Daily Mashriq


’’ووٹ کی عزت ‘‘

’’ووٹ کی عزت ‘‘

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے نیا مطالبہ دائر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے ’’ووٹ کو عزت دو ‘‘۔ اُن کا مخاطب کون ہے یہ انہوں نے واضح نہیں کیا۔ تاہم ووٹ کا احترام سب پر لازم ہے۔ پاکستان کے ہر بالغ شہری پر بھی اور ہر اس شخص پر زیادہ جس پر قومی ذمہ داری ہے۔ ووٹ کے احترام سے ان کی مراد کیا ہے وہ ان کے اگست میں ان کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آ جانے کے بعد ان کے بیانات سے ظاہر ہے۔ وہ کہتے رہے ہیں کہ پانچ ججوں نے انہیں چلتا کر دیا حالانکہ ان کے پاس بقول ان کے بیس کروڑ عوام کا مینڈیٹ تھا۔ سپریم کورٹ آئین کے تحت قائم ہونے والی ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے۔ آئین ملک کا متفقہ طور پر منظور شدہ آئین ہے۔ 1973ء میں جب یہ آئین بنا تھا تو آئین ساز اسمبلی میں موجود سبھی پارٹیوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ ان میں سے کچھ پارٹیاں اب بھی ہیں اور کچھ نئی وجود میں آئی ہیںجو اس آئین کو پاکستان کا آئین تسلیم کرتی ہیں۔ اس طرح سپریم کورٹ کا قیام بھی عوام کے متفقہ طور پر منظور ہونے والے آئین کے تحت قائم ہونے والا ادارہ ہے۔ یعنی یہ ادارہ پاکستان کے سارے عوام کے ووٹ کی متفقہ طاقت سے وجود میں آیا ہے اور یہ عوام کے متفقہ آئین کے تحت اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ (میاں صاحب کا مینڈیٹ تو ایک پارٹی کا مینڈیٹ تھا)خود میاںصاحب نے جب جب وہ ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اسی آئین کے تحت آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا۔ اس لیے سب سے پہلے ان کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے کل ووٹ کی طاقت کے ذریعے وجود میں آنے والے آئین کے تحت قائم ہونے والی ملک کی سب سے بڑی عدالت کا احترام کریںاور اس احترام کے تقاضوں پر پورا اُتریں۔ کیونکہ ووٹ اور آئین کے احترام کی سب سے بڑی ذمہ داری ان افراد یا عہدیداروں پر عائد ہوتی ہے جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر اپنی ذمہ داریوں پر فائز ہوتے ہیں۔انہوں نے ووٹ کی کل طاقت سے منظور ہونے والے متفقہ آئین کی وفاداری کا حلف اٹھایا اور یہ حلف ان سے ووٹ کی طاقت سے منظور ہونے والے متفقہ آئین کے تحت قائم ہونے والی سپریم کورٹ نے دیا۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی بنا پر انہیں عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا گیا کیونکہ انہوں نے آئین اور قانون کے تقاضوں کے مطابق انتخابی گوشواروں میں اپنے اثاثوں میں اس ملازمت کا ذکر نہیں کیا تھا جو انہوں نے پاکستان کا وزیر اعظم ہوتے ہوئے بیرون ملک ایک کمپنی میں جاری رکھی تھی۔ 

جب میاں صاحب کے خلاف اثاثے ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آیا تھا تو وہ بار بار اعلان کرتے تھے کہ وہ سپریم کورٹ کا احترام کرتے ہیں اور سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ اسے من و عن تسلیم کریں گے۔ لیکن اپنے خلاف فیصلہ آ جانے کے بعد وہ کہتے ہیں کہ انہیں اپنے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کی سزا دی گئی (جو ان کے حساب میں جمع ہوتی رہی) اور کہتے ہیں کہ اگر تنخواہ نہیں لی تو تمہیں کیا۔ اس طرح وہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کرتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے وہ متعدد بار یہ کہہ چکے تھے کہ وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ من و عن تسلیم کریں گے۔ میاں صاحب کے ووٹ کو عزت دو کے مطالبے کا مخاطب کون ہے اس کی انہوں نے وضاحت نہیں کی تاہم ووٹ کا احترام پاکستان کے ہر شہری کو کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے ووٹ کے احترام کی ذمہ داری ووٹر پر عائد ہوتی ہے کہ اس کے ووٹ کا مطلب ہے کہ اس نے امیدوار کو حکومت کے اعلیٰ منصب کے لیے منتخب کر لیا ہے۔ اس لیے ووٹرکو یہ دیکھنا چاہیے کہ جس امیدوار کو وہ ووٹ دے رہا ہے وہ دیانت ‘ صداقت اور شرافت کے تقاضوں پر پورا اُترتا ہے۔ کیا وہ اپنے قول اور فعل کے اعتبار سے قانون کا پاسدار ، ایسی شہرت کا حامل تو نہیں جسے معاشرے میں بدنامی کہا جاتا ہے۔ کیا وہ ووٹر کو کوئی لالچ یا ترغیب نہیں دے رہا ہے ماسوائے معاشرے میں قانون میں دیانت و امانت کے اصولوں کی پیروی کے۔ کیا ووٹر اس کی لیاقت اور اہلیت کی بنا پر اسے ووٹ دے رہا ہے۔ عوام کا ووٹ حاصل کر کے جب کوئی شخص کسی منتخب عہدے پر فائز ہو جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری محض ایک قانون کے پاسدار شہری سے بڑھ کر ان تمام لوگوں کے نمائندے کی ہو جاتی ہے جنہوںنے اسے ووٹ دیا یا انتخاب میں حصہ لیا۔ میاں صاحب منتخب وزیر اعظم تھے ، اس طرح ان پر آئین اور قانون کی پاسداری کی ذمہ داری کسی عام شہری سے کہیں زیادہ تھی۔ نہال ہاشمی ایک منتخب سینیٹر تھے ان پر یہ ذمہ داری کسی عام شہری سے بڑھ کر تھی کہ وہ آئین کے تحت قائم ہونے والی سپریم کورٹ اور اس کے ججوں کے احترام کے تقاضوں پر پورا اُترتے ۔ اسی طرح وفاقی وزیر طلال چوہدری اور دانیال عزیز کی عدالتوں کے احترام کی ذمہ داری کسی عام شہری سے کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ لیکن میاں صاحب جلسہ عام میں ان دونوں وزراء کے ہاتھ کھڑے کر کے کہتے ہیں کہ ’’ان پر بھی توہین عدالت لگ گئی ہے‘‘۔ پھر جلسہ کے حاضرین سے رائے لیتے ہیں کہ آیاان پر عائد ہونے والی فردِ جرم صحیح ہے ۔ مجمعے سے آواز آتی ہے نہیں اور میاں صاحب کہتے ہیں عوامی عدالت کا فیصلہ آ گیا ہے۔ میاں صاحب ایسی ہی جلسہ گاہوں میں حاصل کیے ہوئے فیصلوں کو ملک کا آئین اور قانون بنانے کے لیے مطالبہ کر رہے ہیںکہ ووٹ کو عزت دو۔ جس طرح انہوں نے جلسہ کے شرکاء سے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے الزام کے باوجود اپنے وزراء کی بریت کا فیصلہ لے لیا۔ اس طرح تو یہ ملک سرزمین بے آئین ہو جائے گا۔ دوسری سیاسی جماعتیں بھی بڑے بھاری جلسے کرتی ہیں ۔ وہ بھی ’’عوامی عدالت‘‘ کے فیصلے لیا کریں گی تو بقول میاں صاحب کی مسلم لیگ کے ایک سابق سینیٹر ظفر علی شاہ کے ملک میں غدر برپا ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں