Daily Mashriq


اس غم کا مداوا کیسے ہو ؟

اس غم کا مداوا کیسے ہو ؟

ہم ایک زرعی ملک میں رہتے ہیں ۔ اپنے حکمرانوں کی تمام تر ترجیحات کی کبحی کے باوجود بھی ہم خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہیں۔ ایک زرعی ملک سے امید بھی یہی رہتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنی خوراک خود پیدا کر سکتا ہوگا بلکہ اس حد تک خوراک پیدا کرے گا کہ دوسرے بھی اسکے خریدار ہو سکیں گے ۔ پاکستان کو بھی یہ اعزاز تو حاصل ہے لیکن اس کیساتھ ساتھ کئی باتیں ایسی ہیں جنکے حوالے سے خاصی تشویش جنم لیتی ہے۔ ان کا سدباب ہونا ضروری ہے لیکن کوئی اس حوالے سے سوچتا ہی نہیں ۔ شاید اس لیے بھی کہ سیاست دانوں اور حکمرانوں کی ترجیحات وہی باتیں ہوا کرتی ہیں جو شہ سرخیاں بنا سکیں۔ وہی باتیں جنکے نشتر بنا کر دوسروں کے جسموں پر دلائے جا سکیں ۔ وہی باتیں جن کا مجسمہ بنا کر ملک کے کسی چوراہے میں لگایا جا سکے تا کہ اگلے انتخابات میں اس کو دکھا کر ووٹ لیے جا سکیں ۔ میں جتنی بھی کوشش کروں میں کوئی بھی ایسا اشارہ تلاش نہیں کر پاتی جس سے ایک لمحے کو بھی میر ے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکے کہ ہمارے حکمران واقعی اس ملک اور اس میں رہنے والے لوگوں کے بہی خواہ ہیں یاان کی بھلائی چاہتے ہیں ۔ ہر بار ان کی باتوں میں کوئی نہ کوئی بات ایسی سامنے آہی جاتی ہے جس سے ان کے ارادوں اور نیتوں کا اظہار ہوتا ہے ۔ سوچتی ہوں جانے کب ہمارے دلوں سے یہ خوف دھلنے کا آغاز ہوگا کہ ہمارے اس ملک میں ہمارے چار جانب کوئی عفریت پھیلا ہے جو ہمیں نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے، میاں نواز شریف کو عدالت سے فارغ کیئے جانے سے پہلے وہ اس ملک کے وزیراعظم تھے اوراب بھی تقریباً انہی کی حکومت ہے لیکن اس زرعی ملک میں جس کی کل اراضی 79.6مربع ملین ایکڑ ہے صرف26% زمین یعنی 23.7 ملین مربع ایکڑ پر کاشت کاری کی جاتی ہے ۔ حکومت کو اس ملک کے زرعی ملک ملک ہونے کا احساس تک نہیں تبھی تو گائوں کو سڑکوں تک ملانے والی سڑکوں پر توجہ دینے کے بجائے شہروں کے اندر عظیم الجثہ منصوبے بنائے جاتے ہیں ، لاہور میں اورنج ٹرین ہو یا میٹرو، راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان میٹرو ہو یا ملتان کی میٹرو ۔ لاہور کے ان گنت انڈر پاس ہو ں یا شہر کی خوبصورتی کے منصوبے، ایک غریب زرعی، ملک کے حکمرانوں کو ایسی شان و شوکت بھی زیب نہیں دیتی اور اپنے اصل سے ایسی بے اعتنائی بھی مناسب نہیں ۔ ہم ایک زرعی ملک کے لوگ ہیں ، خوراک میں خود کفیل بھی ہیں لیکن ہمارے بچوں میں سے تقریباً %45بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور اس سے انکی نشوو نما پر اثر ہورہا ہے ۔ انکے قد بھی متاثر ہونگے ، انکی صحت متاثر ہوگی ۔ گویا ہماری اگلی نسل میں سے آدھے بچے کبھی صحت اور نشوو نما کے اس معیار کو پہنچ نہ سکیں گے جو ہماری نسل کو حاصل تھا گویا ہم بونوں کی ایک نسل کو پال رہے ہیں اور کمال یہ ہے کہ اس جرم کا کوئی سراغ ہم اپنے حکمرانوں کی پالیسیوں تک نہ پہلے لگا سکے ہیں ، نہ آج لگا سکتے ہیں اور نہ اسکے بعد لگا سکیں گے ۔ اور شاید ابھی ہمارے مسائل ہی ایسے قد آور ہیں کہ ایسی باتیں تو ہمارے گمان کے آس پاس بھی نہیں پھٹکتیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہیں 45فیصد بچوں میں سے گیارہ فیصد ایسے ہیں جو اس قدر خوراک کی کمی کا شکار ہیں کہ انہیں اب طبی امداد کے بغیر ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، گویا ہماری آبادی کا دسواں حصہ اور کئی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے جو خوراک کی کمی کے باعث جنم لیتی ہیں۔ ان بیماریوں کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اس قوم کا المیہ یہ ہے کہ اسے علم ہی نہیں کہ اس کیساتھ کس کس طرح ظلم ہورہا ہے۔ اس ملک کی بہتری کی آس بس اب دعا بن کر رہ گئی ہے ۔ میں اپنے بچوں کیلئے اس ملک کی بہتر صبح کی جانب محنت سے ، ہمت سے ، وفاداری کا ہاتھ تھام کر بڑھنا چاہتی ہوں لیکن ہم نے اس ملک سے وہ بے پروائی برتی ہے کہ اپنے ہی دشمنوں کو اس ملک کا حکمران کیا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری نسلوں کو محض گمراہ ہی نہیں کر رہے ، اس نسل کو بیماریوں میں مبتلا بھی کر رہے ہیں ۔ یہ نسل جو ہمارے مستقبل کی امین ہے ، اس نسل کو ان حکمرانوں نے کیا کیا تحفے دیئے ہیں ۔ بات یہی کہاں موقوف ہے اس ملک میں کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانے لگ رہے ہیں ۔ گویا ہماری نسل کی صحت اس طور بھی تباہ ہوگی ۔ سی پیک سے وابستہ ترقی کے خواب تو دکھائے جارہے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ آخر اس حوالے سے کیا اقدامات کیے گئے کہ ملک میں گاڑیوں ، ٹرکوں کی جو آمدورفت شروع ہوگی اس سے ملک کی آب وہوا پر کیا اثرات مرتب ہونگے ۔ وہ گلیشئر ز جو پہلے ہی پریشان ہیں کہیں اس سے گھبرا کر میدانی علاقوں کی جانب دوڑ تو نہ پڑیںگے۔ کہیں ملک میں اس موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلابوں یا قحط سالی کا خطرہ تو نہ ہوگا۔ کہیں کوئی اور مسائل تو نہ ہونگے۔ اس زرعی ملک کی زرعی یافت میں کمی کی ایک بہت بڑی وجہ موسم کا نامہربان ہو جانا ہے، جب بارش کی ضرورت ہو تب بارش نہیں ہوتی اور جب ضرورت نہ ہو اس وقت رُکتی نہیں۔ یہ بھی تحقیق نہیں ہو رہی کہ ملک میں موسم بدل رہے ہیں، مہینوں سے وابستہ موسم نے اپنی جگہ اور ماہ تبدیل کر لئے ہیں اس کا اثر فصلوں پر ہو رہا ہوگا اس کی جانب کوئی توجہ نہیں کیونکہ یہ حکمرانوں کی ترجیحات ہی نہیں ۔ دل دُکھتا ہے جب لوگ کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو بڑی چھوٹی بات پر فارغ کیا گیا ،میں سمجھتی ہوں کہ انہیں تو بار بار نکالا جائے تو بھی اس قوم کا حق ادا نہ ہو۔ 

متعلقہ خبریں