Daily Mashriq


ویکسین اور حفاظتی ٹیکے ایک مخالفانہ نقطہ نظر

ویکسین اور حفاظتی ٹیکے ایک مخالفانہ نقطہ نظر

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 26 قسم کی ویکسین مختلف ا مراض کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کے لئے استعمال ہو رہی ہیں۔پاکستان میں خناق، پولیو، کالی کھانسی ، تشنج ، ہیپا ٹائٹس بی، انفلوئنزا اور خسرہ کے قطرے بچوں کو پلائے جاتے ہیں۔ ویکسین کے منفی اثرات کا شکار گجر ناتھ ،جو ملٹی نیشنل کمپنی میں ڈائریکٹر ویکسین کے خلاف 1985 سے مہم چلا رہا ہے کا کہنا ہے کہ ویکسین سے متعلق یہ بات بالکل ثابت نہیں کہ ویکسین مختلف بیما ریوں کے خلاف قوت مدا فعت پیدا کرتا ہے۔کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی میںبھی ویکسین کی افا دیت پر کوئی تحقیق نہیں ہوئی ۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بچوں کو بلاضرورت اور لیباٹری ٹسٹ کے بغیر ویکسیندی جاتی ہے۔ویکسین میں جو کیمیکل ڈالے جاتے ہیں وہ زہریلے ہیں۔ ویکسین میںبھاری دھاتیں ، زہریلے کیمیکلز ہوتے ہیں، جو کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ جنیاتی طریقے سے افزائش کئے گئے وائرس یا جراثیم یا جانوروں کے وائرس اور ٹسٹ کئے بغیر کیمیکلز، مرکری (یعنی پا رہ )، المونیم (بر تن بنانے والے سلور) اور زندہ وائرس ہوتے ہیں، جو ایک بیماری Autism ذہنی مرض یا اپنی ذات میں گم سُم رہنے والے مرض کا سبب بنتا ہے۔ یہ بات امریکہ کی عدالت نے بھی تسلیم کی ہے۔ ویکسین پر تحقیق کرنے والےDr.Gerberdingcoutنے سی این این کے ایک پروگرام میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ ویکسین Autism یعنی دماغی بیماری جیسی علامات کا سبب بنتا ہے۔ Autismیعنی ذہنی بیماری کی وبا صرف ان ممالک میں ہے جہاں بڑے پیمانے پر ویکسین دی جاتی ہے۔1999 میں امریکی حکومت نے ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو حکم دیا کہ ویکسین میں تھر مامیٹر والا پارہ شامل نہ کیا جائے۔ مگر اس حکم پر کوئی عمل نہ ہوا۔ ویکسین میںمرکری یعنی پارہ ہو تو یہ شیر خوار بچوں کے دماغ کو مکمل تباہ کرتا ہے۔مر کری ( پارہ ) شیر خوار بچے کے اعصابی نظام کو مکمل تباہ کرتا ہے۔ و یکسین میں ایلمونیم (سلور )بھی ہوتا ہے جو ویکسین میں مر کری کو 100گنا مزیدخطرناک بنا تا ہے۔تحقیق کے مطابق بچے ویکسین میں 250 گنا مرکری یعنی زہریلا مواد جذب کرتا ہے۔ما ضی میںAutismکی بیماری 500 لوگوں میںسے ایک کو ہوتی تھی اور اب 37 میں ایک کویہ مرض لا حق ہے۔محقق حا رث کینٹر کہتے ہیں کہ اس میں استعمال کئے گئے کیمیکلز کی وجہ سے بچے خراب ذہنیت کے حامل اور مجرم بن جاتے ہیں۔خسرہ اور پولیو کے قطرے بندر کے خون سے بنائے جاتے ہیں جو بُہت سی اقسام کے کینسر کا سبب بنتا ہے ۔گرین بندر کے خون سے بنے ہوئے ویکسین سے ایڈز جیسے جراثیم SIVبن پاتے ہیں ۔ شیر خوار بچوں میں خون کا کینسر، ویکسین میں استعمال شدہ مختلف قسم کے کیمیکلز کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انڈیا ڈاکٹر میڈیکل ایسو سی ایشن کے مطابق پولیو قطروں میں جو زندہ پولیو وائرس استعمال ہوتے ہیں اس سے 65 ہزار بچوں کو پولیو ہو گیا تھا۔ویکسین میں نہ صرف بندر، چمگا دڑ کا خون ملایا جاتا ہے بلکہ اس میں گائے ، سور، چکن، انڈوں گھوڑوں اور انسانوں کا بھی خون ملایا جاتا ہے۔ ویکسین قدرتی قوت مدا فعت کو دباتی ہے اور جسم میں قوت مدافعت والے خلیات پیدا ہونے سے روکتی ہیں۔ ماں کے دودھ جس میں بچوں کے لئے قوت مدافعت ہے وہ ویکسین دینے کے بعدپیدا نہیں ہوتی۔امریکہ میں ویکسین کے منفی اثرات کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے حکومت نے متاثرہ لوگوں کو 200 ملین ڈالر کا معاوضہ دیا۔امریکہ میں والدین کو ویکسین کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔دنیا میں کوئی ایسا طریقہ موجود نہیں جو ویکسین سے متا ثرہ کسی کا علاج کر سکے۔ٹی بی کے بارے میں بی سی جی ویکسین بھارت میں ٹسٹ کئے گئے جس کا اچھا نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔ اکثر ویکسین بغیر کسی ٹسٹ کے متعارف کی جاتی ہیں۔فرانس ، جرمنی، سپین، سوئٹزر لینڈ، آسٹریا اور اٹلی نے فلو نزلے زکام والے ویکسین پر اس میں زہریلے مواد کی وجہ سے پابندی لگائی ہے۔ویکسو پیڈیا کے مطابق فرانس نے ہپاٹائٹس بی کی قوت مدافعت والے ویکسین پر پابندی لگائی ہے۔ گلے کے امراض سے متعلق ویکسین سویڈن، جاپان ، بر طانیہ، روس، آئر لینڈ ، اٹلی، مغربی جرمنی اور آسٹریلیا میں بند کر دی گئی ہے۔جاپان نے خسرہ سے متعلق ایم ایم آر ویکسین پر پابندی لگادی ہے جو گردن توڑ بُخار کا سبب بنتا ہے۔Dr.Viera scheibnar, PhDکہتے ہیں کہ جب سے شیر خوار بچوں میں حفا ظتی ٹیکے یا پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تو دماغی امراض، دل کے امراض اور دوسرے کئی امراض میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔انسانی جسم میں بی اور ٹی خلیے بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام ہے مگر ویکسین کے استعمال کے بعد مختلف بیماریوں میں قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے اضافہ ہوا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میںٹیکوں اور قطروں کی شکل میں دینے سے قبل اس کاپورا جائزہ لیا جائے ۔ باہر سے آئے ہوئے کسی بھی ویکسین یا قطروں کو ملک کے اندر چیک کیا جائے۔ اس قسم کی ویکسین اور ڈراپ کو چیک کرنے کے لئے ملک میں لیبا رٹری قائم کی جائے۔ تاکہ لوگ ان عالمی ساہوکاروں کی بھینٹ نہ چڑھیں۔

متعلقہ خبریں