Daily Mashriq

شام میں نئی خانہ جنگی کا خطرہ

شام میں نئی خانہ جنگی کا خطرہ

گزشتہ سات سالوں سے شام میں جاری خانہ جنگی 2017کے اختتام تک تقریباً کافی حدتک ختم ہوچکی تھی۔اب شام کے پرامن مستقبل کے بارے غور وفکرکرناباقی رہ گیا تھا ،جس کے لیے ترکی شام میں لڑنے والے تمام فریقوں سے مسلسل رابطے میں رہا،تاکہ جلدازجلد شام کی رونقیں دوبارہ بحال ہوسکیں۔امریکا،فرانس اور برطانیہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے مفادات شایدابھی تک پورے نہیں ہوئے تھے۔اسلئے انہوں نے ترکی کی سرحدکے قریب شامی شہر عفرین میں کرد باغیوں کو ترکی کے خلاف ہتھیار مہیا کرکے ابھارا،تاکہ خانہ جنگی کی آگ بھڑکتی رہے۔عفرین شام کے شمال مغرب میں حلب سے63کلومیٹر کی مسافت پر واقع ایک بہت بڑا شہرہے۔جس کی آبادی تقریباً ساڑھے تین لاکھ سے زائد ہے،جو زیادہ ترکرد وں پر مشتمل ہے۔زیتون کی کاشت کاری میں عفرین شہر بہت مشہور ہے۔زیتون ہی یہاں کے لوگوں کے گزر بسر کا واحدبڑا ذریعہ معاش ہے۔اسی وجہ سے ترکی نے کرد باغیوں کے خلاف حالیہ فوجی آپریشن کا نام بھی (زیتون کی شاخ) رکھا ہے۔عفرین کی سرحدترکی سے ملتی ہیں۔ترکی کو نہ صرف عفرین بلکہ ترکی سے ملحقہ دیگر شامی سرحدوں سے کرد باغیوں کی صورت ہمیشہ خطر ہ رہاہے۔

کُرد دراصل مشرق وسطیٰ کے شمال میں رہتے ہیں۔کردوں کی کل تعداد25 سے 30ملین کے لگ بھگ ہے۔جن میں سے56فیصد کرد ترکی، 16فیصد ایران،15فیصد عراق اور 6فیصد شام میں رہتے ہیں،جبکہ لبنان،آرمینیا،کویت اور یورپ سمیت دنیا بھر کے30 مختلف ممالک میں بھی کردوں کی کثیر تعداد رہائش پذیرہے۔زیادہ تر کُرد ترکی میں رہتے ہیں،جو ترکی کی آبادی کا 20 فیصد بنتے ہیں ۔خلافت عثمانیہ کے دور میں کُرد نہ صرف خوشحال تھے ،بلکہ خلافت عثمانیہ کے ماتحت رہنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد سیکولرمصطفی کمال اتاترک نے عربی کی طرح کردی زبان پر بھی پابندی لگادی،جو کوئی کردی میں بات کرتے ہوئے پکڑا جاتا اسے سزا دی جاتی1991تک یہ پابندی برقرار رہی، لیکن نجم الدین اربکان اور اردگان کی کوششوں سے کُردوں کوترکوں کے برابرحقوق حاصل ہوئے۔ دوسری طرف بعض کرد استعمار کے آلہ کار بننے لگے، جنہیں مختلف حیلے بہانوں سے شدت پسندی اور ملکی یک جہتی کے خلاف ابھاراجانے لگا۔چنانچہ 27نومبر1978کوترکی میں اشتراکی نظریات کے حامل چندکردوں کواقتدار کالالچ اور کردقومیت کا نعرہ دے کر ابھاراگیا۔جنہوں نے PKKکے نام سے ایک شدت پسند جماعت کی بنیاد رکھی۔اس جماعت کابظاہرہدف ترکی سے کردوں کو علیحدہ کرنااور دنیا بھر کے کردوں کو ایک جگہ جمع کرکے بڑاکردستان بناناتھالیکن پس ِپشت کارل مارکس اورلینن ایسے اشتراکیوں کے نظریات کوفروغ دے کرکردوں اورترکوں کو تقسیم کرنا اورمشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی کی آگ کوبھڑ کانا۔ترکی نے شروع دن سے اس جماعت کو باغی اور ملک دشمن قرار دے رکھا ہے۔امریکا اور برطانیہ کی چالاکی کی انتہا دیکھئے کہ ایک طرف اِس جماعت کو دہشت گرد ڈیکلئیرکررکھا ہے تودوسری طرف شام میں نہ صرف اسی دہشتگرد جماعت کے دہشتگردوں کو امریکی کمانڈروں سے بریفنگ اور ٹریننگ لیتے دیکھا گیا ہے،بلکہ ترکی کی PKKکیخلاف کارروائیوں میں امریکہ کی بھرپور سپوٹ بھی اسی دہشت گرد جماعت کیساتھ رہی ہے چنانچہ شامی خانہ جنگی کے بعد ترکی سے ملحقہ علاقوں میں بسنے والے کردباغی امریکا اور برطانیہ ہی کی مدد سے مضبوط ہوتے رہے۔جنہوں نے پہلے PKK اورISIS کی صورت ترکی کے سرحدی علاقوں میں شورش برپاکی۔ جس کے خاتمے کیلئے ترکی نے اگست 2016میں ’’فرات شیلڈ‘‘نامی فوجی آپریشن کیا، جو7مہینے تک جاری رہنے کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ بعدازاں عفرین میں PKKکیساتھ دیگر کرد باغی تنظیموں PYD، KCK، PYGاور داعش کی صورت ترک علاقوں میں فساد برپا کروایا۔ترک حکومت کے بقول عفرین میں موجود کرد باغیوں نے 700 سے زائد مرتبہ ترکی کے سرحدی علاقوں پر حملے کیے،جس میں کئی بار جانی ومالی نقصان ہوا۔چنانچہ عفرین سے اٹھنے والے اس نئے فساد کو ختم کرنے کیلئے ترکی نے عفرین میں ’’زیتون کی شاخ‘‘ کے نام سے 20 جنوری 2018ء کو ایک فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جس میں اب تک700سے زائد باغی مارے گئے اور باغیوں سے کئی دیہات اور علاقے خالی کروا لیے گئے ہیں۔ ترکی کے اس فوجی آپریشن پر امریکا، برطانیہ اور فرانس نے سخت رد عمل دیاجبکہ نیٹو نے ترکی کے نیٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے ترکی کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ترکی کو اپنی قومی سلامتی اوردفاع کیلئے فوجی آپریشن کرنے کاحق ہے۔ دوسری طرف ترکی نے امریکا اوربرطانیہ کو صاف صاف لفظوں میں کہا کہ عفرین میں فوجی آپریشن کی اصل وجہ امریکا کا عفرین کے کرد باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنا اور فوجی ومالی امداد دیناہے،جس سے باغیوں نے ترکی کو فساد سے دوچارکیاہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر امریکا کیوں کرد باغیوں کو سپورٹ کررہاہے؟کیوں عفرین میں کرد باغیوں کیخلاف لانچ کیے گئے ترکی کے فوجی آپریشن پر اعتراض کررہاہے؟۔اس سوال کے جواب کیلئے شام کی صورتحال پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اس وقت شام میں دو بڑے اتحاد برسرپیکار ہیں، جن میں ایک طرف روس اور دوسری طرف امریکا ہے۔ روسی اتحاد میں ایران،ترکی اور چین جیسے ملک شامل ہیں،جبکہ امریکا کے ساتھ فرانس، برطانیہ، سعودی عرب،عرب امارات اور دیگر یورپی وخلیجی ممالک شامل ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ روسی اتحاد کا پلڑا شروع سے بھاری ہے۔شامی خانہ جنگی کے خاتمے اورشام کے پرامن مستقبل کیلئے یہ اتحاداس وقت بہت زیادہ متحرک ہے۔اس کیلئے کئی کانفرنسیں بھی یہ اتحاد کرواچکاہے۔جن میں حال ہی میں روس کے جنوبی شہر سوچی میں ہونیوالی کانفرنس قابل ِذکر ہے۔جس میں روسی اتحاد نے شام میں لڑنے والی تمام تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں کو ایک میز پر بٹھاکر شام کے پرامن مستقبل کیلئے انتخابات لڑنے اور شام کے موجودہ دستور میں تبدیلی کرنے کا مشورہ دیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شام کے پرامن مستقبل ہی سے روسی اتحاد کے مفادات وابستہ ہیں۔جس کی وجہ سے روسی اتحادا س قدر جدوجہد کررہاہے جبکہ دوسری طرف امریکی اتحاد کو اس ساری گیم میں سوائے خسارے کے اب تک کچھ ہاتھ نہیں لگا۔اسلئے امریکا اب فریق مخالف کو دبانے کیلئے مختلف پتے کھیل رہا ہے۔جس میں سے ایک عفرین میں کرد باغیوں کا پتہ ہے،جبکہ دوسرا پتہ جس کا امریکا نے یکم فروری2018کو اعلان کیا کہ شام میں بشارالاسد اور داعش کے پا س کیمیائی ہتھیار ہیں۔ امریکا شام میں موجود ان کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کیلئے مزید فوجی کارروائیاں کر سکتا ہے۔ امریکا کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 7سالہ شامی خانہ جنگی کا مستقل حل نکلنے والا ہے۔اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے ترکی، روس اور ایران کو اپنے مفادات بالائے طاق رکھ کر شامی عوام کی خاطر شام کے پرامن مستقبل کے لیے امریکی اتحاد کو مذاکرات کے ذریعے قائل کرنا چاہیے۔تاکہ جتنا جلدی ممکن ہو شام کو شامی عوام کے حوالے کردیا جائے اور دنیا بھر میں دربدر پھرنے والے شامی مہاجرین واپس اپنے گھروں میں لوٹ سکیں۔

اداریہ