضی داخلے بھی دلوائے جاتے ہیں ۔اولاً یہ معاملات حکام کے نوٹس میں ضرور ہوں گے اور اگر نہیں تھے تو رپورٹ کے نشر ہونے اور اس کی اشاعت کے بعد لاعلمی کا عذرلنگ بھی باقی نہیں رہا ۔ اس طرح کا حربہ میڈیکل اور انجینئر نگ کالجوں میں داخلوں کیلئے کوٹہ رکھنے والے علاقوں میں بھی اختیار کیا جاتا ہے لیکن چونکہ کاغذی کارروائی درست ہوتی ہے اس لئے چیلنج کئے جانے کے باوجود اس قسم کے چکر باز بچ نکلتے ہیں۔ محولہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے سخت قوانین بنائے جائیں اور ہرطالب علم کا مکمل ریکارڈ چیک کیا جائے اور اگر شک گزر ے تو سارے اساتذہ اور پوری کلاس سے گواہی لی جائے تاکہ اس قسم کی جعلساز یوں اور حق تلفیوں کی روک تھام کی جا سکے۔ دوسروں کا حق مار کر اپنے بچوں کو آگے بڑھانے والے عناصر کو خوف خدا کرنا چاہیئے کسی کی خوشی چھین کر اور کسی کا حق مار کر کبھی بھی کامیابی ممکن نہیں ہوا کرتی ۔

اداریہ