Daily Mashriq


نویں قومی مالیاتی کمیشن کااجلاس

نویں قومی مالیاتی کمیشن کااجلاس

نویں این ایف سی کے لئے منعقدہ اولین اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان وفاق کی جانب سے پیش کیئے جانے والے محاصل کی تقسیم کے فارمولے پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں ۔وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں منعقد ہونے والے 9ویں مالیاتی ایوارڈ کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں سندھ کے وزیراعلیٰ نے سندھ کو104ارب روپے کم دینے پر شدید احتجاج کیا ۔اطلاعات کے مطابق صوبائی حکومتوں نے ایف بی آر پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے ۔ سیلز ٹیکس کی وصولی کا اختیار مانگ لیا جبکہ فاٹا کے لیے 3فیصد حصہ صوبوں کے حصے میں مہیا کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے فاٹا کو وفاق کی ذمہ داری قرار دیا ۔ قومی مالیاتی کمیشن کے پہلے اجلاس میں صوبوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ چھٹی مردم شماری کی روشنی میں فنڈز کی تقسیم کی جائے صوبہ اور یہ کہ نیاایوارڈ18ویں ترمیم کا عکاس ہونا چاہیئے۔ وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ وفاق صوبوں کے حقوق کا مکمل احترام کرتا ہے مالیاتی کمیشن میں تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیئے جائیں گے۔ اجلاس میں پن بجلی کا منافع نہ ملنے سے خیبر پختونخوا کو درپیش مسائل پر بھی توجہ دلائی گئی۔امر واقعہ یہ ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن میں معاملات کو باہمی اتفاق رائے سے طے کرنے کی ضرورت ہے صوبوں کی شکایت پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جانا ضروی ہے پچھلے دو مالی سالوں کے دوران سندھ اور بلوچستان کے مالیاتی حصے میں جو کٹوتیاں ہوئیں ان کی وضاحت کے ساتھ رقوم کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ثانیاً یہ امر خوش آئند ہے کہ وفاق نے آئی ایم ایف سے نئے قرض پروگرام کیلئے ٹیکسوں کی وصولی اور اخراجات کی مینجمنٹ میں شامل کرنے کے لیے صوبوں کا مطالبہ مان لیا ہے۔18ویں ترمیم کے بعدوفاق پر لازم ہے کہ وہ مالیاتی امور سمیت دیگر معاملات میں فیڈریشن کی اکائیوں کے اعتماد کے ساتھ عملی اقدامات کرے اور صوبوں کا بھی فرض ہے کہ وہ مالیاتی ایوارڈ پر سیاست کرنے کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں تاکہ ان اہداف کا حصول ممکن ہو سکے جن کے حصوں کے بغیر لوگوں کی زندگی میں بہتری لانا ممکن نہیں ہوگا ۔

گیس بلوں میں ناقابل برداشت اضافہ

وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی نے ماہ دسمبر کے سوئی گیس کے اضافی بلوں کی تحقیقات آزادوخودمختار آڈیٹرز سے کروانے کا فیصلہ کیا ہے وزیر خزانہ کہتے ہیں گیس صارفین کی مشکلات کا احساس ہے۔ دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات نے گزشتہ روز کہا ہے کہ حکومت نے 240اور280روپے تک ماہانہ گیس بل والے صارفین کے لئے 10فیصداضافہ کیا جبکہ اس سے اوپر 147فیصد اضافہ ۔ اب سوال یہ ہے کہ 147فی صد اضافہ کرنے کا فیصلہ اگر وفاقی کابینہ نے کیا تھا تو اب دسمبر کے بلوں کا آزاد آڈیٹرز سے آڈ ٹ کروانے کا لولی پاپ کیوں دیا جارہا ہے۔ عجیب بات ہے کہ پچھلے سال نومبر و دسمبر میں 8سو سے 1000روپے تک جن صارفین کو گیس کے بلز موصول ہوئے اس بار نومبر کا بل7000روپے اور دسمبر کا گیس بل18سے 37ہزار روپے تک تھا جبکہ پچھلے سال ان مہینوں میں دوہزار روپے بل موصول کرنے والوں کو امسال42سے 50ہزار روپے کے بل موصول ہوئے ہیں۔تین سے پانچ مرلہ کے کرایہ کے مکان میں مقیم صارف کا سوئی گیس کا بل اس کی کل ماہوار آمدن سے سو فیصد زیادہ ہے۔ سوئی گیس کے دفاتر شکایات میں صارفین کے لیے ایک ہی جواب ہے بل تو جمع کروانا پڑے گا پھر دیکھتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے۔ ستم بالائے ستم ایک وفاقی وزیر فرماتے ہیں گیزر عیاشی ہے ہم تو لکڑیوں پر پانی گرم کر کے نہالیتے تھے۔توانائی کے وفاقی وزیر نصف صد ی پیچھے کی بات کرتے وقت آج کے حالات اور ضرورتوں کے ساتھ غالباً اس امر سے بھی واقف نہیں کہ لکڑی کی فی من قیمت کیا ہے ۔ بہرطور گیس بلوں سے پیدا شدہ صورتحال اور مسائل کے حل کے لیے کسی تاخیر کے بغیر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور اس امر کو بھی یقینی بنانے کی کہ ماہ جنوری کے گیس بل دودھاری تلوار کی طرح صارفین پر نہ برسیں بلکہ حکومت اپنے شہریوں کی قوت خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ریلیف دے۔

متعلقہ خبریں