Daily Mashriq


دیر بالا میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی کوشش

دیر بالا میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کی کوشش

جمیل خان روغانی 

جامعہ شہید بے نظیر بھٹو دیربالانے ایسے علاقے میں علم کی شمع کو جلایاجہاں چند سال پہلے تک اعلیٰ تعلیم کا حصول نئی نسل کیلئے خواب ہی تھا۔ ضلع دیر بالا میں بے نظیر بھٹو یونیورسٹی نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے دلی خواہشمند طلباء کیلئے آسانیاں پیدا کیں کیونکہ اس سے پہلے یہاں کے طلباء کو دور دراز کے علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے جانا پڑتا تھا اور اکثر کے پاس وسائل کی کمی کے باعث تعلیمی سلسلے کو مزید جاری رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔

علم کی روشنی پھیلانے والی اس جامعہ کے نگران وائس چانسلر بادشاہ حسین نے مشرق سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ شیرینگل کے یونین کونسل ڈوگ درہ کے ایک رہائشی کی حیثیت سے وہ یہ جانتا ہے کہ تعلیمی لحاظ سے دیربالا جیسے علاقے میں یونیورسٹی کا قیام ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔میں نے بطور نگران وائس چانسلر چارج لیتے ہوئے سب سے پہلے اپنی پوری توجہ اکیڈمیکس پر مرکوز کی جس پر ماضی میں کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ طلبہ کی اہمیت کو پورے سٹاف اور فیکلٹی کے سامنے واضح کیا اور یہی حقیقت میں ہونا بھی چاہئے کیونکہ یونیورسٹی کا بنیادی مقصد ٹیچنگ اور ریسرچ ہی ہے بہت سارے ڈیپارٹمنٹس کو سپیس ایشو کا سامنا تھا جس کو فوری طور پر حل کرتے ہوئے تمام ڈیپارٹمنٹس کو کلاس رومز،لیبز اور دفاتر فراہم کئے۔ واڑئی کیمپس کو دو بسیں فراہم کرنے کیساتھ سا تھ وہاں پر بھی سپیس ایشو کو ختم کرنے کیلئے ایک نئی بلڈنگ کرایہ پر لی جس کی وجہ سے طلباء اور عملہ کو رہائش کی سہولت فراہم ہوئی۔ طلبہ کے انرولمنٹ پر خصوصی توجہ دی ،جس میں سائن بورڈز، اشتہارات کیساتھ ساتھ سٹوڈنٹس ہاسٹلز کی صورت میں رہائشی سہولیات مہیا کئے گئے اور ساتھ ہی دیر، براول، کوہستان، ساونی اور ڈوگدرہ کیلئے ٹرانسپورٹ چلانے کا فیصلہ کیا گیا جس کا باقاعدہ آغاز آئندہ مارچ سے شروع ہو گا ۔۔ بجلی کے فقدان کو مد نظر رکھتے ہوئے ہاسٹلز میں لائٹ کے بندوبست کیلئے سولر سسٹم لگایا گیا جس کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سٹوڈنٹس اور سٹاف کی روزمرہ ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک چھوٹی مارکیٹ قائم کی گئی جس میں یو ٹیلیٹی سٹور سمیت بہت ساری شاپس اور دیگر سہولیات موجود ہیں۔ ان اقدامات کی بدولت بی ایس اور ماسٹر لیول انرولمنٹ میں مجموعی طور پر 220فیصد اضافہ ہوا جو ایک ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ جو کئی عرصے سے میرے ذہن میںتھا کہ یونیورسٹی میں ساری تقرریاں ایک بے قاعدہ طریقے سے عمل میں لائی گئی تھیں جس کی بناء پر بعض ڈیپارٹمنٹس میں سٹاف نہ ہونے کے برابر تھا اور بعض دفاتر میں اوور سٹاف کا مسئلہ تھا۔لہٰذا نیڈ اینالسز کیلئے ریشنلا ئزیشن کمیٹی بنا دی گئی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کی ہے جس کے نتیجے میںمستقبل میں غیر ضروری تقرریوں سے گریز کیا جائے گااور موجودہ سسٹم میں ردوبدل کی جائیگی۔ یہ ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ تھا جس کی وجہ سے یونیورسٹی کی کارکردگی بھی متاثر ہو رہی تھی اور یونیورسٹی کے بجٹ پر بھی غیر ضروری بوجھ پڑا ہوا تھا۔اس کے بعد یونیورسٹی ڈویلپمنٹ کیلئے منظور شدہ ماسٹر پلان کے مطابق1771 ملین کے میگا پراجیکٹ پر، پراجیکٹ ڈائریکٹر کی زیر نگرانی تیزی سے کام شروع کرنے پر توجہ دی ، جس کے نتیجے میں اب تک بوائز ہاسٹل، گرلز ہاسٹل، ہربیریم اینڈایگریکلچر لیب، اوور ہیڈ واٹر ٹینک، مین گیٹ اور یونیورسٹی کے سنٹرل روڈ پر کام شروع کیا جا چکا ہے جبکہ کمیونٹی سنٹر پر کام آئند ہ ماہ سے شروع کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اکیڈیمک بلاک ایڈ منسٹریشن بلاک ، ملٹی پرپز ہال، منی ہائیڈل پاور اور لائبریری پر کام آئندہ چند مہینوں میں شروع کیا جائے گا۔ تعمیراتی کام کا دورانیہ کم سے کم رکھا گیا ہے تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہو سکے۔جس سے یونیورسٹی میں جاری تعلیمی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی کی خوبصورتی بڑھانے کیلئے موسم سرما میںبڑے پیمانے پر شجر کاری کی جا رہی ہے۔یونیورسٹی کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے مختلف پروگرامز پر عمل شروع کیا گیا ہے ۔ سب سے پہلے بجٹ خسارے کو کم کرنے کیلئے چیئرمین ہایئر ایجوکیشن کمیشن سے بات کی جنہوں نے فوری طور پر 50لاکھ کا گرانٹ اینڈ ایڈ دیا اور مزید گرانٹ دینے کا وعدہ کیا۔ سیکورٹی لائٹس جو جنریٹر سے چلائے جا رہے تھے جس کا ماہانہ 2 لاکھ سے اوپر پی او ایل کا بل آتا تھا کو عارضی طور پر سولر سسٹم میں تبدیل کیا گیا جس کیلئے سولر پینلز یونیورسٹی میں پہلے سے موجود تھے۔ اس سے یونیورسٹی کے بجٹ پر بوجھ کم ہوگیا۔ مستقبل کے ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے دیر شرینگل روڈ کی طرف بائونڈری وال کے سائیڈ پر ایک میگا شاپنگ سنٹر کی تعمیر پر بھی کام شروع کیا گیا جو ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس کی تکمیل میں اگرچہ وقت لگے گا لیکن مکمل ہونے کے بعد یہ نہ صرف یونیورسٹی کی آمدن کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہوگا بلکہ سٹوڈنٹس سٹاف اور لوکل کمیونٹی کیلئے شاپنگ کے علاوہ ایک تفریحی مرکز بھی ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ یونیورسٹی کی سیکورٹی میں بھی بہت معاون ثابت ہوگا۔ ایچ یو سی کانفرنس کے دوران بیجنگ فارسٹری یونیورسٹی کیساتھ ایک ایم او یو سائن کیاگیا جس کے تحت ایس بی بی یونیورسٹی میں ایک چائینز لینگوئج سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے ہمارے نوجوانوں کو سی پیک میں روزگار کے مواقع ملیں گے اسکے علاوہ بیجنگ فارسٹری یونیورسٹی ہمارے فیکلٹی اور طلباء کیلئے سکالر شپس بھی فراہم کریں گے۔یہ علاقہ ٹرائوٹ اور لوکل فشریز کیلئے بہت مشہور ہے اسلئے یہاں پر پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے تعاون سے فش ریسرچ پانڈز تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جس کو مزید ڈویلپ کیا جائے گا۔ اس کیساتھ ساتھ کمراٹ میں ٹرائوٹ مچھلی فارم کیلئے ڈھائی کنال زمین فری آف کاسٹ حاصل کر لی گئی ہے جس کیلئے ایم پی اے محمد علی فنڈز دے رہے ہیں۔ تکمیل کے بعد یہ ریسرچ کے علاوہ یونیورسٹی کی آمدن کا بھی ایک آسان ذریعہ ہوگا۔

یونیورسٹی کے انٹرنل روڈز کیلئے سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان اور ایم پی اے محمد علی نے مجموعی طور پر25 ملین خرچ کرنے، یونیورسٹی کیلئے مزید 500 کنال زمین کی فراہمی کیلئے فنڈز دینے اور صوبائی سپورٹس ڈیپارٹمنٹ سے یونیورسٹی میں جیمنیزیم بنانے کیلئے خطیر رقم دینے کے اعلانات کئے ہیں جس پر جلد کام شروع کرنے کی توقع ہے۔ سولرسٹریٹ لایٹس کیلئے ایم پی اے محمد علی نے دو کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے جس پر اگلے مہینے کام شروع ہو جائے گا۔ اس پراجیکٹ کے تکمیل سے یونیورسٹی کے حسن میں بے پناہ اضافے کیساتھ ساتھ سیکورٹی میں آسانی پیدا ہوگی مزید یہ کہ یو نیورسٹی کے بجٹ پر بوجھ کم کرنے کیلئے یونیورسٹی کی 9000رننگ فٹ دیوار پر واپڈا کے بجائے سولر سسٹم لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں