Daily Mashriq

نیب اور تبصرے

نیب اور تبصرے

احتساب کے قومی بیورو(نیب) کے ہاتھوں پنجاب کے سینئر وزیر اور تحریک انصاف کے اہم سیاسی رہنما عبدالعلیم خان کی گرفتاری کی خبر ہے ہی ایسی کہ اس نے اخبارات میں شہ سرخیوں میں جگہ پائی اور ٹی وی ٹاک شوز کا موضوع بن گئی۔ ایک سیاسی طور پر مضبوط حاضر سروس وزیر کی گرفتاری پہلے کبھی سنی نہ دیکھی۔عبدالعلیم خان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے جس میں لکھا ہے کہ گرفتاری کے بعد انکا منصب پرفائز رہنا اخلاقی طور پر مناسب نہیں۔ احتساب بیورو کے حوصلے کو داد دینی چاہیے۔ اس خبر پر مختلف تبصرے آنے شروع ہو گئے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ اس گرفتاری سے حکمران پی ٹی آئی کے حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔ لیکن حکومت کے ترجمان وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ عبدالعلیم خان نے استعفیٰ دے کر ایک شاندار روایت قائم کی ہے ‘ اپوزیشن لیڈر بھی اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کریں۔ عبدالعلیم خان پر آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کا الزام ہے جو اور بھی بہت سے لوگوں پر ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ اس کی وجہ پی ٹی آئی پنجاب کی اندرونی سیاست میں دیکھنی چاہیے جہاں عبدالعلیم خان کے سیاسی منظر سے ہٹ جانے کے بعد گورنر چودھری سرور کا گروپ مضبوط ہو گیا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ عبدالعلیم خان کی گرفتاری سے وزیر اعلیٰ بزدار اپنے مشیرِ خاص سے محروم ہو گئے ہیں۔ لیکن ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ جن سے تاثر ابھرتا ہو کہ پنجاب اسمبلی میں حکمران پارٹی گروپ بندی کا شکار ہے اور نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ ایک گروپ کے سربراہ کو ہٹانے کے لیے نیب کو ’’استعمال‘‘ کیا جائے۔ اور پھر نیب ایک آزاد اور مضبوط وفاقی ادارہ ہے ‘ اسے پنجاب کی سیاست میں ’’استعمال‘‘ ہونے سے کیا سروکار۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ عبدا لعلیم خان کچھ عرصے بعد سرخرو ہو کر واپس آئیں گے اور اس کے بعد اپنے مخالف گروپ پر حاوی ہو جائیں گے۔ اس تبصرے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ گرفتاری عبدالعلیم خان کی مرضی سے کسی سکیم کے تحت ہوئی ہے۔ لیکن وفاق میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت بیٹھی ہے(نیب یا اس کے قوانین کے بارے میں اگر کچھ ہوتا ہے تو وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہوگا) وزیر اعظم جو بار بار کہتے ہیں کہ کسی کو این آر او نہیں دیاجائے گا۔ احتساب پر کسی سے سمجھوتا نہیںکیا جائے گا۔ عبدالعلیم خان کی گرفتاری کے بعد بھی وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں ایک بار پھر این آر او کے امکان کو مسترد کیا گیا۔ بعض سیاسی عناصر عبدالعلیم خان کی گرفتاری کو غلط اقدام قرار دے رہے ہیں۔ ان میں مسلم لیگ ن کے رانا ثناء اللہ بھی شامل ہیں جن کے قائدین پر نیب کے مقدمات چل رہے ہیں۔ اگر ان کی بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ عبدالعلیم خان کی نیب کے ہاتھوں معلوم آمدنی سے زیادہ کے اثاثے رکھنے کے الزام میں گرفتاری ناجائز ہے تو پھر ن لیگ کے قائدین پر بھی نیب کے مقدمات ناجائز ٹھہرتے ہیں۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی کرپشن کے الزامات کے تحت گرفتاری کی حمایت نہیں کی جا رہی۔ بلکہ نیب قوانین ہی کو ناقص قرار دیا جا رہا ہے جب کہ پیپلز پارٹی کے قائدین کے حوالے سے بھی نیب کی تحقیقات جاری ہے۔ بعض مبصرین کہہ رہے ہیں کہ نیب تو قائم ہی ایک ڈکٹیٹر نے کیا تھا اور اس کا مقصد ہی سیاسی قیادت کو زیر کرنا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ نیب کا ادارہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے قائم کیا تھا۔ اس کے قوانین سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے قیام کا ایک مقصد کرپٹ لوگوں سے لوٹا ہوا مال واپس لینا تھا۔ اس میں پلی بارگین کی گنجائش اسی مقصد کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔ پلی بارگین کا مطلب ہے کہ اگر ملزم اس ناجائز دولت میں سے جس کے بارے میں الزام ہے کہ ملزم نے کرپشن کے ذریعے حاصل کی ہے ‘ کچھ سرکاری خزانے میں جمع کروا دے تو وہ باعزت بری ہو سکتا ہے۔ پلی بارگین کی شقیں ختم کر دی جائیں تو احتساب بیورو ایک بلند مرتبہ ادارہ ہو گا۔ لیکن سیاسی عناصر کی طرف سے اس ادارے پر بنیادی اعتراض پلی بارگین کا نہیں آتا۔ جہاں تک اس ادارے کے ڈکٹیٹر کی دین ہونے کا سوال ہے جنرل مشرف کا دور صدارت قصہ پارینہ ہو چکا ہے ۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دونوں کی پانچ پانچ سال حکومت رہی۔ اگر نیب کے قوانین میںکوئی اسقام تھے تو وہ ان ادوار میں دور کیے جا سکتے تھے جب کہ دونوں بڑی جماعتوںکا نیب کے قوانین کے بہت سے اسقام کے بارے میں اتفاقِ رائے بھی ہے۔یا اس ادارے کو ختم کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں کیاگیا۔ ان دونوں جماعتوں کے ذمے عوام کی جانب سے یہ سوال قرض ہے۔ پچھلے دنوں جب بعض سیاسی عناصر کے خلاف نیب کی کارروائی شروع ہوئی تو ان دونوں جماعتوں کی طرف سے باری باری یہ کہا گیا کہ ہم احتساب کے حامی ہیں لیکن احتساب سب کا ہونا چاہیے۔ اس سے نیب کے بارے میں یہ تاثر ابھرتا ہے کہ نیب جانبداری سے کام لے رہا ہے‘ کسی کا احتساب کرتا ہے اور کسی کا نہیںکرتا۔ لیکن نیب کے سامنے شکایت لے جانے کا دروازہ تو بند نہیں ہے ۔ جو سمجھے کہ فلاں کا احتساب نہیں ہو رہا وہ شکایت دائر کر سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے سابقہ دس سالہ ادوار میں نیب کا ادارہ فعال نہیں رہا۔ شکایات تو درج ہوتی رہیں لیکن ان پر کارروائی نہ ہوئی۔ نیب کے چیئرمین چودھری قمرالزمان تھے جو قانون کے مطابق حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے قائدین کے باہمی مشورے کے نتیجے میں فائز تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ کل پی ٹی آئی والے بھی احتساب کی زد میں آ سکتے ہیں ۔ عبدالعلیم خان کی مثال سامنے ہے۔ یہ مثال قابلِ قدر ہے۔ احتساب ملک کے عوام کی آواز ہے۔ مشہور اور غیر معروف پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثے اور جائیدادیں اور اربوں روپے کے بے نامی بینک اکاؤنٹ ایک حقیقت ہیں۔ اس حوالے سے احتساب عوام کی آواز ہے اور صحت مند جمہوریت کا تقاضا ہے۔

متعلقہ خبریں