Daily Mashriq


سیاست اورسیاہ ست

سیاست اورسیاہ ست

آج کل ملک کے طول وعرض میں الیکشن 2018 کا میلہ لگنے والاہی نہیں ، لگ چکا ہے ، ہر سیاسی پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ اپنے مد مقابل کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے، ان کی چن چن کر برائیاں عام لوگوں تک پہنچائے۔ سچے جھوٹے الزامات ،طنز و مزاح، لعن طعن اور گھٹیا زبان تک کا استعمال کرکے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کھلے عام کی جارہی ہے۔ حالانکہ یہ سارے طریقے غیر پارلیمانی اور غیر اخلاقی سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن وہ جو کسی نے کہا ہے کہ جنگ اور محبت میں سب جائز ہے۔ مگر شومئی قسمت سے یہاں محبت نام کی تو کوئی چیزنظر نہیں آرہی، بس ایک جنگ ہے اقتدار حاصل کرنے کی جس کے لئے چوٹی کے طالع آزما پر ہجوم جلسے کرکے اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ عوام کا ٹھاٹھیں مارتاسمندر ہر سیاسی پارٹی کے جلسے میں پہنچ کر اس کے لیڈروں کے اس زعم میں اضافہ کرتا رہتا ہے کہ کوئی نہیں ان جیسا اس جہاں میں ۔ اپنے مخالف پر طنز اور تضحیک کے نشتر چھوڑنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے کڑوے کسیلے الفاظ سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہورہی۔ اور یہ کہ اگر کسی نے کسی کو برے نام سے پکارا یا اس پر بے جا الزام تراشیاں کیں تو کل کلاں اس کے جواب میں ان کامد مقابل بھی اس ہی قسم کی زبان استعمال کرے گا۔بات دل آزاری سے توہین آمیز جملوں تک جاپہنچی ہے تو ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہورہی ہے کہ توہین کرنے والے صرف اپنے مد مقابل فریق کی توہین کررہے ہیں انکے توہین آمیز اور نفرتوں کی زہر میں بجھے ہوئے نشتروں کا شکار ملک کی اعلیٰ ترین عدالتیں بھی ہورہی ہیں، افواج پاکستان پر بھی اچھالا جارہا ہے یہ کیچڑ۔ عوام کے جم غفیر میں چیخ چیخ کر ملک کی عدلیہ کو بدنام کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔ جو زبان میں آیا کہہ د یا۔ زبان سے نکلی ہوئی بات اور کمان سے نکلا ہوا تیر واپس نہیں آتے اس لئے ہم الیکشن کی تیاریوں میں مگن سیاست دانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ سیاست کو سیاہ ست نہ بنائیں۔ سیاست آقائے نامدار تاجدار حرم نبی محترمﷺ کی سنت پاک ہے۔ اگر ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کی قیادت کے دعویدار ہیں تو پھر بھول کیوں جاتے ہیں کہ آزاد مملکت پاکستان کو معرض وجود میں لانے کے لئے ہم نے پکار پکار کر کہا تھا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الٰہ الاللہ‘‘۔ یہ اس کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا جو ہم تک نبی آخر الزمان ﷺ کی وساطت سے پہنچا۔ اگر ہم سیاست کو سنت نبوی ﷺکہہ کر یاد کرتے ہیں تو ہمارے پیش نظر صاحب خلق العظیم ﷺکے وہ اطوار اور تعلیمات بھی ہونی چاہئیں جو ہمیں تعلیمات دین محمدی نے سکھائیں۔کیا خوب ارشاد فرمایا ہے شاعر مشرق نے کہ

گفتار سیاست میں وطن اور ہی کچھ ہے

ارشاد نبوت میں وطن اور ہی کچھ ہے

کسی کو برے نام سے پکارنا یا کسی کی برائیاں اچھال کر پاکستان کے بائیس کروڑ عوام سے ووٹ مانگنا ہمارے قائدین سیاست کو زیب نہیں دیتا لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ سیاست کی اس گرم بازاری میں ہر سامنے آنے والے کے منہ سے نکلنے والی غلاظت سے ماحول کو آلودہ اور پراگندہ کیا جارہا ہے، اور اس پر طرہ یہ کہ ، ہر سیاسی لیڈر ایڑھی چوٹی کا زور لگا کر اپنے آپ کو عوام دوست اور ان کا ہمدرد ثابت کرنے کا دعویدار ہے ۔ خدشہ ہے کہ بہتان طرازی یا الزام تراشی کا یہ’ تیتک تاڑا‘ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک الیکشن کے سارے مرحلے طے نہیں ہوپاتے۔ آج بابائے دھرنا علامہ طاہر القادری کے سٹیج پر عمران خان، زرداری کی موجودگی میں بیٹھنا پسند نہیں کرتے تو کل تک مولانا فضل الرحمان کو نا پسند کرنے والے مولانا سراج الحق ان سے انتخابی اتحاد کرنے چل نکلے ہیں۔ یہ جوڑ توڑ اور گالم گلوچ کی سیاست ہاتھی کے کھانے اور دکھانے کے دانتوں کی مانند الگ الگ ہیں جن کو سمجھنا عوام کے بس کی بات نہیں۔ ان کو تو بس تالیاں بجانے اور نعرے لگانے آتے ہیں۔ اگر کسی سیاسی پارٹی کا جلسہ برپاہوتا ہے تو جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کا ہجوم جمع کرنے کے لئے یا جلسہ گاہ کو بھرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے جس کے لئے پارٹی کی علاقائی ،مقامی اور دیہاتی سطح کی قیادت حتیٰ کہ محلہ اور گلیوں تک کی سطح کی قیادت کو جلسہ گاہ میں زیادہ سے زیادہ لوگ لیکر آنے کی ہدایت کی جاتی ہے اور قطار اندر قطار بک کرائی گئی کرائے کی بسوں اور گاڑیوں میں ٹھونس ٹھونس کر جھنڈا بردار پارٹی ورکروں کا جم غفیر اس مقام پر پہنچایا جاتا ہے جہاں سیاسی شو کرنا مقصود ہوتا ہے ۔ اور اس شو میں تقریر سننے سے زیادہ ناچ گانوں اور مخالف پارٹی کے امیدواروں کی تضحیک دشنام طرازی کو اہم ترین سمجھا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہماری قوم کا ہر فرد الزام تراشی اور گالم گلوچ سننے کا نہ صرف عادی ہو چکا ہے بلکہ وہ ان باتوں پرجھوم جھوم کر اپنے نعروں کی شدت میں اضافہ کرنے لگتا ہے ۔ اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ اس کے تن پر ڈھنگ کے کپڑے نہیں اس کے بچے اس انتظار میں ہیں کہ کب ابو نان شبینہ لیکر کر گھر میں داخل ہوگا، ان کو کیا معلوم کہ گھر کا سربراہ اس ہی شدت سے مخالف پارٹی سے وابستہ افراد پر کیچڑ اچھا ل رہا ہے جس شدت سے اس کا لیڈر مخالف پارٹی کے سربراہ کی کردار کشی کر رہا تھا۔شاید یہی ہے جمہوریت اور اسی کو کہتے ہیں عہد حاضر کی سیاہ ست

میں تو اس کی عاقبت بینی کا کچھ قائل نہیں

جس نے افرنگی سیاست کو کیا یوں بے حجاب

متعلقہ خبریں