Daily Mashriq


ڈارک ویب اور ہمارا معاشرہ

ڈارک ویب اور ہمارا معاشرہ

ممکن ہے یہ موضوع قارئین کو معیوب معلوم ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے ہم اس خطرے کو نہیں ٹا ل سکتے ۔پورنو گرافی عصر حاضر کا ایک بڑا ناسور ہے جو ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے ساتھ لاکھوں بااثر افراد کے مفادات وابستہ ہیں۔ پورن ویڈیوز کی کئی اقسام ہیں لیکن ان میں سب سے گھٹیا اور خطرناک کاروبار"وائلنٹ چائلڈ پورن " ہے جس پر دنیا کے تمام ممالک میں پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس صنعت میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا جارہا ہے۔انٹرنیٹ واچ فائونڈیشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2003ء میں دنیا میں پورنوگرافی کا 20 فیصد صرف چائلڈ پورنوگرافی پر مشتمل تھا اور اس انڈسٹری کا بزنس 3 بلین ڈالرز تھا جس میں گزشتہ سال تک 233فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔اس انڈسٹری کے زیادہ تر گاہک "پیڈو فیلیک" ہیں جو ایک نفسیاتی عارضہ ہے جس میں مبتلا شخص بچوں میں جنسی کشش محسوس کرتا ہے۔بچوں کی جنسی زیادتی کے واقعات زیادہ تر کم سن لڑکیوں کے ساتھ پیش آتے ہیںچنانچہ اعداد و شمار کے مطابق 81 فیصد واقعات بچیوں کے ساتھ اور 19 فیصد واقعات بچوں کے ساتھ پیش آتے ہیں جبکہ ان میں سے تقریباً 91 فیصد بچیاں 12 سال یااس سے کم عمر ہوتی ہیں۔

چائلڈ پورنو گرافی کا سب سے بڑا سکینڈل 3مئی1994 کو ’’فرینکلن کور اپ‘‘ڈاکومنٹری میں سامنے لایا گیا جس میں امریکی سیاستدانوں سمیت کئی با اثر شخصیات کے چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث ہونے کے ثبوت دیے گئے۔ایک اور کیس کے مطابق تیرہ ممالک کی ایجنسیاں تین سال تک ڈارک ویبز کی نگرانی کرتی رہیں اور نیدر لینڈکے ہیکر کی مدد سے چائلڈ پورن کا ایک نیٹ ورک گرفتار کرتے ہوئے 230بچے بازیاب کرائے جن کی عمریں سات سے چودہ سال تک تھیں۔اس نیٹ ورک میں کئی با اثر شخصیات کے ملوث ہونے کے شواہد ملے اوربرطانیہ کے سابق وزیر اعظم ایڈورڈ ہیتھ پر بچوں کے ساتھ زیادتی کے 42 الزامات عائد کیے گئے ۔2015ء میں پورنوگرافی کیس میں امریکی بشپ رابرٹ فن کا استعفیٰ دینا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نیٹ ورک میں سیاستدان،ڈاکٹرز، پروفیسرز اور مذہبی راہنمائوں سمیت کئی با اثر شخصیات شامل ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جب دنیا بھر میں چائلڈ پورنو گرافی قانوناً جرم ہے تو یہ مکروہ دھندا کس طرح چلایا جارہا ہے؟اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں انٹرنیٹ سے متعلق چند تکنیکی باتوں کو سمجھنا ہوگا۔انٹرنیٹ ایک وسیع سمندر ہے جس میں عام لوگوں کی رسائی صرف سرفیس ویب سائٹس تک محدود ہے جس میں گوگل ، یوٹیوب، فیس بک وغیرہ سمیت لاکھوں ویب سائٹس ہیں جو مختلف خدمات سر انجام دیتی ہیں۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ ویب سائٹس کل انٹرنیٹ کا محض دوفیصد ہیں جبکہ اٹھانوے فیصد ویب سائٹس عام لوگوں سے پوشیدہ ہیں جنہیں ڈارک یا ڈیپ ویب سائٹس کہا جاتا ہے۔انٹرنیٹ کے اس تاریک حصے میں جرائم کی سرگرمیوں کی نوعیت غیر قانونی ڈیٹا ڈائون لوڈ کرنے سے لے کر ہتھیاروں کی خرید و فروخت اور دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ سازی تک پھیلی ہوئی ہے۔ڈارک نیٹ تک رسائی صرف عام صارفین کے لیے ہی مشکل نہیں بلکہ حکومتوں اور انٹرنیٹ کمپنیوں کے لیے بھی اس تک رسائی اور اس کا کھوج لگانا ایک مشکل کام ہے کیوں کہ اس کے لیے ایک خاص سافٹ ویئر استعمال ہوتا ہے جو یوزر کی لوکیشن کو لمحہ بہ لمحہ بدلتا رہتا ہے۔یہاں صارفین اور کاروبار سب کچھ عددی ہندسوں کی شکل میں ہوتا ہے اور کسی نام کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ اگر اس میں موجود ڈیٹا کا تخمینہ لگایا جائے تو تقریباً سات اعشاریہ نو زیٹا بائٹ(7.9Zeta Byte)ڈیٹا ڈارک ویب میں موجود ہے۔ بین الاقوامی جریدوں کے 2007ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس نیٹ ورک سے وابستہ لوگوں کی تعداد چار اعشاریہ پانچ ملین ہے جن کے اربوں ڈالرز کے مفادات اس دھندے سے وابستہ ہیں۔جنوری 2007ء سے دسمبر 2017ء تک اس کاروبار کے صارفین اور ناظرین کی تعداد میں خطرناک حد تک پانچ سو گنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

ڈارک ویب کا سب سے اہم جزو پیڈوفیلیا یا وائلنٹ پورن انڈسٹری ہے جس میں چار بلین سے زائد پیجز ہیں اور مختلف کٹیگریز کی فحش ویڈیوز دستیاب ہوتی ہیں۔ ان ویب سائٹس پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو لائیو دکھایا جاتا ہے اور بعض اوقات ڈارک ویب سائٹ میں ایک ہدایت کار باقاعدہ براہ راست ہدایات بھی دیتا ہے کہ کس طرح بچے یا بچی کو ہوس کا نشانہ بنانا ہے۔ اس مکروہ دھندے میںکئی بڑے بڑے ستارے، سیاستدان اور افسران تک شامل ہوتے ہیں جو اپنی درندگی کی تسکین کے لیے کثیر رقم خرچ کرتے ہیں۔اس کے لیے عموماً کرپٹو کرنسی استعمال کی جاتی ہے یا یہ رقم خفیہ طریقہ سے انجینئر ڈ اکائونٹس میں اس طرح ٹرانسفر کی جاتی ہے کہ حکومتی اداروں کو اس کی بھنک تک نہیں لگتی۔ تیسری دنیا کے ممالک کے بچے اور بچیاں ڈارک ویب پر بیچے جانے والے مواد کا آسان ترین ہدف ہیں۔ اس ضمن میں 2009 میں ممبئی کی رادھا نامی چھ سالہ لڑکی کے قتل کا حوالہ دینا ضروری ہے جسے جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد تشدد کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔پولیس نے اس کے قاتل کو نفسیاتی مریض قرار دے کر فائل بند کر دی لیکن دو سال بعد ایک انڈین ہیکر نے ڈارک ویب پر کچھ جنسی ویب سائٹس کو ہیک کیا تو وہا ں سے اسے رادھا کی ویڈیو ملی جس پر لائیو براڈ کاسٹنگ کا ٹیگ لگا ہوا تھا۔پاکستان میں بھی حالیہ عرصہ میں ہونے والے درندگی کے واقعات اس سے ملتی جلتی نوعیت کے ہیں۔انٹرنیٹ پر چائلڈ پورنوگرافی کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں کارروائیاں جاری ہیں گو کہ اب مائیکرو سوفٹ اور فیس بک نے مشترکہ طور پر اس گھنائونے کاروبار کے خلاف منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر بچوں کی عریاں فلموں کی ترسیل اور فراہمی روکنے کے حوالے سے کوششیں جاری ہیں جو تا حال وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر سکیں جس کی توقع کی جا رہی تھی۔سمارٹ فونز کے آنے کے بعد پورن انڈسٹری پاکٹ انڈسٹری بن گئی ہے۔حکومت کو پورنوگرافی کی ترسیل کو روکنے کے لیے نئے قوانین اور ذرائع کے استعمال کی اشد ضرورت ہے۔ہمیں ان حالات و واقعات کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے جو انسان کو اس گھنائونے فعل کی طرف مائل کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لیے نفسیاتی بحالی کے مراکز قائم کیے جائیں او ر میڈیا اس معاملہ میں مثبت کردار ادا کرے تاکہ معاشرے سے اس مکرہ دھندے کا قلع قمع کیا جاسکے۔

متعلقہ خبریں