Daily Mashriq

احتسابی عمل پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم

احتسابی عمل پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عزم

وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں منعقد ہونے والے حکمران جماعت کی اعلیٰ قیادت کے مشاورتی اجلاس میں ایک بار پھر واضح کیاگیا کہ کسی کو این آر او ملے گا ڈیل ہوگی نہ ڈھیل دی جائے گی۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے بائیس سال کی جدوجہد کے نتیجے میں عوام نے اعتماد کااظہار کیاہے‘ تحریک انصاف کی حکومت عوام کے اعتماد پر پورا اترے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اجلاس کے حوالے سے دی گئی بریفنگ میں کہا احتساب کے حوالے سے حکومت قطعی غیر جانبدار ہے۔ ہماری حکومت اداروں کے ساتھ کھڑی ہے وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ عوام میں یہ احساس اجاگر ہو کہ احتساب بلاا متیاز ہو رہا ہے حکومت کسی معاملے میں مداخلت پر یقین نہیں رکھتی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ غیر جانبدار اور شفاف احتساب سے ہی احتساب کے عمل پر عوام کا اعتماد بحال ہوسکتاہے۔ یہ تاثر ختم ہونا چاہئے کہ نیب کے اقدامات جانبدارانہ ہیں۔ نیب کے بعض اقدامات پر اگر انگلیاں اور سوال اٹھ رہے ہیں تو اس کی وجہ اس ادارے کا ماضی میں سیاسی استعمال ہے۔ ثانیاً یہ کہ نیب قوانین پر تحفظات کا مقصد قوانین کے خاتمے کا مطالبہ نہیں بلکہ آمریت کے دور میں ہوئی وہ قانون سازی ہے جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ نیب صرف سیاستدانوں کے خلاف متحرک رہتا ہے گو عملی طور پر صورتحال اس تاثر سے مختلف ہے پھر بھی اگر نیب قوانین کو پارلیمان میں زیر بحث لا کر احتساب کے عمل کادائرہ وسیع کرنے کے ساتھ ادارہ جاتی احتساب کے معاملات کو بھی نیب کے دائرہ کار میں لے آیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ ثانیا یہ کہ نیب کے بعض قوانین بنیادی شہری حقوق سے متصادم ہیں پارلیمان کو ان پر نہ صرف غور کرنا چاہئے بلکہ مناسب ترامیم کے ساتھ اس امر کو یقینی بنانا چاہئے کہ نیب کی تحویل میں موجود کسی شخص کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔ یہاں اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا از بس ضروری ہے کہ احتساب کی ذمہ داریاں رکھنے والے اس ادارے کے جن ذمہ داران کے خلاف مختلف الزامات کے حوالے سے تحقیقات ہو رہی ہیں انہیں مناسب فورم پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے تک تفتیش کے عمل سے باہر رکھا جائے تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ سنگین الزامات کی زد میں آئے افسران کا تحقیقاتی ٹیموں کا حصہ بننے سے ادارے اور احتساب کے عمل کی ساکھ متاثر ہوگی۔ ملک میں کرپشن ہوئی اور کسی نہ کسی انداز میں یہ اب بھی جاری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کبھی کرپشن ہوئی نہیں یا اب اس بارے سوچتے ہوئے بھی لوگ لرز اٹھتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کرپشن صرف ترقیاتی منصوبوں میں ہوئی یا پھر جہاں جس کا دائو لگا اس نے کرپشن کی گنگا میں ہاتھ دھوئے؟ بد قسمتی سے اس سوال کاجواب فقط یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیاست دان چور ڈاکو اور لٹیرے ہیں ان کے علاوہ دیگر شعبوں میں فرشتے خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت میںا یسا ہے نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنا پر یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ اگر دوسرے شعبوں اور اداروں میں ہونے والی کرپشن کے معاملات عوام کے سامنے لائے جائیں تو وہ یہ جان پائیں گے کہ کم یا زیادہ کرپشن کا مرض تقریباً ہر شعبہ میں موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ چند فیصد سیاستدانوں کی کرپشن کے معاملے کو جواز بنا کر جمہوری عمل کو بوجھ اور کرپشن کا محافظ قرار دینے والوں کے دیگر شعبوں میں ہونے والی کرپشن پر بات کرتے ہوئے زبانیں تالو سے چپک جاتی ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جمہوریت کا کوئی متبادل نظام کرپشن کے خاتمے کی نوید بن سکتا ہے۔ ہماری دانست میں یہ تاثر درست ہے نا ہی یہ کہنا کہ چونکہ سیاست دان کرپٹ ہیں اس لئے متبادل نظام پر غور کیا جانا چاہئے۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہئے کہ احتسابی قوانین پر بلا امتیاز عمل ہو۔ نیب کادائرہ اور وسیع کیا جائے ‘ کسی بھی شعبہ یا ادارے میں 30لاکھ سے زیادہ کی کرپشن کامعاملہ نیب کو بھجوانا لازمی قرار دیا جائے۔ یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ کرپشن کے خاتمے سے ہی تعمیر و ترقی کے اہداف کا حصول ممکن ہے مگر اس سوال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ کیا کرپشن واحد مسئلہ ہے اور سارے مسائل اس سے جنم لیتے ہیں؟ حقیقت حال یہ ہے کہ کرپشن مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے مسائل اس کے سوا بھی ہیں حکومت اور حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوسرے مسائل کے حل پر بھی توجہ دے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ قانون سے کوئی بھی بالا تر نہ ہو۔یہ بھی بجا ہے کہ گزشتہ روز پنجاب کے ایک سینئر وزیر کی گرفتاری سے نیب کی ساکھ بہتر ہوئی ہے لیکن تحریک انصاف کو بھی ٹھنڈے دل سے یہ سمجھنا ہوگا کہ جناب علیم خان یا وہ دوسری شخصیات جن کے خلاف نیب میں تحقیقات ہو رہی ہیں انہیں اگر حکومتی منصبوں سے دور رکھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔کرپشن کے خلاف 22سال تک جدوجہد کرنے والی جماعت کے دور حکومت میں مختلف نوعیت کے الزامات کی زد میں آئی شخصیات کا حکومتی منصوبوں پر فائز ہونا کسی بھی طور درست نہیں تھا۔ یہ عرض کرنا غلط نہ ہوگا کہ عوام بلا امتیاز احتساب چاہتے ہیںاور یہ بھی کہ کسی ایک شعبہ کو ہی ٹارگٹ نہ کیاجائے اور نہ چند درجن سیاسدانوں کی کرپشن کاملبہ جمہوری نظام پر ڈالا جائے کیونکہ اگر فرد یا متعدد افراد کے معاملات کا ذمہ دار متعلقہ شعبہ قرار دیا جائے اور پھر اس اصول کا دائرہ وسیع ہو تو ایسے تماشے دیکھنے کو ملیں گے جن سے جنم لینے والے مسائل کا حل تلاش کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ وہ سیاستدان ہوں یا کوئی دوسرا طاقتور شخص کرپشن میں ملوث ہے ان کے خلاف کارروائی میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب جناب وزیر اعظم اپنی جماعت کے ان دوسرے رہنمائوں کو بھی حکومتی منصوبوں سے الگ کردیں جن کے خلاف نیب میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں