Daily Mashriq


گوادر بمقابلہ چاہ بہار بندر گاہ

گوادر بمقابلہ چاہ بہار بندر گاہ

اس وقت پاکستان چین کی مدد سے گوادربندر گاہ بنا رہا ہے جبکہ اسکے بر عکس ایران بھارت کی مدد سے چاہ بہاربندر بندر گاہ بنا رہا ہے۔اگر دیکھا جائے تو ایران میں جو چاہ بہار بندر گاہ دراصل پاکستان کے گوادر بندر گاہ کے خلاف بنا یا جا رہا ہے۔ بعض تجزیہ نگا روں کا کہنا ہے کہ چاہ بہار پاکستان کے گوادر بندر کے خلاف نہیں بنایا جا رہا ہے مگر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت اور ایران یہ بندر گاہ پاکستان کے خلاف بنا رہا ہے۔اگر ہم پاکستان کی جُغرافیائی حیثیت پر نظر ڈالیں تو پاکستان کا جُغرافیائی محل وقو ع انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2340 کلومیٹر سرحد ہے چین کے ساتھ پاکستان کی سرحد 596 کلومیٹر، بھارت کے ساتھ 2240 کلومیٹر ، لائن آف کنٹرول 740 کلومیٹر ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد 909 کلومیٹرہے اور پاکستان کا واخان کے راستے وسطی ایشائی ریاستوں سے بھی رابطہ ہو سکتا ہے۔پاکستان انتہائی اہم جُغرافیائی حیثیت رکھتا ہے ۔ پاکستان روس کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ یہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے گیٹ وے کا کر دار ادا کر رہا ہے ایک طرف اگر چین سی پیک اور دوسرے منصوبوں میں پاکستان میں 60 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کر رہا ہے تو دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ امارات نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کے گوادر اور سی پیک کے منصوبوں میںمزید سرمایہ کاری کرے گا۔ حال ہی میں سعودی عرب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ گوادر میں میگا آئل سٹی بنائے گا۔ باالفاظ دیگر ایسے کا رخانے بنائے گا جس میں تیل صاف کرنے اور سٹور کرنے کی بھر پور صلاحیت ہوگی۔تیل صاٖف کرنے اور سٹور کرنے کا آئل سٹی نظام 80 ہزار ایکڑ زمین پر بلو چستان کے گوادر میں تعمیر ہوگا۔ابتدائی طور پر یہاں سعودی عرب کا تیل چین کو بر آمد ہوگا۔ اس آئل سٹی کے قیام سے پہلے سعودی عرب کے تیل بیچنے پر 40دن لگتے تھے اور آئل سٹی کی تعمیر سے سعودی عرب کا تیل گوادر کے راستے 4 سے 5 دن میں پہنچے گا ۔ اگر ہم غور کریں تو پوری دنیا اور تمام ممالک کی تیل کا یومیہ استعمال 9 کروڑ 95 لاکھ بیرل ہے۔جس میں امریکہ کے تیل کا یومیہ استعمال ایک کروڑ 98 لاکھ بیرل اور دوسرے نمبر پر چین کا یومیہ تیل کا استعمال ایک کروڑ 50 لاکھ بیرل ہے۔اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو چین سالانہ 141 ارب ڈالر کا تیل 15 ممالک سے خرید رہا ہے ان ممالک میں روس، سعودی عرب، عراق، اومان، متحدہ عرب امارات، ایران ، کویت شامل ہیں جو100 ارب ڈالر کا ہے۔ ان ممالک میں ماسوائے روس کے زیادہ تر ممالک اسلامی ممالک ہیں جو پاکستان کے گوادر کے گہرے سمندر اور آئل سٹی سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔جہاں تک چاہ بہار کا تعلق ہے تو چاہ بہار بھارت کی مدد سے ایران میں بلینز روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں بھارت نے ایران کو 100 ملین ڈالر بھی دیئے اور مستقبل قریب میں مزید ڈالر دیئے جائیں گے۔ جس طرح پاکستان گوادر بندر گاہ کے ذریعے چین ، وسطی ایشائی ریاستوں، افغانستان اور روس کو ایک دوسرے کے ساتھ ملائے گا۔ اسی طرح ایران کے چاہ بہار کی تعمیر سے بھی یہ کو شش ہو گی کہ ایران، بھارت ، وسطی ایشیائی ریاستوں کو چاہ بہار کی مدد سے ملائیں اور ان ممالک کے ساتھ تجارت کریں ۔ مگر گوادر اور چاہ بہار اُس وقت زیادہ سود مند ہو ںگی جب افغانستان میں حالات ٹھیک ہوں۔ اگر افغانستان میں حالات ٹھیک نہیں ہونگے تو گوادربندرگاہ اور چاہ بہار وہ کردار ادا نہیں کرسکیں گی پاکستان کو چاہئے کہ وہ امن و امان کی بحالی پر زیادہ توجہ نہ دے اور ساتھ ساتھ افغا نستان میں امن و امان کی بحالی کے لئے جو گفت و شنید ہو رہی ہے اُنکو کامیاب کیا جائے۔ زیادہ تر تجزیہ نگا روں کی یہ رائے ہے کہ بھارت اور ایران کا چاہ بہار بندر گاہ گوادر بندر گاہ کا نعم بدل ثا بت نہیں ہو سکتا مگر بھارت بغض اور حسد کا مظاہرہ کر رہا ہے لہٰذا وہ اسکی تعمیر کی پوری کو شش کر رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بھارت ایران کو اس بندر گاہ کی تعمیر کے لئے 30ارب ڈالر دے گا۔ مگر گوادر بندرگاہ بنا نے سے پہلے اور گوادر بندرگاہ بنانے کے بعد پاکستان کو اپنی سکیورٹی پر بھر پور توجہ دینی ہوگی۔گوا در بندر کراچی سے 700 کلومیٹر اور ایران کے چاہ بہار سے 75 کلومیٹر کے فا صلے پر ہے۔گوادر چین کے شہر کا شغر سے 2000 کلومیٹر کے فا صلے پر ہے۔ چین اپنے تیل کا 60 فی صد خلیجی ممالک سے لیتا ہے اور اس تیل کو چین کے سمندری جہا زوں میں چین کے چوہائی بندرگاہ تک پہنچنے کے لئے 16000 کلومیٹر سفر طے کرنا پڑتا ہے اورجس میں کئی مہینے لگتے ہیں۔اگر ہم تجزیہ کریں تو بھارت اور ایران کو گوادر بندر گاہ بننے کا انتہائی غصہ ہے۔ ایران کو چاہیئے کہ چاہ بہار کے بجائے گوادر بندر گاہ کو استعمال کرے اس بندرگاہ سے ایران کو زیادہ فائدہ ہوگا۔ چاہ بہار بننے کے بعد بھارت کو وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کے تیل کو خریدنے میں آسانی ہوگی۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکہ کے خلاف عنقریب ایک بلاک بننے والا ہے جس میں پاکستان ، سعودی عرب، وسطی ایشیائی ریاستیں ، روس ، ترکی اور چین شامل ہوگا ، ایران کو چاہئے کہ وہ بھی گوادر بندر گاہ اور سی پیک میں شامل ہو جائے ۔ اس سے سب کو فائدہ ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں