Daily Mashriq


آگے آگے دیکھئے ہو تا ہے کیا

آگے آگے دیکھئے ہو تا ہے کیا

یوں تو خبر ،خبر ہی ہو تی ہے جیسا کہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے لیے ڈگری ڈگری ہوتی ہے چاہے وہ اصلی ہو یا نقلی ، مگر خبر کے معاملے میں اصل کو ہی دخل ہے ، کیو ں کہ خبر وہی ہو تی ہے جو اصل ہو ورنہ وہ فتنہ ہی ہے ، چنا نچہ گزشتہ بدھ کے روز کئی اہم ترین خبریں رہیں، ان میں سے اہل پا کستان کے لیے تین خبریں افغانستان کے بارے میںما سکو میں منعقدہ افغان کانفرنس کا اعلامیہ ، پنجا ب کے وزیر علیم خان کی گرفتاری اور نو از شریف کا اسپتال سے جیل منتقل ہو نے پر اصرار ، عمو ماً ًپاکستان میں تاریخ کا تجر بہ یہ کہتا ہے کہ سیا سی لیڈر جیل جا نے سے گھبراتے ہیں اور جیل میںڈالنے والو ںسے ڈھیل یا ڈیل کر لیتے ہیں۔ ماضی میں اس کی کئی مثالیں ہیں مگر سو فی صد ایسا نہیں ہے ، پاکستان کے سیا ست دانوں نے صبر کے ساتھ جبر کی قید بھی جھیلی ہے ، اس معاملے میں آصف زردای کی مثال موجو د ہے جنہو ں نے تقریبا ًسات سا ل کا ل کوٹھڑی میں گزار دئیے ، تاہم ایک مسلم لیگی رہنما ء خان عبدالقیوم خان بھی گزرے ہیںجو خود کو شیر سرحد کہلا تے تھے مگر انہو ں نے صدرایو ب خان کی جیل کے خوف سے معافی مانگ لی جس پر انقلا بی شاعر حبیب جا لب نے ان پر ایک منظوم نظم بھی کہی تھی ۔ نواز شریف کو جب سعودی عرب بد ر کیا گیا تو ان کو بھی خان عبدالقیوم خان کے کر دار سے تشبیہ دی گئی تھی مگر نواز شریف نے کوئی براہ راست ڈیل نہیں کی تھی ۔ اس مر تبہ تو نو از شریف نے کمال ہی کر دکھا یا کہ وہ اپنی شریک حیا ت کو بستر مر گ پر آخری سانسیں لیتے چھو ڑ کر پاکستان آئے اور گرفتاری دی۔ایسی مثال کسی سیاست دان کے کر دار سے مبرا ہی ہے ۔نو از شریف جیل کیو ں جا نا چاہتے ہیں ، یہ بات تو وہ خود بتا سکتے ہیں مگر تحریک انصاف کے جیالے لیڈر اور ان کے حواری بار با ر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ڈھیل اور ڈیل کی نو از شریف کی طر ف سے مساعی ہو رہی ہے جبکہ مسلم لیگ کے رہنما اس کی تردید کر رہے ہیں۔ ما ضی میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ سیاست دان جیل جا تے ہی بیما ر پڑ جاتے اور اسپتال منتقل ہو جا تے ۔ تاکہ عقوبت خانے کی صعوبتو ں سے نجا ت رہے ، مگر نو از شریف کا اصرار کچھ الگ سے انداز کا ہے ، اگر چہ ان کے مخالفین نے ما ضی جیسا ہی تاثر دینے کی سعی کی ہے ۔تاہم مر یم نواز اوردوسرے مسلم لیگی لیڈروںکی جانب سے ڈیل اور ڈھیل کی بار بار تردید ہورہی ہے جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ کوئی ڈھیل اور ڈیل کی کاوش نہیں ہے ، کیوںکہ مسلم لیگ اس نقطے پر ہے کہ نو از شیریف کی سیا ست کا عروج اس امر میںہے کہ وہ کوئی ڈھیل یا ڈیل نہ کر یں جبکہ ارباب حل وعقد اس کا وش میں ہیں کہ بیما ری کے بہا نے اگر کوئی ڈھیل یا ڈیل کی با ت ہو جا تی ہے تو یہ مسلم لیگ ن خاص طورپر نو از شریف خاند ان کے لیے سیا سی خود کشی کا موجب ہو گی ۔اس ڈھیل اور ڈیل کے چکر کے بارے میں جو آگاہی ہو ئی وہ یہ ہے کہ نو از شریف سیا ست میں بقا ء چاہتے ہیں اور پامر د رہنا چاہتے ہیں چنا نچہ ان کے ڈاکٹروں کے مطابق ان کو اس وقت جو بیما ری لگی ہوئی ہے اس کے بارے میں مختصراًاورغیر طبی زبان میںیہ کہا جا تا ہے کہ ان کے دل کی بائیں جا نب کی شریانو ں میں سوزش پید ا ہو گئی ہے جس سے خون کی روانی میں رکا وٹ آگئی ہے اور جسم کوپوری طرح خون آکسیجن فراہم نہیں کر رہا ہے۔ نو از شریف اور ان کے خاندان کا موقف ہے کہ اس بیما ری کا علا ج پا کستان میں ممکن ہے اس لیے نوازشریف کا ملک سے باہر جا کر علا ج کرنا ضروری نہیں ہے ، نو از شریف اسی بنیا د پر کہہ رہے ہیں کہ ان کے لیے اسپتال میں بھی رہنے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے ان کو اسپتا ل سے جیل منتقل کر دیا جا ئے اور ڈاکڑنسخہ تجو یز کر دیں ۔جب کی ڈیل اور ڈھیل کی بات کرنے والے چاہتے ہیں کہ نو از شریف بیرون ملک علا ج کو ترجیح دیں تاکہ سیاسی نمبر اسکو رنگ ہو سکے ۔ دوسری اہم خبر تحریک انصاف کے لیڈر اور سنیئر صوبائی وزیر علیم خان کی پانا مہ کے چکر میں گرفتاری ہے ، علیم خان کی گرفتاری کے حوالے سے نیب نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ سینئر صوبائی وزیر کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ملزم نے پارک ویو کوآپریٹنگ ہائوسنگ سوسائٹی کے سیکریٹری اور رکن صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ اور اس کی بدولت پاکستان اور بیرون ملک آمدنی سے زیادہ اثاثے بنائے۔ علیم خان کی گرفتاری پر ملا جلا سا ردعمل آیا ہے ۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ جو یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ کرپٹ ، چور صرف مسلم لیگ ن اورپی پی میں ہیں علیم خان کی گرفتاری سے ثابت ہو گیا ہے کہ چور تحریک انصاف میں بھی مو جو دہیں ۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے تحریک انصاف کے رہنما اور سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی گرفتاری کے بعد حکمران جماعت کے بعض دیگر رہنمائوں پر بھی خطرے کی تلوار لٹک گئی ہے۔ ان میں پرویز خٹک اور عاطف خان شامل ہیں۔اگر نیب غیر جا نبداری کا مظاہر ہ کررہی ہے تو پھر تو پرویز الٰہی بھی خطر ے کی زد میں کھڑے نظر آرہے ہیں ۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے انتہائی قریبی ساتھی علیم خان کی اچانک گرفتاری کے مختلف پس پردہ محرکات بیان کئے جارہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ علیم خان کی گرفتاری کا مقصد احتساب کو غیر جانبدار ثابت کرنا اور نون لیگی رہنمائوں کی گرفتاریوں کو بیلنس کرنا ہے۔ جبکہ اس گرفتاری سے مزید بڑی گرفتاریوں کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں